تعلیمی ادارے اور منشیات' لمحہ فکریہ

تعلیمی ادارے اور منشیات' لمحہ فکریہ

انسانی تاریخ میں مختلف اقوام کے ہاں اس بات کا ذکر موجود ہے کہ مختلف ادوار میں نشے کا استعمال ضرور رہا ہے۔ اہرام مصر کی تعمیر میںجو لوگ دن رات سخت مشقت کا کام کرتے تھے ان کی خوراک میں بعض ایسی اشیاء شامل رہی ہیں جن میں ہلکے پھلکے نشے کے اثرات ہوتے تھے۔ آج کی جدید کیمیکل اثرات کی حامل منشیات سے قبل دنیا میں افیون (Opium) کا استعمال کثرت سے کیا جاتا تھا۔ چینی قوم تو اس قدر افیونی بن چکی تھی کہ کام کے نہیںرہی تھی۔ برطانیہ کی بر صغیر پر حکومت کے دوران اہل چین کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت افیون مختلف ذرائع سے پہنچتی تھی۔ عربوں کے ہاں شراب اتنی عام تھی کہ گھروں میں مٹکے بھرے رہتے تھے۔ عربوں کی سماجی اور معاشرتی بگاڑ وفساد میں شراب نوشی کا بنیادی کردار تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت ہوئی تو کئی سال تک اس حوالے سے کوئی حکم نہ آیا۔ لیکن اسلام کی عبادات و عقائد اور معاملات کے پیش نظر کئی اہل بصیرت نے پوچھاکہ شراب کی کیا حقیقت ہے اور اسلام اس بارے میں کیا کہتا ہے۔ اس دوران بتدریج منشیات کے بارے میں حوالے آتے رہے۔ مثلاً یہ کہ ''جب تم نشے میں ہو تو نماز کے قریب نہ جائو'' اور پھر وہ لمحہ آن پہنچا کہ اللہ تعالیٰ نے خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پیرو کاروں کے لئے شراب نوشی حرام ٹھہرائی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین مبارک الفاظ پر مشتمل تعلیم جاری فرمائی '' کل مسکر حرام'' ''ہر نشہ آور چیز حرام ہے'' اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان تعلیمات مبارکہ نے نبوی معاشرے پر جو اثرات مرتب کئے اس کے نتیجے میں شراب کے بھرے مٹکے گلیوں میں انڈیل کر بہنے لگے اور یوں مسلمانوں کے ہاں منشیات ہمیشہ کے لئے حرام قرار دی گئیں اور الحمدللہ کہ ساری دنیا کی مختلف اقوام کے مقابلے میں منشیات کا سب سے کم استعمال مسلمانوں کے ہاں ہوتا ہے اور اس میں اسلامی تعلیمات کا بہت بڑا کردار ہے۔ قیام پاکستان کے بعد وقت گزرتا گیا تو تبلیغی جماعت اور دیگر مذہبی جماعتوں کی مساعی اور دعوت کے نتیجے میں دینی سرگرمیوں اور نماز' روزہ اور حج کی عبادات میں روز افزوں اضافہ ہوا لیکن ایوب خان کے دور میں تب کے صوبہ سرحد کے دارالحکومت میں پشاور کے قصہ خوانی بازار کے ہوٹل مغربی ہپیوں سے بھر گئے تھے اور پھر جنرل ضیاء الحق کے دور میں افغان جہاد کے نتیجے میں ایک اور فضا پیدا ہوئی۔ روس کے افغانستان سے نکل جانے کے بعد افغانستان کے وارلارڈز نے خلا سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے منشیات کے ذریعے کمائی کی اتنی تیز مہم چلائی کہ پاکستان کے سارے علاقے بالعموم اور پختونخوا بالعموم بری طرح متاثر ہوئے۔ یہ بات آج عام طور پر کہی جاتی ہے کہ روس کے افغانستان پر حملہ کے نتیجے میں پاکستان میں منشیات اور کلاشنکوف کلچر عام ہوا۔ اب ایک ایسا وقت آیا ہے کہ ہمارے دیہاتوں اور شہروں میں پڑھے لکھے نوجوان اس لت میں بری طرح مبتلا ہو چکے ہیں۔ پختونخوا کے تقریباً ہر گائوں میں ایک مافیا کا کردار ادا کرتے ہوئے منشیات بالخصوص چرس فراہم کرکے اپنا '' روز گار'' قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ شہروں کے بڑے بڑے تعلیمی اداروں' جامعات اور کالجوں کے طلبہ و طالبات میں جدید طرز کے منشیات آئس' شیشہ' چرس اور شراب فیشن اور امارت کے اظہار کے طور پر اپنا رہے ہیں اور پھر اس کے عادی ہو کر بربادی کی راہ پر چل نکلتے ہیں۔ اس وقت ہمارے پبلک سیکٹر کے تعلیمی اداروں کے ہاسٹلوں میں چرس کا نشہ ایک عام سی چیز ہو چلی ہے۔ پچھلے دنوں اینٹی نارکوٹیکس فورس کے ڈی جی میجر جنرل نے تعلیمی اداروں سے منشیات کے خاتمے کے حوالے سے منصوبہ بندی کرتے ہوئے ایکشن پلان کا اعلان کیا ہے۔ جوبہت ہی خوش آئند ہے لیکن اس وبا کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے بہت جامع اور ہمہ گیر ایکشن پلان کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں پولیس فورس کو یہ ٹاسک دینا ہوگا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار کے علاقوں سے منشیات بیچنے والوں کاخاتمہ کرے لیکن خود پولیس فورس کے اندر ایسے ملازمین ہیں جو چرس و شراب کانشہ کرتے ہیں۔ وہ بھی مفت۔ اسی طرح جامعات اور کالج کے ملازمین اور ہاسٹلوں کے سٹاف میں ایسے لوگ موجود ہیں جو خود بھی نشہ کرتے ہیں اور طلباء کو پیسے کمانے کی غرض سے فراہم کرتے ہیں۔ خیبر پختونخوا کی حکومت کا نوٹیفیکیشن موجود ہے کہ تعلیمی اداروں کے اندر سگریٹ فروخت کرنا اور پینا قانوناً منع ہے۔ لیکن کوئی بھی سروے کرکے دیکھ سکتا ہے کہ جامعات کے اندر دکانیں سگریٹ فراہم کرتی ہیں ۔اب اگر حکومت اور اینٹی نارکوٹیکس فورسز واقعی سنجیدگی سے اس اہم قومی مسئلے کو لے رہے ہیں تو اس کے لئے منشیات کے خلاف قانون پرسخت عمل درآمد کے ساتھ طلباء و طالبات کی ذہنی تغسیل (Brain washing) اسلامی تعلیمات کے ذریعے کرنا ہوگی اور بتانا ہوگا کہ اسلام نے منشیات کو کن وجوہات کی بناء پر حرام قرار دیا ہے۔ ورنہ ہمارے ہاں تو پولیس کے ہاتھوں چرس وغیرہ میں گرفتار افراد چند دنوں بعد ضمانت پر رہا ہو کر دوبارہ اپنے دھندے میں مشغول ہو جاتے ہیں۔ اس ناسور کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے والدین' اساتذہ' حکومت' پولیس اور اینٹی نارکوٹیکس فورسز کے علاوہ علماء کرام منبر و محراب سے منشیات کے استعمال پر سخت پابندی اورمضرات کے حوالے سے خطبات میں تاکید کرنا ہوگی اور یوں سب کو مل کر اس ناسور کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر جہاد کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں