پشاور بچائو تحریک ؟

پشاور بچائو تحریک ؟

خیبر پختونخوا کی اپوزیشن جماعتوں نے صوبائی دارالحکومت پشاور شہر کو نظر انداز کرنے اور اس کے مسائل کی طرف حکومت کی عدم توجہی پرپشاور بچائو تحریک کے آغا ز کا اعلان کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو خبردار کیا ہے کہ اگر پشاور کی ترقی کیلئے منصوبے شروع نہ کئے گئے تو اس کے خلاف ہر فورم پر احتجا ج کیا جائے گا ۔جہاں تک پشاور کی ترقی کا تعلق ہے بد قسمتی سے صوبائی سطح پر اس شہر کے کسی بھی رہائشی کو وزارت اعلیٰ کا منصب نہیں دیا گیا ۔ جو بھی سیاسی جماعت صوبائی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلیتی ہے یا پھر مخلوط حکومت کا قیام عمل میں آتا ہے تو وزارت اعلیٰ کا منصب دیگر اضلاع کے پاس چلا جاتا ہے اور پھر ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ حکومت میں زیادہ طاقتور ہوتے ہیں صوبائی بجٹ کی پائپ لائن کا رخ انہی طاقتوں کے آبائی اضلاع کی جانب موڑ دیئے جاتے ہیں ، حالانکہ صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناتے پشاور کا اپنا مقام اور اپنی اہمیت و حیثیت ہے اور اصولی طور پر اس کی تعمیر و ترقی کیلئے وافر مقدار میں فنڈز مختص کرنا لازمی ہیں ،کیونکہ پوری صوبائی حکومت اور اسمبلی ممبران کا دبائو اسی شہر پر ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود یہاں سے تعلق رکھنے والے صوبائی اسمبلی کے ارکان اگر حکومت کا حصہ ہوں تو ان کی آواز نحیف و نزار ہوتی ہے اور وہ اپنی جائز بات بھی نہیں منواسکتے یا پھر اگر ان کا تعلق اپوزیشن جماعتوں سے ہو تو سونے پر سہا گہ کہ حکومت ان کے منصوبوں کو در خور اعتناء گرداننے کو تیا رہی نہیں ہوتی ،صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناتے غیر ملکی وفود بھی پشاور ہی آتے ہیں اور یہاں آکر انہیں یہ احساس کبھی نہیں ملتا کہ اس شہر کی حقیقی حیثیت کسی صوبائی دارالحکومت کی ہے ۔ شاہراہوں اور سڑکوں کی شایان شان تعمیر ، صفائی ستھرائی کی حالت ، گندگی کے ڈھیر ، ٹریفک کے گو نا گو مسائل ، ہر لمحے ٹریفک جام کی کیفیت وغیرہ کو دیکھ کر اس شہر پر قدیم زمانے کے کسی غیر ترقی یافتہ شہر کا ہی گمان ہوتا ہے ، اگر چہ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے ایک اعلیٰ سطحٰ اجلاس میں پشاور کی خوبصورتی کے حوالے سے بعض پرا جیکٹس کے بارے میں بریفنگ کے دوران احکامات جاری کر دیئے ہیں اور امیدواتقاہے کہ متعلقہ انتظامیہ ان منصوبوں کی جلد از جلدتکمیل کیلئے دن رات ایک کر کے اقدام اٹھا ئے گی تاکہ اس شہر کو صوبائی دارالحکومت کے شایان شان بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے اور نہ صرف باہر سے آنے والوں کو بھی اس کی خوبصورتی واضح طور پر نظر آئے بلکہ جو سیاسی قیادت شکایات کے دفتر کھول کر شہر کو خوبصورت بنانے کے مطالبا ت کر رہی ہے وہ بھی مطمئن ہوجائے ۔
بلا تعطل بجلی فراہمی کامنصوبہ
گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے 132کے وی شیخ محمدی ، حیات آباد ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کا افتتاح کرتے ہوئے کہا ہے کہ محولہ ڈبل سرکٹ لائن سے بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے ، اس ٹرانسمیشن لائن سے وادی پشاور کو بجلی فراہمی کا تیسرا اضافی ذریعہ میسر آئے گا جس سے کسی خرابی کی صورت میں وادی پشاور کو اس لائن سے بجلی کی فراہمی بحال رکھی جا سکے گی ، انہوں نے چیئر مین پیسکو بورڈ آف ڈائرکٹر ز اور پیسکو مینجمنٹ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی دلچسپی اور محنت سے شیخ محمدی ،حیات آباد ٹرانسمیشن لائن کو مکمل کر لیا گیا ہے ، ہائی ٹرانسمیشن لائن سے وادی پشاور اور خصوصاً حیات آباد یونیورسٹی ٹائون ، پشاور ہائی کینٹ ، پشاور سٹی اور پشاور کے ملحقہ علاقوں کو بجلی وولٹیج پاور بریک ڈائون کا خاتمہ ہوگا، اور بجلی فراہمی میں مجموعی طور پر بہتری آئے گی ۔ وادی پشاور میں لوڈ شیڈنگ کے مسائل سے نمٹنے کیلئے ڈبل سرکٹ ٹرانسمیشن لائن کی تنصیب یقینا ایک اہم کارنامہ ہے جس کا مقصد کسی بھی موجودہ ٹرانسمیشن لائن پر دبائو بڑھ جانے یا پھر اچانک بریک ڈائون کی وجہ سے متبادل کے طور پر بجلی بحال کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگے گا اور عوام کو خصوصاً گرمی کے دنوں میں اضافی اور شیڈ ول سے ماوراء لوڈ شیڈنگ سے نجات ملے گی ، اس میں قطعاً شک نہیں کہ وفاقی حکومت نے 2018ء کے عام انتخابات سے قبل ہی ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے مکمل طور پر چھٹکارا پانے کا جو پروگرام بنا رکھا ہے اس پر تیزی سے عمل در آمد کیا جارہا ہے ، ملک میں بجلی کے کئی نئے منصوبے بھی لگائے جارہے ہیں اورپرانی اور بوسیدہ ٹرانسمیشن لائنوں کو تبدیل کرنے پر بھی توجہ دی جارہی ہے ، جبکہ نئے گرڈ سٹیشنوں کی تعمیر کے منصوبے کے تحت بھی چھوٹے منصوبوں پر کام جاری ہے اور امید ہے کہ آنے والے انتخابات سے پہلے پہلے ہی حکومت اس قسم کے منصوبوں کی تکمیل کے ساتھ دیگر پراجیکٹس کو تکمیل تک پہنچا نے میں کامیاب ہو جائے گی ، جس کے بعد ملک سے لوڈ شیڈنگ کو مکمل طور پر ختم کر نے کے حکومت کے دعوے پورے ہوجائیں گے اور نہ صرف لوڈ شیڈنگ کے عفریت سے عوام کی جان چھوٹ جائے گی بلکہ ملک کے اندر صنعتی اور تجارتی سر گرمیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو کر ترقی کی راہ پر قوم کے آگے بڑھنے کے امکانات روشن سے روشن تر ہو جائیں گے ۔

متعلقہ خبریں