غیر محفوظ افغانستان

غیر محفوظ افغانستان

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں بارود سے بھری گاڑی کے سرکاری ملازمین کو لے جانے والی گاڑی کے ساتھ ٹکرانے کے نتیجے میں انسانی جانوں کے افسوسناک اتلاف اور زخمی ہونے کا واقعہ سنگین ہے۔ واضح رہے کہ کابل کے مغربی حصے میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے متعدد افراد آباد ہیں جنہیں ماضی میں بھی حملوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔اس دھماکے کے ہدف اور حملے کی ذمہ داری فی الوقت کسی جانب سے قبول نہیں کی گئی لیکن بہر حال یہ ایک سنگین واقعہ ہے جو ان واقعات میں ایک کا اضافہ ہے جس کے باعث افغانستان کا دارالحکومت کابل اب سب سے غیر محفوظ خیال کیا جانے لگا ہے۔ تمام تر سیکورٹی انتظامات کے باوجود اس طرح کی صورتحال کی گنجائش کیسے نکل آئی ہے۔ یہ سوال بھی اپنی جگہ توجہ طلب ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ اس دھماکے کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو افغانستان میں امن کے خواہاں نہیں۔ گوکہ بیرونی قوتیں افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان میں امن کے قیام کے ایجنڈے کے تحت آئی تھیں لیکن ان کی آمد کے بعد افغانستان میں کس قدر امن بحال ہوا ہے اور لوگوں کی زندگیاں کس قدر محفوظ ہوگئی ہیں اس بارے تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں۔ افغانستان میں کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کہیں نہ کہیں کوئی نہ کوئی واقعہ رونما نہ ہوتا ہو۔ گو کہ ہر بڑے واقعے کے بعد افغان حکام آنکھیں بند کرکے ایک ہی راگ الاپتے ہیں اور ان کو اس سے آگے دیکھنے کی توفیق نہیں ہوتی۔افغانستان میں داعش اور را کی ممکنہ ملی بھگت اور حالیہ کارروائی کے بعد تو افغانستان کی حکومت کا امن اور بقاء ہی خطرے میں دکھائی دیتا ہے۔ اس نازک ترین موڑ پر افغانستان کو اس امر کا از سر نو جائزہ لینا ہوگا کہ افغانستان میں موجود امریکہ اور اتحادی افواج پر انحصار اور بھروسہ کیا جائے یا کابل پر حکمرانی کے لئے جس فہم و فراست اور قوت نافذہ کی ضرورت ہے اسکا موجودہ حکمرانوں میں نہ ہونا ہی داعش اور دیگر ان قوتوں کے لئے تقویت کا باعث ہے جو افغانستان میں امن کی خواہاں نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ خود امریکہ جہاں ایک جانب افغانستان میں قیام امن کا ٹھیکیدار بن بیٹھا ہے لیکن دوسری جانب اس کے اقدامات اس طرح کے ہیں کہ وہ افغانستان سے انخلاء کی سوچ کی بجائے افغانستان میں مزید فوج لانے اور قبضہ مستحکم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے ۔ایسی صورتحال میں بعید نہیں کہ اس کا جواز پیدا کرنے کے لئے افغانستان میں حالات خراب کئے جائیں اور اس امر کا تاثر دیا جائے کہ افغانستان کو دہشت گردوں کے ہاتھوں میں جانے سے بچانے کے لئے وہاں بین الاقوامی فوج کی تعداد میں اضافہ کیاجائے ۔دوسری جانب بھارت افغانستان میں جس قسم کی سازشوں میں ملوث ہے اس کی ایسی معتبر گواہی سامنے آئی ہے جس سے انکار کی گنجائش نہیں۔دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شامل برطانوی فوجی افسر رابرٹ گیلی مور نے افغان فوج اور خفیہ ایجنسی کے پاکستان مخالف رجحان پر اپنے سابقہ تجربات اور معلومات کی روشنی میں کہا ہے کہ افغان فوج اور خفیہ ایجنسی کا ہر واقعہ کا الزام پاکستان پر لگانا درست نہیں، پاکستان کا افغانستان میں دہشت گردی میں ملوث ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں، پاکستان کیساتھ کشیدگی اور پاک افغان تعلقات کی خرابی کی جڑ بھارت ہے۔افغانستان میں بھارت کی مداخلت اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی سہولت برقرار رکھنے کے لئے بعید نہیں کہ بھارت افغانستان میں حالات خراب کرکے افغانستان کو مسلسل خوف اور دبائو کی حالت میں رکھے تاکہ بھارت اسے با آسانی پاکستان کے خلاف استعمال کرسکے اور خود افغان سرزمین پر پاکستان کے خلاف آزادانہ سازشیں کرسکے۔ پھر افغانستان کی داخلی قوتوں کو مضبوط اور یکجا کرکے بیرونی اثرات کا مقابلہ کیا جائے۔ حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمتیار سے افغان حکام کی معاملت ایک مثبت کاوش متصور ہوتی ہے لیکن افغانستان میں قیام امن کے لئے یہ کافی نہیں۔ افغانستان میں داخلی انتشار کے خاتمے کے لئے افغانستان کو ان تمام افغان قوتوں سے معاملات طے کرنے ہوں گے جس کے بعد ہی افغانستان کی حکومت اس پوزیشن میں آئے گی کہ وہ غیروں کی بیساکھیوں کو اتار پھینکے۔مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ سارے ہم وطن کسی ایسے فارمولے پر اتفاق پیدا کر لیں کہ افغانستان میں ایک نمائندہ حکومت وجود میں آئے۔ جب تک افغانستان میں ایک مستحکم حکومت کا قیام عمل میں نہیں آتا اور وہ داخلی کشاکش سے یکسو نہیں ہوتی تب تک اس طرح کے خطرات کی روک تھام اور مقابلہ مشکل ہوگا۔ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن اور استحکام امن کا فارمولہ جب تک خود افغان قیادت اپنے اندرونی معروضی حالات کے ادراک اور اس کے تناظر میں طے نہیں کرتی تب تک اس کو مختلف اطراف سے دبائو کا سامنا رہے گا۔جس ملک کے دارالحکومت میں آئے روز دھماکے ہوں غیرملکی فوجیں موجود ہوں پڑوسیوں سے ان کے تعلقات ٹھیک نہ ہوں ایسے ملک میں عدم استحکام کی واضح وجوہات داخلی ہوتی ہیں جن پر توجہ دینا اور ان کو دور کرنا افغان قیادت کا اولین فرض ہے۔ اس وقت صرف کابل ہی غیر محفوظ نہیں بلکہ افغان طالبان نے دو ضلعی ہیڈ کوارٹرز پر قبضہ کرلیا ہے جبکہ پاک افغان سرحد پر تورہ بورہ کے پہاڑوں کے دامن میں داعش کے ٹھکانے ہیں۔ افغان حکومت اور ان کے اتحادیوں کو افغانستان میں ان سارے معاملات کی موجودگی سے زیادہ پاکستان سے بلا وجہ تحفظات اور شکایات ہیں جہاں اس رویے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ وہاں افغانستان کی حکومت اور اتحادیوں کو افغانستان کے داخلی استحکام کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے ایسے اقدامات اٹھانے پر توجہ دینی چاہئے جو افغانستان کے داخلی بحران کا حل نکالنے میں مدد گار ثابت ہوں۔

متعلقہ خبریں