مشرقیات

مشرقیات

معروف بزرگ حضرت قطب الدین اولیاء ابو اسحاق ابراہیم گارزونی فرمایا کرتے تھے کہ ایک مرتبہ مجھے یہ تصور ہوگیا کہ دوسروں سے صدقات لے کر مجھے فقرا پر خرچ نہ کرنا چاہیے ۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے مجھ سے کوئی ایسی غلطی سرزد ہو جائے ، جس کا قیامت میں مجھ کو جواب دینا پڑے گا ۔ اس خیال کے تحت میں نے تمام فقرا سے کہہ دیا کہ اپنے اپنے گھر جا کر خدا کو یاد کرتے رہو ۔ لیکن اس شب میں نے حضور اکرم ۖ کو خواب میں دیکھا ۔ آپ ۖ فرما رہے تھے کہ اس لین دین سے تجھے خوفزدہ نہ ہونا چاہیے ۔ ایک مرتبہ دوران وعظ دو افراد اس خیال سے حاضر ہوئے کہ آپ سے یہ دعا کرائیں کہ ہمیں دنیاوی عیش و راحت میسر آجائے ۔لیکن آپ نے ان دونوں کو دیکھتے ہی فرمایا کہ لوگوں کو چاہیے کہ مجھ سے صرف خدا کے واسطے ملاقات کیلئے حاضر ہو اکریں ۔ دنیا کی طلب لے کر میرے پاس نہ آئیں کیونکہ اس نیت سے میرے پاس آنے والوں کو کسی قسم کا ثواب حاصل نہیں ہو سکتا ۔
ایک یہودی خود کو مسلمان ظاہر کر کے آ پ کے یہاں مقیم ہوگیا اور اس خوف سے کہ کہیں اس کافر یب آپ پر ظاہر نہ ہو جائے ، مسجد کے ستون کے پیچھے چھپ کر بیٹھ گیا اور آپ روزانہ اس کیلئے کھانا بھجوا دیا کرتے ، لیکن چند روز قیام کے بعد جب اس نے رخصت کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا کہ اے یہودی ! تجھے یہ جگہ پسند نہیں آئی ؟
اس نے پوچھا کہ آپ کو میرے یہودی ہونے کا علم کیسے ہوگیا اور جانتے بوجھتے آپ نے میری خاطر مدارت کیوں کی ؟ آپ نے فرمایا کہ رب تعالیٰ دنیا میں مسلم و کافردونوں کو رزق پہنچا تا رہتا ہے ۔ ایک مرتبہ وزیر کا مصاحب میر ابو الفضل آپ کے پاس حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا شراب نوشی سے توبہ کر لے ۔ اس نے جواب دیا کہ میں ضرور تائب ہو جاتا ، لیکن جب وزیر کی مجلس میں دورجام چلتا ہے تو مجبور اً مجھ کو بھی پینی پڑتی ہے ۔ آپ نے فرمایا کہ جب اس کی محفل میں تجھے شراب نوشی پر مجبور کیا جائے تو اس وقت تو ریاضت میں مصروف ہو کر توجہ نیک لوگوں کی طرف پھیر لیا کر ۔ چنانچہ جب وہ توبہ کرکے گھر پہنچا تو دیکھا کہ تمام جام سبو شکستہ پڑے ہیں اور شراب زمین پر بہہ رہی ہے ۔ یہ کرامت دیکھ کر وہ بہت متاثر ہوا اور وزیر کے پوچھنے پر واقعہ بیان کردیا ۔ اس کے بعد سے وزیر نے کبھی شراب نوشی پر مجبور نہیں کیا ۔
(ایمان افروز واقعات)
حافظ ابن حجر عسقلانی شافعی متوفی 852ھ کے متعلق ان کے شاگرد محقق علامہ کمال الدین ابن ہما حنفی متوفی 861ھ تحریر فرماتے ہیں : ہمارے استاد قاضی القضا ة شہا ب الدین ابن حجر عسقلانی شافعی فرماتے ہیں کہ میں نے طلب حدیث کے ابتدائی زمانے میں (حج کے موقع پر) زم زم پیا اور یہ دعا کی کہ یا الٰہی ! مجھے حافظ ذہبی جیسا حافظہ عطا فرما ، تقریباً بیس سال بعد مجھے پھر حج کی سعادت نصیب ہوئی ، اس سے اور اونچا مرتبہ حاصل ہونے کی دعا کی ، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ وہ بھی حاصل ہو جائے گی ۔

متعلقہ خبریں