سب سے پہلے امریکہ؟

سب سے پہلے امریکہ؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی تقریب حلف برداری کے موقع پر جو خطاب کیا اس کا لب لباب ''سب سے پہلے امریکہ '' تھا ۔یوں لگ رہا تھا کہ جیسے ڈونلڈ ٹرمپ کی صورت امریکہ کو پہلا صدر ملا ہے جو امریکہ کے مفاد کو دنیا کی ہر شے پر مقدم جانتا ہو ۔ہم پاکستانیوں سے زیادہ اس حقیقت سے کون باخبر ہوگا کہ امریکہ کی تمام پالیسیوں کامحور ومرکز امریکہ ہی رہا ہے ۔اس راہ میں کبھی جذبات ،رشتوں ،دوستی جیسی اصطلاحات کا گزر بھی نہیں ہوا۔اسی پالیسی کے تحت امریکہ نے دوسرے ملکوں کو تھپکی بھی دی اور بیرون امریکہ عوام پر نوازشات کی بارش بھی کی ۔اپنی حدود سے تجاوز کرکے کچھ قوموں کی مدد بھی کی ،وقت پڑنے پر کسی ملک پر چڑھائی سے بھی گریز نہیں کیا ۔افغانوں کو ہی لیجئے سرد جنگ کے آخری مرحلے میں امریکہ نے افغان مجاہدین کی مدد کی اس سے افغانستان کا ہی نہیں بلکہ عالمی منظر تبدیل ہوگیا ۔افغانوں کے ہاتھ تو خالی ہی رہے مگر امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت بن کر اُبھرا اور دنیا پر اپنی پالیسیاں ٹھونسنے سے گریز نہیں کیا ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کے پینتا لیسیوں صدر کی حیثیت سے اپنے عہدے کا حلف اُٹھایاگویا کہ ان سے پہلے چوالیس صدور کا ماٹو ''سب سے پہلے کوئی اور '' تھا ۔ایسا ہر گز نہیں رہا۔ ہوتا بھی کیوں؟امریکہ کوئی عالمی یتیم خانہ تھوڑی تھا کہ جو مفت میں غریب قوموں اور ملکوں کی پرورش کرتا ۔امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کا سب سے بڑا ستون تھا اس نے اقوام متحدہ کی سرپرستی سمیت دنیا کے بہت سے ملکوں کے ساتھ سیاسی اور تجارتی شراکت داری حقیقت میں اپنے قومی مفاد کے پیش نظر کی ۔امریکہ کے تمام صدور کا اول وآخر مرکز یہی مفاد تھا ۔فرق صرف یہ ہے کہ ماضی کے صدور نے خاموشی کے ساتھ امریکہ کے مفاد کے نام پر بڑے کھیل کھیلے اور مدبرانہ سٹائل کو پیش نظر رکھا جبکہ مسٹر ٹرمپ سب سے پہلے امریکہ کا ڈھول پیٹ کر یہ کام کرنا چاہتے ہیں ۔وہ امریکہ میں ایک نئے انداز کا نیشنل ازم پیدا کرنا چاہتے ہیں ۔یہ نیشنل ازم جہاں امریکہ کو اقلیتوں بالخصوص مسلمان کے لئے تعذیب کدہ بنا سکتا ہے وہیں یہ گورباچوف کے نیشنل ازم کا ''امریکی ایڈیشن ''بھی ثابت ہو سکتا ہے ۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ میں ایسی بنیادی اصلاحات اور تبدیلیاں لانے کاعزم ظاہر کیا ہے جن کا محور ومرکز امریکی عوام اور ان کا مفاد ہو۔عظیم اور بلند وبالا عمارتیں بنانے کے ماہر ٹرمپ اب امریکہ کو اس کی کھوئی ہوئی عظمت ِ رفتہ لوٹانا چاہتے ہیں ۔ڈونلڈ ٹرمپ جب حلف اُٹھا رہے تھے تو واشنگٹن شہر کے چپے چپے پر پولیس مستعد اور چوکس کھڑی تھی اور احتجاج کرنے کے خواہش مندوں کوشہر کی حدود میں داخل ہونے سے روکا جا رہا تھا ۔ وائٹ ہائوس کا مکین بننے کے بعد اور اب ان پر امریکہ جیسے بڑے ملک کی صدارت کا بوجھ آن پڑا ہے ۔امریکی عوام کے جذبات اور احساسات بتا رہے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو ایک منقسم امریکہ ،مضطرب اور ناراض عوام ملے ہیں ۔ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔امریکہ کے حالیہ انتخابات نے امریکی عوام کی بڑی تعداد کو ملکی سسٹم سے ہی ناراض اور ناامید کردیا تھا ۔یہ وہ لوگ تھے جو ہیلری کلنٹن کو صدر دیکھنا چاہتے تھے یہ ان کی شخصیت او ر سیاسی نظریات سے متاثر تھے اور چاہتے تھے کہ دنیا میں امریکہ معتدل پالیسیوں کے ساتھ آگے بڑھتا رہے ۔

اس کے برعکس ٹرمپ نے امریکی نیشنل ازم کو ہوا دی اور سب سے پہلے امریکہ کا نعرہ لگایا جس کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے خطاب میں یو ں کیا کہ آج کے بعد صرف امریکہ پہلے کی پالیسی چلے گی ٹیکس امیگریشن اور خارجہ امور کے بارے میں فیصلہ امریکی ملازمین اور امریکی خاندانوں کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا ۔انہوں نے امریکہ کے عام آدمی اور کاروباری طبقے کے مسائل کو موضوع بنایا ۔انہوں نے امیگریشن کے حوالے سے سخت پالیسی اپنانے کا اعلان کیا ۔ڈونلڈ ٹرمپ پر روس نوازی کا کھلا الزام عائد کیا جا رہا ہے ۔یہ امریکہ کے پہلے الیکشن ہیں جن میں کسی غیر ملکی طاقت پر دھاندلی اور اثراندازہونے کا الزام لگ رہا ہے ۔یہ تو امریکہ کا داخلی منظر نامہ ہے جو ماضی کے برعکس بری طرح تقسیم اور تضادات سے بھرپور ہے ۔ٹرمپ کو درپیش بیرونی منظر بھی کچھ زیادہ اچھا نہیں ۔روس اور چین امریکی پالیسیوں کی مزاحمت کر رہے ہیں ۔یورپ اب ان کا بے دام غلام دکھائی نہیں دے رہا اور وہ مغرب سے مشرق کی جانب رخ موڑ نے پر آمادہ نظر آرہا ہے ۔ٹرمپ کو روس نوازی کا داغ دھونے کے لئے روس سے کشیدگی بڑھانا پڑے گی ۔ایک چین کی پالیسی پر نظر ثانی کرنے کا اعلان کرکے ٹرمپ پہلے ہی چین کی چٹکی کاٹ چکے ہیں ۔تھوڑا آگے چلیں تو جنوبی ایشیا کے سلگتے ہوئے مسائل ٹرمپ انتظامیہ کے لئے ہمالیہ جتنا بلند چیلنج ہیں ۔پاکستان اور بھارت کی پرت در پرت محاذ آرائی اور مسئلہ کشمیر اس خطے کی سیاست ،تجارت اور معیشت پر ہی اثراندازنہیں ہورہا بلکہ کسی نہ کسی طرح پوری دنیا کو متاثر کر رہا ہے ۔امریکہ ماضی میں بھارت کی حمایت میں کھڑے ہوکر ایک واضح لائن لیتا رہا ہے ۔جس سے پاکستان اور امریکہ میں خلیج بڑھ چکی ہے ۔دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان کشمکش اور محاذ آرائی میں توازن اور اعتدال قائم کر کے آگے بڑھنا جنوبی ایشیا میں ڈونلڈ ٹرمپ کو درپیش سب سے بڑ ا چیلنج ہے ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ مسٹر ٹرمپ ایک مدبر کی حیثیت سے اُبھرتے ہیں یا وہ بھی امریکہ کی جنگجویانہ پالیسی کا شکار ہو کر دنیا کے عدم استحکام میں اضافہ ہی کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں