فردِ واحد کے لیے قانون سازی

فردِ واحد کے لیے قانون سازی

اخبارات تقریباً سب کے سب یہ کہہ رہے ہیں کہ جمعہ کے روز سینیٹ میں 37کے مقابلے میں 38ووٹ کی اکثریت سے جو بل منظور ہو ا ہے اس کے ذریعے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے مسلم لیگ ن کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔ انتخابی اصلاحات کا جو بل سینیٹ سے منظور ہو ا اگر وہ دوبارہ قومی اسمبلی میں جانے کے بعد قانون بن جاتاہے تو ہر وہ شخص جو ممبر قومی اسمبلی بننے کی اہلیت سے عاری ہے یا جسے آئین کی دفعہ 62،63کے تحت عوامی عہدوں کے لیے نااہل قرار دیا گیا ہو سیاسی پارٹی کا عہدیدار یا سربراہ بھی ہو سکتا ہے ۔ حکمران مسلم لیگ جس نے یہ قانون منظور کرایا ہے چنددن پہلے تک قائل تھی کہ جو شخص رکن قومی اسمبلی ہونے کا اہل نہیں ہے یا جسے آئین کی دفعہ 62، 63کے تحت نااہل قرار دیا گیا ہو اسے سیاسی پارٹی کا سربراہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسی بنا پر میاں نواز شریف کی جگہ یعقوب ناصر کو پارٹی کا قائم مقام صدر بنایا گیا اور خبریں آئیں کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور میاں نواز شریف کے بھائی میاں شہباز شریف کا نام پارٹی کے صدر کے لیے تجویز کیا جا رہا ہے۔ لیکن حکمران مسلم لیگ نے نہایت چابکدستی سے انتخابی اصلاحات کے بل میں فردِ واحد نواز شریف کے لیے یہ گنجائش نکال لی کہ انہیں پارٹی کا صدر بنایا جا سکتا ہے۔ یعنی یہ قانون سازی فردِ واحد کے لیے کی گئی۔ حکمران پارٹی کے خواجہ سعد رفیق کہتے ہیں کہ یہ قانون سازی فردِ واحد کے لیے نہیں کی گئی بلکہ دیگر پارٹیاں بھی اس سے استفادہ کر سکتی ہیں۔ حکمران مسلم لیگ کے رویے سے تو ظاہر ہے کہ اس کی تنظیم' نقطۂ نظر' پروگرام' منشور اس کی پالیسی اور اس کی سیاست سب کچھ اس کے نام کے ساتھ ن کے لاحقے پر منحصر ہے۔ یعنی مسلم لیگ کے ساتھ ن نہ ہو تو کچھ باقی نہیں رہتا۔ لیکن خواجہ سعد رفیق کے بیان کی روشنی میں دیگر پارٹیوں کو اس قانون سازی سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے؟ یہ تب ہی ہو سکتا ہے جب حکمران مسلم لیگ کی طرح دیگر پارٹیاں بھی فرد ِ واحد پر منحصر پارٹیاں ہوں ۔اگرچہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے اس بل کی منظوری پر سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اورکہا ہے کہ نواز شریف کا مردہ کیریئر دوبارہ شروع کرانے کے لیے انتخابی اصلاحات کی آڑ میں اخلاقیات کا جنازہ نکال دیا گیا ہے۔ لیکن اس سوال کے بارے میں جو آج خبروں میں دلچسپی رکھنے والے سبھی لوگوں کے ذہنوں میں گردش کر رہا ہے ، عمران خان نے کچھ نہیں کہا کہ جب سینیٹ میں یہ بل پیش کیا جا رہا تھا اور پیپلزپارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن اس میں ترمیم پیش کر رہے تھے توتحریک انصاف کے سات سینیٹر ایوان سے غیر حاضر کیوں ہو گئے تھے۔ پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزازاحسن اس بل میں جو ترمیم پیش کر رہے تھے اس کے مطابق جو شخص قومی اسمبلی کا رکن نہیں بن سکتا وہ کسی سیاسی پارٹی کا سربراہ بھی نہیں بن سکتا وہ صرف ایک ووٹ سے رہ گئی۔ اگر پی ٹی آئی کے سات سینیٹر ایوان میں موجود ہوتے اور وہ اس ترمیم کے حق میں ووٹ دیتے تو یہ بل اس صورت میں منظور نہ ہو سکتا۔ کیا کہیں پی ٹی آئی والوں کے ذہنوں میں بھی یہ خوف جاگزیں ہے کہ کل اگر عمران خان بنی گالا کی جائیداد کے حوالے سے عدالت کے اطمینان کے مطابق منی ٹریل بتانے میں ناکام ہوتے ہیں او ر نااہل ہو جاتے ہیں تو تحریک انصاف کا کیا بنے گا؟ جس میں ہر طرف عمران خان کا نام گونجتا ہے اور کرپشن کے خلاف ان کی مہم کا۔ یہ تاثر عام ہے کہ تحریک کو مجتمع رکھنے والی قوت محض عمران خان کی شخصیت ہے۔ فردِ واحد کے لیے جو قانون سازی کی گئی اس میں ایم کیو ایم نے بھی حکمران لیگ کا ساتھ دیا ہے۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے تک ایم کیو ایم الطاف حسین کے نام کا حصہ تھی۔ الطاف حسین پر بھی نہایت سنگین الزامات ہیں۔ ''ایم کیو ایم نے الطاف حسین سے مکمل لاتعلقی'' کا اعلان کر دیا ہے۔ الطاف حسین کی ایم کیو ایم کے ایک دھڑے نے الطاف حسین سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے اپنے آپ کو پاک سرزمین پارٹی کے طور پر متعارف کرایا ہے۔ یہ دونوں پارٹیاں کہہ رہی ہیں کہ ان کے ان لوگوں کو جن پر سنگین الزامات ہیں عام معافی دے دی جائے تاکہ یہ لوگ قومی دھارے میں آ سکیں۔کہیں ان کو بھی تو یہ آس نہیں کہ عام معافی ہو جائے گی اور اس کا دائرہ لندن تک وسیع ہو جائے گا اور ایک بار پھر آملیں گے سینہ چاکان چمن سے سینہ چاک۔ سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی کا یہ بیان شائع ہوا ہے کہ سینیٹ میں ن لیگ نے انتخابی اصلاحات کا جو بل منظور کرایا ہے وہ اس کے حامی نہیں۔ تو پھر ان کی خدمت میں عرض کیا جا سکتا ہے کہ وہ اس ترمیم کی منظوری کے دوران اجلاس چھوڑ کر کیوں چلے گئے تھے؟ سوال یہ ہے کہ فردِ واحد کے گردگھومنے والی پارٹیوں کے نزدیک پارٹی کی سربرا ہی کیوں اتنی عزیز ہے کہ وزارت عظمیٰ سے علیحدگی منظور لیکن پارٹی کی سربراہی عزیز تر ۔ چیئرمین رضا ربانی کو یاد ہو کہ نہ یاد ہو یہ انہی کی تصنیف کردہ آئین میں اٹھارھویں ترمیم کا ثمر ہے جس کے مطابق پارٹی کا سربراہ خواہ خود ایوان کا منتخب رکن ہو خواہ نہ ہو وہ پارٹی کے کسی بھی رکن کو اس بنا پر ایوان کی رکنیت سے محروم کروا سکتا ہے کہ وہ منتخب رکن پارٹی لائن سے انحراف کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اس ترمیم نے سیاسی پارٹیوں میں جمہوریت کا خاتمہ کرکے سیاسی پارٹیوں کو فرد واحد یعنی سربراہ کا تابع فرمان گروہ بنا دیا ہے۔ اٹھارھویں ترمیم ہارس ٹریڈنگ کو ختم کرنے کے لیے متعارف کرائی گئی تھی۔ اب اسمبلی میں کسی خاص موضوع پر ووٹنگ سے پہلے ارکان اسمبلی کو چھانگا مانگا ، ریسٹ ہاؤس یا مری اور نتھیا گلی کے ہوٹلوں میں محدود نہیں رکھا جاتا بلکہ پارٹی لیڈر سے معاملہ کرنا آسان ہو گیا ہے۔ یہ قانون تو کیا پتہ کل منظور ہو جائے لیکن یہ سوال اہم ہونا چاہیے کہ آیا پارٹیوں کے ارکان اسمبلی اور عہدیدار اور کارکن اس بات پر فخر کر سکیں گے کہ ان کا پارٹی لیڈر کسی غیر آئینی حرکت کی وجہ سے عوامی عہدہ کے لیے نااہل قرار پا چکا ہے ۔ اس ضمن میں اور سیاسی پارٹیوں کے قانون کے حوالے سے اور بھی بہت سے سوال ہیں جن پر بات آئندہ کسی نشست میں ہوگی۔

متعلقہ خبریں