صرف مسلمان ہی بن جائیں

صرف مسلمان ہی بن جائیں

وہ چند باتیں جن کا ذکر میں نے اپنے گزشتہ کالم میں آپ سے کیا تھا ۔اپنے داد ا سید اسعد گیلانی کی کتاب کے چند اقتباسات بھی آپ کے سامنے رکھے یہ وہی باتیں ہیں جو شاید ہم میں سے اکثر کے دل کی آواز ہیں ۔ جو ایک عرصہ سے ہمارے فہم وادراک کا حصہ ہیں لیکن نہ جانے کیوں ان کا کوئی عملی مظہر ہمارے کردار ،ہمارے رویے میں دکھائی نہیں دیتا ، کئی بار سوچ بچار کے با وجود میں آج تک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اپنا دشمن جانتے بوجھتے بھی ہم اسی دشمن کی ساز شوں کا شکار بھی ہیں اور یہ بھی سمجھنے کے لیے تیار نہیں کہ یہ برائی جو ہم تک آ پہنچی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ تو ہم خود ہیں ۔ ہم نے خود ہی تو اسے اجازت دی ہے کہ یہ دروازے کھول کر ہمارے گھروں میں داخل ہو جائے اور اپنی وحشت کے جالے ہمارے آباد گھروں کی دیواروں پر لٹکا دے ۔ وہ سوال جو آج سے کئی دہائیاں قبل میرے داد ا کے ذہن میں تھا اس کا جواب آج تک ہم کیوں تلاش نہیںکر پائے آخر کیوں آج بھی میں اور میرے ہم عصر اس خیا ل کے ساتھ نبر د آزما ہیں ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ ہم صرف مسلمان بن کر نہیں رہتے ۔ کیوں ہم فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں ۔ اور اس تفریق کا جب ہمیں کوئی فائدہ ہی نہیں ملا اسے یوں سنبھالے رکھنے کی وجہ کیا ہے ۔ اپنی اس کتاب میں اس صورتحال کا ایک بہت آسان حل میرے داد ا نے بتایا ہے یہ بات آپ کے بھی گوش گزار کرنا مقصودہے کہ شاید ہم اپنے لیے اپنے ہی معاملات میں کچھ آسانی پیدا کر سکیں ۔ وہ لکھتے ہیں ۔ مسلمانوں کے بنیادی عقائد ، توحید خداوندی ، رسالت محمدی ۖ ، ختم نبوت ، ایمان بالکتاب اور آخر ت پرایمان ، مسلمانوں کے درمیان متفق علیہ ہیں میں ان میں کسی فرقے کو کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ اختلاف کا آغاز ان عقائد کی تشریحات سے ہوتا ہے جن کے لئے مختلف لوگوں کے مختلف دلائل ہیں اور ظاہر ہے کہ دلیل کی بنا پر ہی اختلاف کیا جا سکتا ہے اور اس سے کسی کا ایمان زائل یا غیر معتبر نہیں ہوتا ۔ میں سمجھتی ہوں کہ یہ بات بہت اہم ہے اور اسے سمجھ لینا اور اپنی سوچ کی جزئیات کا حصہ بنا لینا ضروری ہے کہ دلیل کی بنا پر اختلا ف ہوجانا ، علم کی نشانی ہے لیکن اس اختلاف کی بنا پر اس تعصب اور غلط فہمی کا شکار ہو جانا کہ دراصل وہ ہی درست ہے اور ہر وہ دوسرا شخص جو اس کی دلیل یا سوچ سے اختلاف رکھے ، ایمان سے خارج ہے یا اس کا ایمان زائل ہے یا اس کی سوچ یا دلیل غیر معتبر ہے ، درست نہیں ۔ اسلام کی پوری حقیقت کو دیکھنے اور پرکھنے کے طور طریقے مختلف ہو سکتے ہیں کیونکہ کسی ایک انسان کی سوچ کی رو دوسرے سے نہیں ملتی ۔ 

