بے نظیر بھٹو کا قتل اور جناب مشرف کے ڈھکوسلے

بے نظیر بھٹو کا قتل اور جناب مشرف کے ڈھکوسلے


سابق فوجی آمر جنرل پرویز مشرف فرماتے ہیں '' بے نظیر بھٹو کو آصف علی زرداری نے بیت اللہ محسود اور سابق افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ مل کر قتل کروایا۔ زرداری ہی مرتضیٰ بھٹو کے قاتل ہیں''۔ مشرف کہتے ہیں کہ بھٹو خاندان کے قتل کا فائدہ زرداری کو ہوا' بے نظیر بھٹو کی بم پروف گاڑی کی چھت کٹوا کر عام مکینک سے کھڑکی کیوں بنوائی گئی۔ محترمہ کو کس نے فون کیا کہ گاڑی سے سر باہر نکالیں۔ خالد شہنشاہ اور رحمن ملک کو کس نے سیکورٹی انچارج بنایا ان کا تجربہ کیا تھا۔ ناہید خان' صفدر عباسی اور مخدوم امین فہیم گاڑی میں تھے انہیں کیوں نہیں بتایاگیا؟ آگے بڑھنے سے قبل حضرت پرویز مشرف کی اس منطق کی بنیاد پر کیا ہم یہ مان لیں کہ ''خود مشرف پر ہونے والے قاتلانہ حملے بیگم صہبا مشرف نے کروائے تھے کیونکہ وہ ان کی بعض مصروفیا ت سے نالاں تھیں؟'' سوال یہ بھی ہے کہ 10برس وہ خاموش کیوں رہے۔ بے نظیر بھٹو کے سفاکانہ قتل کے وقت وہ اس ملک کے صدر تھے' طاقتور ترین صدر اور اگلے آٹھ ماہ تک اس منصب پر فائز رہے۔ انہوں نے کیوں نہ اس راز سے پردہ اٹھایا۔ حکومت نے اس قتل کی جو ایف آئی آر درج کروائی تھی اس میں زرداری کا نام شامل کیوں نہ کیا گیا۔ یہ سوال بھی ہے کہ اس وقت کے سیکرٹری داخلہ نے ڈاکٹرز کو بے نظیر بھٹو کا پوسٹ مارٹم کرنے سے منع کیوں کیا؟ وزارت داخلہ کے ایک ترجمان بریگیڈئیر جاوید اقبال چیمہ نے کیوں کہا کہ ہمیں لیاقت باغ میں سٹیج کے عقبی حصے سے ایک غیر ملکی کی لاش ملی ہے۔ یہ اعتراف انہوں نے 27 اور 28 دسمبر کی درمیانی رات میں اپنی پریس کانفرنس میں کیا۔ اگلی صبح ان کی ایوان صدر طلبی ہوئی اور گوشمالی پھر سہ پہر3 بجے 28دسمبر کو اپنی پریس کانفرنس میں وہ پچھلے بیان سے مکر گئے۔یہی نہیں بلکہ ریاست کے ایک ذمہ دار ادارے نے چیمہ کی پچھلی رات والی پریس کانفرنس کور کرنے والوں پر دبائو ڈالا کہ ان کی بات کو آگے نہ بڑھایا جائے۔
اصولی طور پر محترمہ کا پرویز مشرف کو لکھا گیا خط اور پھر مارک سیگل کو بھیجی گئی ای میل ہر دو کو ایف آئی آر کا حصہ ہونا چاہئے تھا۔ دونوں کی اہمیت نزعی بیان سی ہے اور اس پر قانون دانوں کی اکثریت کو اتفاق بھی۔ کیوں پرویز مشرف نے آزاد عدالتی تحقیقاتی کمیشن قائم نہ کروایا۔ کیا مشرف اس امر سے لا علم ہیں کہ جس شام محترمہ بے نظیر بھٹو قتل ہوئیں اسی صبح افغان صدر( اس وقت کے) حامد کرزئی نے ان سے ملاقات کی اور بتایا کہ ان کے قتل کی سازش تیار ہوچکی ہے۔ انہیں خطرہ ہے کہ قاتل آج کل میں ان پر وار کرنے والے ہیں اس لئے وہ آج سہ پہر لیاقت باغ کا جلسہ منسوخ کردیں یا پھر خود اس جلسہ میں نہ جائیں۔ ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرلیں؟ محترمہ کے سوال کے جواب میں حامد کرزئی نے کہا '' انہیں پاکستان لانے والے ان کے خون کے پیاسے ہیں' بڑی طاقتیں بھی اس سازش کا حصہ ہیں۔ آج دس سال بعد پرویز مشرف کے ضمیر نے انگڑائی لی اور وہ پھٹ پڑے۔ اس خود کش حملے کی وجہ یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی اکثریت کے ساتھ عام لوگ بھی مشرف کو بی بی کے قتل کی سازش کا حصہ دار سمجھتے ہیں۔ یہ مشرف ہی تھے جنہوں نے محترمہ بے نظیر بھٹو سے کہا تھا ان کی پاکستان واپسی پر انہیں سیکورٹی نہیں دی جاسکتی۔ کیوں کیا پاکستانی ریاست کوچہ قاضیاں دہلی کے بدلے میں الاٹ ہوئی تھی؟ مکرر عرض کئے دیتا ہوں کہ مشرف کے تازہ دعوے سچے ہیں تو انہوں نے جب جائے حادثہ کو کلیئر کروانے کے لئے سی پی او سید سعود عزیز کو حکم دیا تو ساتھ ہی یہ حکم بھی دیتے کہ ایف آئی آر میں زرداری کا نام شامل کیا جائے۔ پچھلے چند سالوں کے دوران ان کالموں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش' سازش کے کردا روں اور قتل سے فائدہ اٹھانے والوں کی خوا ہشا ت بارے تفصیل کے ساتھ عرض کرتا چلا آرہا ہوں۔ جون میں محترمہ کی سالگرہ کی مناسبت سے اور پھر مقدمہ قتل کے فیصلے کے بعد لکھے گئے کالم میں بھی چند معروضات عرض کی تھیں۔ مختصراً یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش میں ملوث مقامی و عالمی قوتوں کے پیش نظر یہ بات تھی کہ پاکستان کی مقبول ترین عوامی قیادت کو راستے سے ہٹا دیا جائے تو مستقبل میں پاکستان کو دبائو میں رکھ کر من پسند فیصلوں کو ماننے پر مجبور کیا جاسکتاہے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کے بعد کے حالات کا تجزیہ کرلیجئے کہ عالمی سیاست کا ادراک رکھنے والی شخصیت سے محرومی کا نتیجہ کیا نکلا۔ ثانیاً یہ کہ محترمہ کے قتل میں تحریک طالبان ملوث نہیں تھی چند لوگوں کو انفرادی طور پر ہائر کیاگیا کس نے کیا یہ راز ہر گز نہیں جس نوجوان اعزاز شاہ کو بے نظیر بھٹو قتل کیس میں مرکزی ملزم کے طور پر پیش کیاگیا وہ جولائی سے ستمبر2007ء کے درمیان سوات سے گرفتار ہوا تھا اور کہا گیا کہ اعزاز شاہ نے اس وقت کے وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد شیر پائو پر حملہ کرنا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اعزاز شاہ کو محترمہ کے مقدمہ قتل میں کس کے کہنے پر ملزم قرار دیاگیا؟ ہماری سیاست اور نظام حکومت کے لچھن عجیب ہیں کوئی کل سیدھی نہیں۔ سازشی عناصر ابہام پیدا کرکے حقائق پر مٹی ڈالو پروگرام پر عمل پیرا ہیں۔ جناب مشرف کا مسئلہ یہی ہے ان کی ساری بہادری اور فطانت وردی میں ہی تھی۔ جو شخص اپنے نائب اور افتخار چودھری کے درمیان اپنے ہی گھر میں طے پانے والے معاملے کو نہ جان سمجھ سکے وہ دس سال بعد دعویٰ کرے کہ زرداری نے بے نظیر کوقتل کروایا کیونٰکہ فائدہ اسے ہوا۔ اس اصول کو مان لیا جائے تو انسانی تاریخ کے سارے مقتولین کے قاتل ان کے ورثاء قرار پائیں گے ۔

متعلقہ خبریں