کوئی بتلائو…

کوئی بتلائو…

ہمارے ذہین و فطین دوست ہمیں کچھ ایسے برقی پیغامات سے نوازتے رہتے ہیں جن سے دل و دماغ کے دریچے وا ہو جاتے ہیں۔ آج ہم کو کچھ ایسے ہی چشم کشا برقی پیغامات آپ کی خدمت میں پیش کرنے کی اجازت دیجئے۔ ڈاکٹر کلیم جان لکھتے ہیں ہاروڈ یو نیورسٹی میں آئین پڑھانے والا اور آٹھ برس تک دنیا کے طاقتور ترین ملک کے عہدہ صدارت پر فائز اپنی قوم کو ٹاٹا کہتے ہوئے رخصت ہوگیا۔ اس کی پالیسیاں کیا تھیں؟ اور اس کے فیصلوں سے عالمی سیاست کس حد تک متاثر ہوئی' یہ الگ بحث ہے۔ ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ رہائش گاہ جسے وائٹ ہائوس کہتے ہیں اور جہاں سے وہ آٹھ برس تک احکامات جاری کرتا رہا وہاں سے رخصت ہوتے وقت اس کے ہاتھ بالکل خالی تھے۔ اس کا سامان جو چند روز پہلے وہاں سے اس کی کرائے کی رہائش گاہ کو منتقل کیا گیا تھا بتایا گیا ہے اس سامان کے ڈھونے کے اخراجات بھی اس سے ہی وصول کئے گئے اور مزے کی بات یہ ہے کہ نئے صدر کا جو سامان جس ٹرک میں لاد کر لایاگیا اس کے اخراجات بھی نئے صدر نے ادا کئے۔ وائٹ ہائوس سے رخصت ہونے والے امریکی صدر کے خلاف گزشتہ آٹھ سالوں کے د وران نہ تو کوئی مالی سکینڈل سامنے آیا نہ دنیا کے کسی ملک میں اس پر کاروبار کا الزام لگا۔ نہ بیرون ملک اس نے کوئی جائیداد بنائی' ملز یا فیکٹری لگائی اور نہ تاحال سوئٹزر لینڈ کے کسی بنک میں اس کا کوئی اکائونٹ دریافت ہوا ہے۔ اس نے اپنے دادا کی دولت کے راز بھی نہیں کھولے بلکہ دوسرے روز ہی وہ اپنے دوستوں سے گالف کھیلتا ہوا دکھائی دیا۔ اس کی بیوی دوبارہ اپنا لاء چیمبر کھول کر روزی کمانے کے لئے قانون کی پریکٹس شروع کردے گی اور سابق صدر پورے اطمینان کے ساتھ بلاخوف خطر کسی یونیورسٹی میں پروفیسر بن جائیں گے۔ ڈاکٹر کلیم جان نے اپنے برقی مراسلے کے اختتام میں یہ دلچسپ رائے ظاہر کی ہے۔ یہ عجیب بے وقوف شخص تھا۔ اور اب ایک دوسرا دلچسپ برقی مراسلہ ملا حظہ کیجئے جو ہمارے دوست مظہر بٹ نے کراچی سے روانہ کیا ہے۔ فرماتے ہیں مملکت ریاست ہائے متحدہ امریکہ سے خبر آئی ہے کہ وہاں کی اشیاء خورد و نوش اور ادویات کی کوالٹی کو جانچنے والے ادارے نے اعلان کیا ہے کہ یو ایس مارشل سروس نے وہاں کی ایک کمپنی جس کا نام وے لی ملک (Valley milk) بتایا جاتا ہے اس کی چار کروڑ ڈالرز کی لاگت کی کچھ اشیاء اپنے قبضے میں لے لی ہیں۔ قبضے میں لی جانے والی اشیاء میں کچھ خشک دودھ کا پائوڈر شامل ہے اور کچھ مکھن بنانے کا سفوف ہے۔ یہ سب چیزیں چالیس اور پچاس پائونڈ کی بوریوں سے برآمد ہوئیں اور جیسے کہ پہلے بتایا گیا اس کی قیمت کا اندازہ کم و بیش چار لاکھ ڈالرز لگایا گیا ہے۔ امریکہ کے محکمہ انصاف نے فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈ منسٹریشن (F&A) کی جانب سے متعلقہ کمپنی کے خلاف مقدمہ درج کرلیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ قبضے میں لی جانے والی اشیاء میں ملاوٹ پائی گئی اور کمپنی کا یہ عمل فیڈرل فوڈ' ڈرگ' اور کاسمیٹک کے قانون کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ایف ڈی اے نے ستمبر سے جولائی کے عرصے میں ویلی ملک کمپنی کی فیکٹری میں بنائی جانے والی اشیاء کی نگرانی کی اور تحقیقات کے دوران انہوں نے دیکھا کہ فیکٹریوں کے اندر صفائی ستھرائی کا انتظام بھی ناقص ہے۔ کمپنی کا ریکارڈ جانچنے پر یہ حقیقت بھی سامنے آئی کہ تیار شدہ مال کے نمونے معیار پر پورے نہیں اترتے۔ متذکرہ تحقیقات کے بعد ایف ڈی اے نے ویلی کمپنی کی انتظامیہ کو اس ضمن میں اپنی صفائی پیش کرنے کی ہدایت کی۔ لیکن کمپنی نے اس کا کوئی جواب نہیں دیا جس کے نتیجے میں ایف ڈی اے کی انتظامیہ نے بتایا کہ ہم نے ازراہ مجبوری کمپنی کی پیداوار کو اپنے قبضے میں لینے کا فیصلہ کیا۔ کیونکہ ان کی بنائی جانے والی اشیاء کے استعمال سے صارفین کی صحت کوشدید خطرہ لاحق ہوسکتا تھا جس کی ایک وجہ کمپنی کے پراڈکٹ میں Salmonella کے نام سے ایک ایسے بیکٹیریا کی نشاندہی تھی جو نہ صرف کھانے پینے کی اشیاء کو وقت سے پہلے گلا سڑا دیتی ہے بلکہ یہ اشیاء بد ہضمی کا سبب بھی بنتی ہیں۔ یاد رہے کہ ایف ڈی اے امریکہ کے صحت عامہ اور خدمت انسانی کے محکمے کا حصہ ہے۔ صحت عامہ کے امور کی نگرانی اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانا اس کے فرائض میں شامل ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ویلی کمپنی کو اس کے غیر معیاری اشیاء کی تیاری پر ضرور قرار واقعی سزا ملے گی جبکہ مملکت خداداد میں رپورٹ شدہ معلومات کے مطابق 2014ء میں 200افرادکھانسی کا شربت نوش جان کرنے پر دنیا سے گزر گئے۔ 2015ء میں دل کے مرض کی جعلی دوا سے مرنے والوں کی تعداد 300 سے تجاوز کر گئی ہے اور سال رواں میں سرکاری ہسپتالوں سمیت لاہور میں امراض قلب کے مریضوں کے لئے دل کی شریانوں میں جعلی سٹنٹ (Fake stunt) فروخت ہو رہا ہے اور اس سکینڈل میں دکھی انسانیت کے نامی گرامی خدمت گزار ملوث بتائے جاتے ہیں۔ ہمیں آج تک اس نوع کے کاموں کے ذمہ داروں کوکسی سزا ملنے کی خبر نہیں ملی۔ اگر ان میں سے کسی ایک کیس میں بھی مجرموں کو نشان عبرت بنا دیا جاتا تو بازار سے جعلی دوائوں کا کاروبار ختم ہوگیا ہوتا۔ جب ایک سینیٹر بابر اعوان نے گزشتہ روز سینٹ میں ان باتوں پر وضاحت چاہی تو وزارت صحت کے کسی نمائندے کی جانب سے اس کا جواب دینے کی بجائے دفاع کے وزیر مملکت نے کہا' بھئی یہ سوالات غیر متعلقہ ہیں ' کوئی بتلائو کہ ہم بتلائیں کیا؟ اگلا سوال جناب؟

متعلقہ خبریں