اگر بنیادی باتوں میں اختلاف نہ ہوتو دل میںاس قدر گنجائش رکھنی ضروری ہے کہ دوسرے کو بھی خارج از ایمان تصور نہ کیا جائے ۔ اپنی اس کتاب میں اتحاد و اتفاق کی فضا پید ا کرنے کے لئے وہ چند تجاویز بھی پیش کرتے ہیں جو شاید اس وقت ہمیں پریشان کر دیں ،ہم نے جن لوگوں کی پیروی اور اتباع میں اسلام کی روح کو جس طو ر سمجھ رکھا ہے اس میں سے کوئی اس بات کی اجازت ہی نہ دے لیکن یہ بات سمجھنی اور اس بات کا احساس کرنا بہت ضروری ہے کہ دین میں اتحاد اور اتفاق کو ایک انتہائی بنیادی اہمیت حاصل ہے ۔
با جماعت نماز بھی اس اتحاد اور اتفاق کو ظاہر کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔جب تک ہم اپنے دین کی بنیادی روح کو سمجھ نہ لیں اور اس کو پورے طور اپنے اندر جذب نہ کر لیں اس وقت تک اتحاد و اتفاق کی فضا قائم نہیں ہوسکتی وہ لکھتے ہیں ، ہمیں اتفاق و اتحاد کے لئے صدر اول کی فضا کو ہی بحال کرنا ہوگا اور اس کو بنائے اتحاد بنانا ہوگا ۔ و ہ فضا پید ا کرنے کیلئے اختلاف کے مصنوعی خول کو اتار کر ہمیں مندرجہ ذیل امور کا اہتمام کرنا ہوگا ۔ مسلمانوں کی تمام مساجد اللہ کی مساجد ہیں ۔ہر مسجد میں ہر مسلمان نماز ادا کر ے کوئی مسجد کسی مسلمان کیلئے بند نہ ہو ۔ ہر مسلمان کو ہر پیش امام کے پیچھے اپنے فقہی مسلک کے مطابق نماز ادا کرنے کا حق حاصل ہو ۔ ہر مسلمان کی نماز ہر مسلمان کے پیچھے ادا ہو سکتی ہے جیسے رسول اکرم ۖ اور صحابہ کے زمانے میں ہوتی تھی ۔ مسلمانوں کے تمام اسلاف سب مسلمانوں کیلئے محترم ہیں ۔ کوئی گروہ کسی کے اسلاف کے بارے میں نازیبا زبان استعمال نہ کرے ۔ یہی قرآن کی ہدایات ہیں ۔ یہی اسوہ رسول اکرم ۖہے جس آبادی میں جس مسلک کے مسلمان اکثریت میں ہوں ، اس آبادی کا پیش امام اسی مسلک کا ہو اور دوسرے مسلک کے مسلمان اس کے پیچھے نماز ادا کریں ۔
اگر ان امور کا اہتمام کر لیا جائے تو امید کی جاسکتی ہے کہ چند سال کے عرصے میں مسلمانوں میں فقہی مسالک کی بنا پر جو تلخی اور جدائی ہے وہ کم ہو تی چلی جائے اور مسلمان بتدریج فرقہ بندی کے متفرق پلیٹ فارموں سے اٹھ اٹھ کر ملت واحد ہ کے متحدہ پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں ۔ ہمارے نزدیک اتحاد ملت کا یہی ایک نسخہ ہے اور اس میں ملت مسلمہ کا مستقبل محفوظ ہے ۔ سوچنے کی بات ہے اگر ہم یہ سب باتیں اتنے کمال کے ساتھ اپنی زندگیوں میں نافذ نہ بھی کر سکیں صرف اپنی سوچ کو ہی آمادہ کرلیں کہ ہم کسی اور کا نقطہ نظر سن کر محض اس لیے غلط قرار نہ دیں کہ ہمارے پاس جو تشریحات موجود ہیں ، وہ ان لوگوں کے نقطہ نظر سے میل نہیں کھا تیں بلکہ انہیں اپنا نقطہ نظر رکھنے کا حق دیں ۔ اپنی تشریح ایک مخصوص ضابطہ کے اندر رہتے ہوئے کرنے کی اجاز ت دیں تو جو نفاق ،جو اختلاف اور جو افتراق ہمیں مسلمانوں میں فی زمانہ دکھائی دیتا ہے اس کا سدباب احسن طریقہ سے ہو سکے گا ۔ یہ بہت اہم باتیں ہیں اور اب اس اتحاد کا آغاز کسی جانب سے تو ہونا ہی چاہیے ۔ اب ہمیں صرف مسلمان بننا ہوگا تا کہ ہم غیر مسلموں کا مقابلہ کر سکیں ۔

متعلقہ خبریں