سانحہ ماڈل ٹائون پر اٹھتے سوال

سانحہ ماڈل ٹائون پر اٹھتے سوال

لاہور ہائی کورٹ کے سنگل بنچ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ کو پبلک کرنے کے احکامات جاری ہونے کے بعد پنجاب حکومت کے اس موقف کے حوالے سے کہ یہ معاملہ چونکہ لارجر بنچ میں زیر سماعت ہے اس لئے اس کا فیصلہ آنے تک رپورٹ پبلک نہیں کی جاسکتی۔ فی الحال کسی حتمی رائے کااظہار نہیں کیاجاسکتا اور یہ معاملہ subjudice ہونے کے ناتے بھی مشکل ہے کہ کوئی رائے دی جاسکے جبکہ اس فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل بھی دائر کردی گئی ہے۔ تاہم یہ فیصلہ سامنے آنے کے بعد سیاسی سطح پر بھی شعور اٹھنا شروع ہوگیا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری نے ایک پریس کانفرنس میں ایک بار پھر مطالبہ کیا ہے کہ اگر بعض حکومتی عہدیداروں کے دعوئوں کے مطابق رپورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب اور دیگر وزراء کے خلاف کچھ بھی نہیں تو اسے پبلک نہ کرنے کاکیا جواز ہے۔ دوسری جانب لیگ(ن) کے بعض اہم رہنمائوں وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی سینیٹر مشاہد اللہ اور وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ ہرانکوائری کمیشن کی رپورٹ عام ہونی چاہئے۔ جس کے بعد حکومت پنجاب کی جانب سے محولہ رپورٹ کو منظر عام پر لانے کی راہ میں روڑے اٹکانے اور اس کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل میں جانے کی وجوہات سمجھ سے بالا تر ہیں۔ ادھر ایک خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ اور بعض اہم دستاویزات کے پر اسرار طور پر لا پتہ ہونے کی اطلاعات ہیں جس پر مزید حیرت کااظہار کیا جاسکتا ہے۔ بد قسمتی سے ہمارے ملک میں اس قسم کی حرکات عام ہیں کہ کسی بھی اہم معاملے کی تحقیقات پرمبنی رپورٹوں کے بارے میں یا تو گمشدگی کی خبریں آجاتی ہیں یا پھر اس قسم کی انکوائریوں کی دستاویزات کو آگ لگانے کے واقعات سامنے آجاتے ہیں تاکہ اصل حقائق پر پردہ پڑا رہے۔ اگر محولہ واقعے کی رپورٹ اور منسلکہ اہم دستاویزات کی گمشدگی کی اطلاعات واقعی درست ہیں تو اس کا اعلیٰ سطح پر نوٹس لینے کی اشد ضرورت ہے اور اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت اقدامات کی بھی ضرورت ہے کیونکہ محولہ واقعے میں کئی گھرانوں کے افراد جان سے گئے اور لواحقین کی زندگی مشکلات سے دو چارہوچکی ہے۔ انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ضروری اقدامات اٹھانے میں سپریم کورٹ بھی اپنا کردار ادا کرسکتی ہے اس لئے عوام کی نظریں یقینا سپریم کورٹ پر مرکوز رہیں گی۔

متعلقہ خبریں