خوش کن خبروں کو ترستی کنٹرول لائن

خوش کن خبروں کو ترستی کنٹرول لائن

پاک بھارت کشیدہ ماحول میںکشمیر کو تقسیم کرنے والی کنٹرول لائن بیک وقت کئی خبروں کا موضوع بنی ہوئی ہے ۔المیہ یہ ہے کہ ان میں کوئی خبر خوش کن نہیں۔پہلی خبر یہ ہے کہ آزادکشمیر حکومت نے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کی صدارت میں منعقد ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کنٹرول لائن کی صورت حال کا مقابلہ کرنے کے لئے کئی فیصلے کئے ہیں ۔جن میں شہدا اور زخمیوں کے معاوضے میں اضافہ ،شہداء کی سرکاری اعزاز کے ساتھ تدفین،کنٹرول لائن کے قریب تعلیمی اداروں میں تدریسی عمل کویقینی بنانا،رورل ہیلتھ سینٹرز پر عملہ کی ہمہ وقت موجودگی اور ان سینٹرز کو ایمبولینسز کی فراہمی،محکمہ صحت اور دوسرے محکموں کی انتظامیہ اور عوامی نمائندوں سے رابطوں کو بڑھانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔کنٹرول لائن سے جڑی دوسری خبرراولاکوٹ حویلی سیکٹرمیں بھارتی فوج کی بلااشتعال فائرنگ کے باعث عوام کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور محفوظ علاقوں کی جانب منتقلی ہے جبکہ تیسری اہم خبر یہ ہے کہ بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا فوج کو مجاہدین کے تعاقب میں کنٹرول لائن عبور کرنے کی اجازت ہے ۔کنٹرول لائن کے ساتھ براہ راست جڑی ہوئی ان خبروں کے ساتھ ہی بھارتی وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ کا یہ بیان سامنے آیا ہے کہ سرحد پار دراندازی ختم کئے بغیر پاکستان کے ساتھ مذاکرات بے معنی ہوں گے ۔کچھ دن پہلے بھارت کے ایک جرنیل نے کہا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر ہونے کا کوئی امکان نہیں کیونکہ پاکستان کی حکمران کلاس ،سیاست دان ،فوج اور عوام میں یہ تاثر نیچے تک سرایت کررہا ہے کہ بھارت اسے نقصان پہنچانے اور توڑنے کی کوشش کر رہا ہے ۔یہ وہ حالات ہیں جن میں کنٹرول لائن کی سٹریٹجک اہمیت دوچند ہورہی ہے ۔بھارت ایک منظم منصوبے کے تحت کنٹرول لائن کو گرم رکھے ہوئے ہے ۔بھارت کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں کہ اربوں روپے کی لاگت سے بھارت نے جدید ترین آلات اور حساس نظام کی حامل طویل باڑھ اس دعوے کے ساتھ لگائی تھی کہ اس کے بعد آمدورفت کا سلسلہ کلی طور پر ختم ہوجائے گا اس پرت در پرت باڑھ کی موجودگی میں اب دراندازی کیسے ہو رہی ہے؟بھارت بین الاقوامی سرحد پر بوجوہ وہ کھیل نہیں کھیل سکتا جو کنٹرول لائن پر جاری رکھا جا سکتا ہے۔ایک متنازعہ علاقہ ہونے کی وجہ سے بھارت اس علاقے پر اپنا حق جتلاتا ہے جبکہ پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں اور معاہدہ کراچی کے تحت اس علاقے کا بھرپور جغرافیائی دفاع کرنے کا پابند ہے ۔اس طرح کنٹرول لائن پر دو طرفہ مسلح تصادم اور جنگ کا نقطہ آغاز بننے کے اسباب ہمہ وقت موجود رہتے ہیں۔بھارت کی سازشوں اور منصوبوں کی بات اپنی جگہ مگر کنٹرول لائن پر چوکس اور بیدار رہنے کی ضرورت ہے ۔