جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کا خطاب

جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم کا خطاب


وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 72ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کی ریشہ دوانیوں کو طشت از بام کیا اور کشمیری مسلمانوں پر مقبوضہ کشمیر میں توڑے جانے والے مظالم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا جائزہ لینے کے لئے انکوائری کمیشن بھجوانے کا بھی مطالبہ کیا۔ وزیر اعظم نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کشمیریوں کی آواز دبانے کے لئے طاقت کا اندھا دھند اور بلا امتیاز استعمال کر رہا ہے۔ خواتین' بچوں اور نوجوانوں کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنا رہاہے۔ شارٹ پیلٹ گن سے بچوں سمیت ہزاروں کی تعداد میں کشمیری اپنی بینائی سے محروم یا معذور ہوچکے ہیں۔ یہ مظالم جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی اور جنگی جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ افغان صورتحال پر پاکستان کے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی جنگ کو اپنی سر زمین پر لڑنے نہیں دے گا۔ ہم کسی ایسی ناکام حکمت عملی کی توثیق نہیں کرسکتے جو پاکستان' افغانستان اور دیگر علاقائی ملکوں کے عوام کی تکالیف میں اضافہ کرے۔ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے اقدامات پر سوال نہیں اٹھایا جاسکتا۔ نائن الیون کے بعد پاکستان کی کاوشوں سے ہی القاعدہ کا خاتمہ کیاگیا۔ جہاں تک وزیر اعظم کے جنرل اسمبلی سے خطاب میں اٹھائے گئے سوالات اور حقائق سے عالمی برادری کو آگاہ کرنے کا تعلق ہے اس حوالے سے پاکستان کا موقف بالکل واضح ہے اور محولہ دونوں مسائل ایک عرصے سے دنیا کے امن کے لئے سوالیہ نشان بن رہے ہیں مگر بد قسمتی سے عالمی برادری کے لئے تشویش کا باعث بننے والے مسائل سے خود اقوام متحدہ اور اس کا ذیلی ادارہ سلامتی کونسل بعض بڑی طاقتوں کی مداخلت کی وجہ سے آنکھیں اور کان بند کرکے ان مسائل کے پر امن حل کی جانب ایک انچ آگے بڑھنے سے قاصر دکھائی دیتا ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت امریکہ اپنے مقاصد کی خاطر اقوام متحدہ کو دبائو میں لاتا رہتا ہے وگرنہ ایک وقت تھا جب دنیا میں سرد جنگ جاری تھی تو یہ امریکہ ہی تھا جو کشمیر کے مسئلے پر پاکستان کے موقف کی کھل کر حمایت کرتا تھا جبکہ اس کے مقابلے میں سابق سوویت یونین بھارت کا حامی تھا اور ہر اہم موقع پر جب مسئلہ کشمیر کے حل کی امید پیدا ہو جاتی تھی تو سلامتی کونسل میں رائے شماری کے وقت اسے ویٹو کردیتا تھا۔ لیکن اب عالمی تعلقات میں تزویراتی تبدیلیوں کی وجہ سے کشمیر کا حمایتی امریکہ ہی اپنی پوزیشن تبدیل کرکے بھارت کے پلڑے میں وزن ڈال رہا ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں اس وقت جس قسم کے مظالم بھارتی افواج روا رکھے ہوئے ہیں ان سے امریکہ ہی آنکھیں بند کرکے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر میں انسانیت کی بے حرمتی ڈھڑلے سے جاری ہے۔ کشمیر کو بھارتی چنگل سے آزادی دلانے اور استصواب رائے کا مطالبہ کرنے والوں پر وہاں کی زمین تنگ کی جا چکی ہے۔ جنیوا کنونشن کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ پیلٹ گن کے استعمال سے ہزاروں کی تعداد میں بوڑھے' جوان' خواتین اور بچے یا تو بینائی سے مکمل طو پر محروم ہوچکے ہیں یا پھر ان کی بینائی شدید متاثر ہوچکی ہے مگر امریکہ ان مظالم پر خاموش تما شائی بن چکا ہے اور اس کے دبائو کی وجہ سے عالمی ادارہ بھی منقار زیر پر ہے۔ جبکہ امریکہ بھارت کے موقف کی حمایت کر رہا ہے جو مقبوضہ کشمیر میں جدوجہد آزادی کرنے والوں کو آتنک وادی ( دہشت گرد) قرار دے کر دنیا بھر میں انہیں بد نام کر رہا ہے حالانکہ اقوام متحدہ کے اپنے چارٹر کے تحت آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کو کسی بھی صورت میں دہشت گرد نہیں ٹھہرایا جاسکتا اس لئے عالمی برادری کو کشمیریوں کی مشکلات کے بارے میں حقائق جاننے کے لئے فیکٹ فائنڈنگ مشن مقبوضہ وادی بھجوا کر آگہی حاصل کرنا ضروری ہے تاکہ بھارت کے جھوٹے پروپیگنڈے سے نقاب سرکانے میں آسانی ہو۔ تاہم جو بھارت کنٹرول لائن پر کی جانے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی اصلیت جاننے کے لئے اقوام متحدہ کے مبصر امن مشن کے ذمہ داروں کو اپنی طرف کے کنٹرول لائن کا جائزہ لینے کی اجازت نہیں دیتا وہ بھلا فیکٹ فائنڈنگ مشن کے اراکین کو کیسے اجازت دے گا کہ وہ حالات کا غیر جانبدارانہ جائزہ لے کر عالمی برادری کے سامنے اصل صورتحال رکھ دیں جس کے بعد یقینا اقوام متحدہ کو کشمیری عوام کے ساتھ کئے ہوئے وعدوں کا پاس کرتے ہوئے وہاں جلد از جلد استصواب رائے کا اہتمام کرنا پڑے گا۔ اب تو مقبوضہ وادی میں برپا کئے ہوئے مظالم پر خود بھارت کے اندر سے بھی گاہے بہ گاہے آوازیں اٹھتی رہتی ہیں اور سینئر بھارتی سیاستدان' انسانی حقوق کے علمبردار اور دانشور مقبوضہ کشمیر کو طاقت کے زور پر بھارتی قبضے کی مخالفت کرتے رہتے ہیں اور بھارت سرکار کو مشورہ دیتے رہتے ہیں کہ کشمیریوں کو ان کے حقوق لوٹا کر ہی خطے میں امن کے قیام کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ اس لئے اقوام متحدہ پر لازم آتا ہے کہ وہ کشمیری عوام کے حقوق کی حفاظت کرتے ہوئے وہاں اپنی ہی قرار دادوں پر عمل درآمد کرائے تاکہ کسی بھی وقت (خدا نخواستہ) ایٹمی جنگ کا باعث بننے والے اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کرکے دنیا میں دیر پا امن کی بنیاد رکھی جاسکے۔ اسی طرح جہاں تک افغانستان کے مسئلے کو حل کرنے کی بات ہے تو امریکہ کی خواہشات پر یہ جنگ پاکستان کی سرزمین پر منتقل کرنے کی اجازت کسی بھی صورت نہیں دی جاسکتی۔ اس وقت اتحادی افواج خصوصاً امریکی فورسز کی افغانستان کی سرزمین پر موجودگی کے باوجود طالبان نے افغان سر زمین کے غالب حصے پر تصرف حاصل کر رکھا ہے اور وہاں سے نہ صرف افغانستان بلکہ پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیاں جاری رکھی جا رہی ہیں۔ مگر نہ صرف امریکہ بلکہ افغان حکومت الٹا الزامات کا سارا ملبہ پاکستان کے سر پر ڈال رہی ہے۔ اگرچہ پاکستان کے قبائلی علاقوں کی جس طرح پاکستانی افواج نے بے پناہ جانی اور مالی قربانیاں دے کر صفائی کر ڈالی ہے وہ دنیا میں اپنی نوعیت کے اہم واقعات میں سے ہے۔ اس وقت پاکستان کی جانب سے ڈیورنڈ لائن پر حفاظتی باڑ لگائی جا رہی ہے تاکہ دہشت گردوں کے لئے سرحد کے آر پار آنے جانے اور حمل و نقل کرنے میں آسانی نہ ہو مگر اس کی مخالفت بھی افغانستان کی جانب سے کی جا رہی ہے جو حیرت کا باعث ہے۔ پاکستان نے مکمل ثبوتوں کے ساتھ امریکی عسکری حکام اور افغان حکمرانوں کو بتا دیا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے اندر تخریبی سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے مگر افغان حکمرانوں نے اس سے انکار کیا۔ کلبھوشن یادیو نیٹ ورک کے طشت از بام کئے جانے کے بعد افغان سرزمین پر قائم لا تعداد بھارتی قونصل خانوں کے منفی کردار سے بھی افغانستان کو آگاہ کیاگیا مگر چونکہ امریکہ نے خاص مقصد کے تحت افغانستان میں بھارت کو کردار ادا کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہوئی ہے اس لئے بلا جواز قائم قونصل خانوں سے بھی افغان حکمرانوں نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں اور اب امریکہ کی خواہش ہے کہ یہ جنگ جس کی وجہ سے نہ صرف خطے کا امن تباہ ہوچکا ہے پاکستان اسے اٹھا کر اپنی سر زمین پر منتقل کرے تاہم ایسا کسی بھی طور ممکن نہیں ہے۔ امریکہ افغانستان کے اندر موجود بے پناہ قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے اور اربوں ڈالر خرچ کرنے کے باوجود اس جنگ کو جیتنے میں ناکامی کے بعد یہ جنگ پاکستان منتقل کرنا چاہتا ہے مگر ایسا ہر گز ممکن نہیں۔ جبکہ طالبان کے ساتھ مذاکرات میں بھی اسے کامیابی نہیں ہو رہی ہے۔ اس لئے امریکہ کے حق میں یہی بہتر ہے کہ وہ افغانستان سے وعدے کے مطابق اپنی افواج واپس کرکے طالبان اور افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے لئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ پاکستان اس کی خواہش پر اپنے گھر میں آگ لگانے کو تیار نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں