میگا پراجیکٹس کی منظوری

میگا پراجیکٹس کی منظوری

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے پشاور اور رشکئی انڈسٹریل زون میں جدید طرز کی رہائشی بستیوں کرک میں آئل ریفائزی ہری پور میں پہلے سے موجود مقام پر سیمنٹ پلانٹ لگانے ، چترال میں تین ہائیڈ ل پراجیکٹس کے قیام اور پورے صوبے میں ٹیو ٹا کے بہترین انتظام وانصرام کیلئے تیز اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے ۔گزشتہ روز ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں ان پراجیکٹس کے حوالے سے وزیراعلیٰ اور متعلقہ حکام کو بریفنگ دی گئی ۔ وزیر اعلیٰ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ان منصوبوں کیلئے جلد سے جلد زمین کے حصول کی ہدایت کی ، انہوں نے مذکورہ منصوبوں کیلئے ایف ڈبلیو او کے ساتھ منافع میں حصہ داری کی ضرورت پر بھی زور دیا ، وزیر اعلیٰ نے سی پیک کے تناظر میں پشاور اور رشکئی ہائو سنگ سکیموں کو تیز رفتاری کے ساتھ مکمل کرنے کی ہدایت کی اور ان ہائوسنگ سکیموں کیلئے حصول اراضی کو جلد از جلد پلان کرنے کی بھی ہدایت وزیراعلیٰ نے اجلاس کے شرکاء کو ہدایت کی کہ وہ ہائیڈل پاور جنریشن کی فزیبلٹی رپورٹس جلد از جلد تیا ر کریں تاکہ 15-16مارچ کو بیجنگ روڈ شو میں سرمایہ کاری کی غرض سے پیش کیا جا سکے اور چائینز کمپنیوں کی نشاند ہی کر کے ان کمپنیوں کے ساتھ مفاہمتی یاد داشت پر دستخط ہو سکے ۔ انہوں نے کہا کہ 1700میگا واٹ ہائیڈ ل پاور کے منصوبے سی پیک کا حصہ ہوں گے جس پر پہلے سے اتفاق ہو گیا ہے۔ دریں اثنا وزیراعلیٰ نے صوبائی دارالحکومت پشاور شہر میں سڑکو ں کی تعمیر و بحالی گلیوں کی پختگی اور پشاور شہر کی ترجیحی بنیادوں پر خوبصورتی ، سڑکو ں اور فلائی اوورز کی تعمیر کے سلسلے میں وزیراعلیٰ ہائو س میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران نیشنل کنسٹرکشن کمپنی کو ادائیگیوں کے طریق کار کا جائزہ لینے اور اس کے حل کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی ۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک رشکئی پراجکٹس کا تعلق ہے ان کے بارے میں اطلاعات یہ آرہی ہیں کہ ان کی منظوری سی پیک کے منصوبے کے حوالے سے دی گئی ہے اور حزب اختلاف کی جانب سے اس پر اعتراضات بھی کئے جارہے ہیں کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے وزیر اعلیٰ کو چین اپنے ساتھ لیجا کر ان کے انتخابی حلقے کیلئے یہ پراجیکٹس دے کر سی پیک منصوبے میں صوبے کے حقوق کوغضب کرنے کی کوشش کی ہے ، اس ضمن میں کاریڈور فرنٹ کے عہد یداروں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پرویز خٹک پر الزام لگایا کہ وہ بیجنگ میں ہونے والی میٹنگ میں کاریڈور سے متعلق کسی بھی نکتے کا دفاع نہیں کر سکے اور وہ سب کچھ مان گئے جو نواز شریف چاہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے صوبائی اسمبلی کی پاس کردہ قراردادوں کوپس پشت ڈالا جبکہ وزیراعظم 28مئی 2015ء اور 15جنوری 2016ء کے اے پی سی میں اپنے وعدوں اور لکھی ہوئی تحریر کے حوالے سے آئینی قانونی اور اخلاقی طور پر پابند ہیں ۔ اگر تیسری اے پی سی بلائی تو بیجنگ میں ہونے والے تمام فیصلوں کی توثیق کرکے اور اس کو قومی اتفاق رائے کہہ کر کاریڈور کے مسئلے کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا جائے گا۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ وزیر اعلیٰ پرویز خٹک تو سی پیک کے حوالے سے مطمئن نظرا تے ہیں جبکہ خود ان کی پارٹی کے ساتھ تعلق رکھنے والے سپیکر صوبائی اسمبلی غیر مطمئن ہیں اور سی پیک کے حوالے سے اپنے کیس کو جو انہوں نے پشاور ہائی کورٹ میں دائر کر رکھا ہے واپس لینے کو تیا ر نہیں ہیں ۔ ایسی صورت میں اصل حقائق کیا ہیں اس کا پتہ تب چلے گا جب اس ضمن میں صوبائی حکومت صوبائی سیاسی قیادت کو مطمئن کرنے کیلئے اسے پی سی بھلا کر تمام حقائق اس کے سامنے رکھ دے ، کیونکہ ادھر وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے بھی عندیہ دے رکھا ہے کہ وزیر اعظم بھی عنقریب ایک اور اے پی سی بلا کر سیاسی قیادت کو اعتماد میں لیں گے ، احسن اقبال نے ابھی تین روز پہلے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام جرگہ میں کاریڈور کے لفظ کے معنی ہی تبدیل کرتے ہوئے اسے یہ کہہ کر نئے معنی پہنانے کی کوشش کی ہے کہ کاریڈور شاہراہ کا نام نہیں بلکہ یہ الگ سائبان ہے جس کو مختلف روٹس کے ذریعے ایک دوسرے سے مربوط کیا جائے گا ۔ تاہم وہ کئی سوالوں کے اطمینان بخش جواب نہ دے سکے اور اس کے بعد اگر سی پیک پر صوبہ خیبر پختونخوا کی جملہ سیاسی اور عوامی قیادت ابھی تک مطمئن نہیں ہو رہی تو اس کی وجوہات واضح ہیں۔ اس لیے پہلے تو صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ تازہ ترین حالات سے صوبے کی جملہ قیادت کو بلوا کر اعتماد میں لے اور اگر وزیر اعلیٰ بذات خود مطمئن ہیں تو اس حوالے سے باقی قیادت کو بھی آن بورڈ لیکر اسے قائل کرے تاکہ یہ مسئلہ مزید کسی بحث کا موضوع نہ بن سکے اور اس کے بعد پوری سیاسی قیادت کی بھی ذمہ داری ٹھہرے کہ وہ کاریڈور کے تحت صوبے کو دیئے جانے والے متضاد پراجیکٹس کی تکمیل کیلئے صبر سے کام لے ، کیونکہ اگر یہ فیصلے صوبے کے مفاد میں ہیں تو ان پر بلا وجہ معترض ہونے کا بھی کوئی جواز نہیں رہے گا ۔ امید ہے وزیراعلیٰ جلد از جلد نہ صرف سپیکر بلکہ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین کو بھی بلوا کر صورتحال واضح کردیں گے ۔

متعلقہ خبریں