جنگیں صرف فوجی ساز وسامان سے نہیں لڑی جا سکتیں ۔جنگوں میں مقامی آبادی کا تعاون بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے ۔مقامی آبادی سے تعاون کا مناسب طریقہ یہی ہوتا ہے کہ ان کو مسائل کا شکار نہ ہونے دیا جائے۔اس لئے وفاقی اور آزادکشمیر دونوں حکومتوں کو کنٹرول لائن کے عوام جو ملک کے دفاع میں سیکنڈ ڈیفنس لائن کا کردار ادا کرتے ہیں،کے مسائل اور مطالبات کو کسی تاخیر کے بغیر حل کیا جائے ۔کنٹرول لائن کے حوالے سے ناخوش گوار خبروں کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ مظفر آبا د سے سری نگر جانے والے ایک اور ٹرک سے منشیات کی بہت بڑی کھیپ ضبط کر نے کا واقعہ سامنے آیا ۔51,700 کلوگرام ہیروئن کے 352پیکٹ کارپٹ کے رول میں چھپائے گئے تھے۔اس ہیروئن کی مالیت کروڑوں روپے بیان کی جاتی ہے ۔ یہ توخیریت گزری کہ منشیات کی یہ کھیپ کنٹرول لائن عبور کرنے سے پہلے ہی نظروں میں آگئی وگرنہ ڈرائیور کی صورت میں آزادکشمیر کے ایک اور شہری کا مقدر سری نگر کی سینٹرل جیل ٹھہر جاتی ایک اور گھر کی خوشیاں ماند پڑ جاتیں اور معصوم بچوں کا مقدر انتظار ہو کر رہ جا تا ۔ اس واقعہ میں کنٹرول لائن عبور کرنے سے پہلے ہی ٹرک سے منشیات ضبط کر لی گئی جس کے نتیجے میں آزادکشمیر کا ایک شہری عتاب کا شکار ہونے سے بچ گیا ۔سری نگر مظفر آبادتجارت ماضی قریب میں امریکہ کے دبائو پر شروع ہونے والی ٹریک ٹو ڈپلومیسی کی آخری نشانیوں میں سے ایک ہے ۔اس ڈپلومیسی کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت وقت اور کشیدگی کی دھند میں کھو چکی ہے اور امن عمل کو ریورس گئیرلگ چکا ہے ۔اب امریکی دبائو کے نتیجے میں چل پڑنے والی امن گاڑی پیچھے کی طرف دوڑ رہی ہے ۔کنٹرول لائن پر تجارت اور آمدورفت بھی خطرات کے سایوں تلے جاری ہے ۔سری نگر مظفر آباد بس سروس کی افادیت تو خاصی حد تک موجود ہے کہ یہ منقسم خاندانوں کو ملانے کا واحد آسان اور سستا ذریعہ ہے مگر تجارتی عمل اس لحاظ سے بے معنی اور'' شوقِ فضول'' ہو کر رہ گیا ہے کہ کشمیری تاجروں کے پردے میں لاہور اور دہلی کا تجارتی مافیا کھیل کھیل رہا ہے اور وہی اس تجارت کو کنٹرول کر رہا ہے۔اس تجارت کا دائرہ پھیلنے اور بڑھنے کے نتیجے میں منشیات کے عالمی سوداگر بھی اپنا اُلو سیدھا کرنے یہاں پہنچ گئے ہیں ۔منشیات کے ان کیسز کے ڈانڈے کئی جنوب مشرقی ایشیائی ملکوں سے جا ملتے ہیں ۔ منشیات کی ہرکھیپ کی حتمی منزل بھی بھارت نہیں بلکہ اس سے آگے کی کوئی دنیا ہوتی ہے ۔اس کھیل میں منشیات فروش مافیا کا تو کچھ بھی نہیں بگڑتا مگر آزادکشمیر او رپاکستان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچتاہے ۔اس لئے سری نگر مظفر آباد مال بردار ٹرکوں کی چیکنگ اور سکیننگ کے نظام کو جس قدر ممکن ہو سخت بنانا چاہئے اور اس جرم کے مرتکبین کو کڑی سزا دینی چاہئے کیونکہ یہ عمل ہماری قومی ساکھ اور عزت کی قیمت پر جاری ہے۔

متعلقہ خبریں