انصاف میں تاخیر نا انصافی کے مترادف

انصاف میں تاخیر نا انصافی کے مترادف

حضرت عمر کا فرمان ہے کہ اگر دریائے فرات کے کنارے کتا بھی بھوک سے مرجائے تواس کا ذمہ دار عمر ہوگا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا فرمان ہے کہ کوئی بھی ریاست کفر سے چل سکتی ہے مگر انصاف کے بغیر نہیں چل سکتی۔ ارسطو کا کہنا ہے کہ قانون سے نہ کوئی بالا تر ہے اور نہ کوئی کم تر۔ار سطو مزید کہتے ہیں کہ بے انصافی ہمیشہ انصاف کے لئے خطرہ ہوتا ہے۔ مزید کہتے ہیں کہ ایک مستحکم ریاست وہ ہوتی ہے جس میں تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہوں۔مگر بد قسمتی یہ ہے کہ وطن عزیز میں انصاف کی فراہمی میں امیر اور اشرافیہ سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اور یہی انصاف کا دوہرا معیار ہے ۔ غریب کے لئے انصاف کا پیمانہ ایک ہے اور امیر کے لئے عدل اور انصاف کا پیمانہ دوسرا ہے۔اگر ہم اس فقرے کومزید سہل اور آسان کر دیں تو پاکستان میں انصاف ہمیشہ بڑوں کے ہا تھ میں ہوتا ہے۔ اور چھوٹے ہمیشہ قانون کی چکی میں رُل جاتے ہیں۔اس وقت پاکستان کی دو بڑی سیاسی پا رٹیاں ہیں ایک پاکستان مسلم لیگ (ن) اور دوسری پا رٹی پاکستان پیپلز پا رٹی ہے ۔ ملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو احمد رضا خان قصوری قتل کیس میں پھانسی کی سزادی گئی ۔جب ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کی کو ٹھری میں تھے تو انہوں نے وہاں سے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو ایک خط لکھا جس میں صاف اور وا شگاف الفاظ میں لکھا تھاکہ اللہ گواہ ہے میں نے کسی کا قتل نہیں کیا اور نہ کسی کوحکم دیا کہ فلاں شخص کو قتل کیاجائے۔ مزید لکھتے ہیں کہ جس قتل کیس میں ،میں موت کی کو ٹھری میں ہوں اور میرے ساتھ جو بد تمیزی کی جاتی ہے اور جومیں بر داشت کر رہا ہوںوہ انتہائی کرب ناک ہے۔ اس یاکسی اور قتل کیس سے میرا دور کا واسطہ نہیں۔ جیل میں اس انسانیت سوز رویئے سے بہتر ہے کہ میں مو ت کو سینے سے لگائوں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اپنی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو کو مزید اس خط میں لکھا تھا مُجھے مو ت سے کوئی ڈر نہیں میں مو ت کو ذلت کی زندگی پر تر جیح دیتا ہوں۔ مزید لکھتے ہیں کہ میں نے پاکستان کو زمین سے آسمان تک پہنچایا ۔ دن رات وطن عزیز کے انفرا سٹرکچر اور نیوکلیئر پروگرام کے لئے ایک کیا ۔ مگر افسوس صد افسوس تاریخ کا وہ باب 1979 میں ہمیشہ کے لئے بند ہوگیا اورملک کے پہلے منتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو تختہ دار پر لٹکا دیاگیا۔ انکی میت کو گڑھی خدا بخش میں سپر د خاک کیا گیا۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کیس میں پہلے یعنی ابتدائی نتیجہ 3، 3 جج سے برابر رہا اور پھر چیف جسٹس نے اپناووٹ یا رائے ان کیخلاف استعمال کر کے بھٹو پھانسی کیس میں اہم کر دار ادا کیا۔ما ضی قریب میں بھی ملک کے مُنتخب وزیر اعظم سید یو سف رضا گیلانی اور راجہ پر ویز اشرف کو ایک کیس میں اپنے اپنے عہدوں سے بر طر ف کیا گیا تھا۔جبکہ اسکے بر عکس اگر ہم نواز شریف کے کیس پر نظر ڈالیں تو نواز شریف کو سپریم کورٹ کے فُل بنچ جو پا نچ ججوں پر مشتمل تھا نے ان کے خلاف فیصلہ دیا اور کہا کہ نواز شریف کو فی الفور اپنے عہدے سے ہٹایا جائے ، کابینہ کو ختم کر کے نئی کابینہ تشکیل کرنی چاہئے مگر بد قسمتی سے اسکے با وجود بھی اتنا عر صہ گزرنے کے بعد نہ ان کو کرپشن اور منی لانڈرنگ کیس میں کوئی سزا ہوئی اورنہ کچھ کہا گیا بلکہ اب تک وہ وزیر اعظم کا پروٹو کول لے رہے ہیں۔اگر ہم پاکستان عوامی تحریک اور ما ڈل ٹائون کے14 شہداء اور 19 کارکن زخمیوں کا کیس لیں جس میں پولیس نے ،منہاج ا لقرآن کے مر د و خواتین کارکن شہید کئے تھے اور 19 کارکن زخمی بھی ہوئے تھے ۔ کیس وزیر اعظم نواز شریف اور انکے بھائی شہباز شریف اور دوسرے 21 افراد کیخلاف سیکشن 419، 234، 302 اور 109 کے تحت درج کیا گیا۔ اسکے لئے جسٹس با قر نجفی کی سربراہی میں ایک رُکنی کمیشن بھی بنایا گیا اور نجفی رپو رٹ اس سانحے میں ملوث میں ان اہم لوگوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔مگر مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ نہ تو ان کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا اور نہ ان سر کاری اہل کاروں کے خلاف کوئی ایکشن لیا گیا جو اس واقعے میں براہ راست ملوث تھے۔انگریزی کا ایک محا ورہ ہے Justic Delayed justice deniedانصاف کی راہ میں رکا وٹ انصاف سے انکار ہے ۔اسکا مطلب یہ ہے کہ ہم انصاف سے انکا ری ہیں۔ اگر ہم حالات اور واقعات پر مزید نظر ڈالیں تو اس وقت ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں قیدی معمولی نوعیت کے جرائم میں جیلوں میں انتہائی کرب ناک زندگی گزار نے پر مجبور ہیں۔ نہ اُنکے پاس وکیل کے لئے پیسے ہیں اور نہ قانونی مشورے اور کو نسلنگ کے لئے۔ یہ حالات کسی مخصوص صوبے یا علاقے تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کے چاروں صوبوں بشمول فاٹا ا ور دوسرے دور دراز علاقوں میں عام لوگ ان حالات کا سا منا کر رہے ہیں۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انصاف سب کے لئے ایک ہونا چاہئے تاکہ عام لوگوں کا حکومت اور ریاست پر اعتماد ہو۔ جب تک اس ملک میں انصاف اور عدل کا دہرا معیار ہوگا کسی کو اس ملک کے حکمرانوں اور ریاستی اداروں پر یقین نہیں ہوگا۔

متعلقہ خبریں