میٹھی روٹی ،کک اور مصالحہ دار گڑ

میٹھی روٹی ،کک اور مصالحہ دار گڑ

میٹھی روٹیاں ، یہی تو موسم ہے ، ہم بچپن ہی سے دیکھتے آئے ہیں ، ادھر موسم خنک ہوا ہلکی ہلکی بارش شروع ہوئی ، چاہے بعد میں موسلادھار شکل اختیار کر جائے ۔ ہمارے گھروں میں خواتین گڑ کے شربت میں آٹا گھول کر ساتھ ہی اگر زیادہ خستہ اور لذیذ روٹیاں پکانی ہوتیں تو تھوڑا ساگھی بھی شامل کر دیا جاتا اور پھر توے کو کمرے کے اندر رکھے چولہے پر رکھ کر چھوٹی چھوٹی میٹھی روٹیاں پکانے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ، یہ وہ دور تھا جب گیس کا تو نام و نشان تک نہ ہوتا تھا ۔ اور لوگ کڑاکے کی سردی سے بچنے کیلئے کمروںکے اندر ہی پکی ہوئی مٹی کے بنے ہوئے چولہوںمیں یا تو لکڑیاں یا کوئلے رکھ کر جلا تے جس سے نہ صرف کمرہ گرم رہتا بلکہ اکثر ہانڈی چائے وغیرہ بھی اسی پر پکاتیچولہے کے چاروں جانب دریاں وغیرہ ڈال کر چھوٹے بڑے ان دریوں پر بیٹھ کر گپ شپ بھی کرتے ریڈیو کے پروگرا م بھی سنتے اور یوں ریڈیوکی نشریات کے خاتمے تک یہ مجلس جاری رہتی ۔ شہر کے بڑے گھرو ں میں صندلیاںبھی جلائی جاتیں اور رات کو انہی صند لیوں کے گرد گھر کے افراد سوبھی جاتے ۔ یوں ایک سادہ سی زندگی گزار کر بھی لوگ نہ صرف خوش ہوا کرتے تھے ۔ بات ہورہی تھی میٹھی روٹیوں کی جو گزشتہ روز گھروالوں نے پکا کر ہمارے سامنے رکھیں تو ہمیں اپنے بچپن کے دن یا د آ گئے ، اس قسم کے سر پرائز اکثر ہمارے گھر کے مکین کر کے زندگی میں تنوع کی کیفیت پیدا کر دیتے ہیں ۔ مسئلہ یہ ہے کہ اب جہاں اکثر لوگ بلڈ پریشر اور ذیا بیطس جیسی موذی امراض کا شکار ہو رہے ہیں ان چو نچلوں کے قریب کم کم ہی پھٹکتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ رب کریم کا شکر ادا کرنے کیلئے الفاظ کم پڑ رہے ہیں کہ عمر کے اس حصے میں بھی محولہ دونوں امراض سے ہمیں محفوظ رکھا ہوا ہے البتہ نصف بہتر کی طبیعت درست نہیں رہتی ، مگر آفرین ہے اس کے خلوص اور قربانیوں کی کہ جو چیز اس کیلئے اچھی نہیں وہ کھانے بھی پکاکر گھر والوں کے سامنے لا کررکھ دیتی ہے جبکہ خود پر ہیزی کھانے پر ہی اکتفا کرتی رہتی ہے ۔ یوں فراز کے اس شعر کی مکمل تفسیر بن چکی ہیں کہ 

شکوئہ ظلمت شب سے تو کہیں بہتر تھا
اپنے حصے کی کوئی شمع جلا تے جاتے
جن میٹھی روٹیوں کا تذکرہ اوپر کی سطور میں کیاگیا ہے وہ عام گڑ کے شربت سے نہیں بنتیں بلکہ اس کیلئے گھانیوں میں جب گنے سے رس نکال کر پکا یا جاتا ہے تاکہ اس سے گڑ بنا یا جا سکے تو یہ شربت پکاتے ہوئے اس کو کئی مراحل سے گزارا جاتا ہے ، پکانے کے دوران اس کو صاف کرنے کیلئے بعض کیمیکلز بھی استعمال کئے جاتے ہیں اور ساتھ ساتھ اس کو جس کڑھائی میں پکا یا جاتا ہے اس کی اوپری سطح پر جمنے والے میل کو بڑے سائز کی چھانتی کے ذریعے نکال نکال کر کسی برتن میں اکٹھا کیا جاتا ہے اس طرح نہ صرف یہ شربت نتھر جاتا ہے بلکہ چاش کی صورت میں گاڑ ھابھی ہوتا رہتا ہے اور جب مطلوبہ شکل اختیار کرلیتا ہے تو اسے ایک بڑے کڑا ہ (چپلی کبابوں والی کڑاہی کی شکل کا ہوتا ہے )میں ڈال کربعد میں اسکوگڑ کے ڈلوں میں ڈھالا جاتا ہے ، یعنی یہ جو چا ش نما گاڑھا شربت ہوتا ہے یہ لوگ حاصل کر کے لے آتے ہیں اور اس کا گھروں میں مختلف شکلوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ ہمار ے گھروں میں ایک تو جیسا کہ اوپر کی سطور سے مترشح ہوتا ہے لوگ میٹھی روٹیوں میں اس کا استعمال کرتے ہیں ، اس کے علاوہ اسی گاڑھے شربت کو گھروں میں روٹی کے ساتھ بھی استعمال کرتے ہیں اور وہ یوں کہ گھی گرم کر کے اس میں مطلوبہ مقدار میں شربت ڈال کر اس کو روٹی کے ساتھ کھایا جاتا ہے ۔یہ بھی کھانے میں بہت لذیذ ہوتا ہے۔ اس شربت کو ہمارے ہاںکک کہتے ہیں اور بطور تحفہ بھی ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے ، بلکہ جس گھر میں کک پہنچ جائے اور عزیزوں رشتہ داروں کو پتہ چل جائے تو ان سے تقاضا کیا جاتا ہے کہ اکیلے کک سے لطف اندوز نہ ہوا جائے ان کا حصہ بھی کیا جائے ۔کک کا ایک استعمال یوں بھی کیا جاتا تھا کہ کھچڑی چاول پکا کر ایک پرات میں ڈال دیئے جاتے اور پرات کے عین درمیان میں ایک نیم کاسہ میں یہی گڑ کا شربت گھی میں گرم کر کے رکھ دیا جاتا ، اور سب گھر والے شربت تھوڑا تھوڑا سالیکر اپنے سامنے کھچڑی چاولوں کے ساتھ مکس کرکے نوش جان کئے جاتے یہ بھی ایک بہت ہی لذیذ کھا بہ ہوتا اور لوگ ذوق و شوق سے کھاتے ۔ کک کے ساتھ ساتھ گڑ کی بھی بات ہو جائے ، ایک تو عام گڑ ہے جو کسی زمانے میں چینی کی نسبت سستے داموں دستیاب ہوتا تھا مگر اب ایسی صورتحال نہیں ہے بلکہ کبھی کبھی تو اعلیٰ کوالٹی کا گڑ چینی کے مقابلے میں مہنگی قیمت پر ملتا ہے اور اگر گڑ مصالحہ دار بھی ہو تو پھر تو اس کی قیمت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے یہ مصالحہ دار گڑ جس میں ڈرائی فروٹ کی گریاں اورمغز استعمال کیا جاتا ہے یعنی بادام ، اخروٹ ، سیاہ مرچ ، مونگ پھلی ، کشمش ، چنے، سبزا لائچی ،وغیرہ وغیرہ یہ اپنی قیمت ان اشیاء کے استعمال کے حوالے سے ہی متعین کرتا ہے ، یعنی جتنی زیادہ یہ چیزیں استعمال ہوں گی قیمت اتنی ہی زیادہ ہوگی ۔پہلے تو اس قسم کا گڑ صرف سوغات کے طور پر فراہم کیا جاتا تھا مگر جب ڈیمانڈ بڑھ گئی تو پھر اس کی فراہمی بھی تجارتی بنیادوں پر ہونے لگی اور اب اکثر ڈرائی فروٹ والی دکانوں پر یہ مصالحہ دار گڑ بھی عام طور پر آسانی سے دستیاب ہوجاتا ہے ، گڑ کے بارے میں یہ بات اہم ہے کہ یہ زود ہضم ہے اور دنیا کی ہر چیز کو مولی ہضم کرنے میں مدد گار ہوتی ہے لیکن خود مولی ہضم نہیں ہوتی البتہ گڑ مولی کو بھی ہضم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے ۔

متعلقہ خبریں