متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے تقاضے

متاثرین کی بحالی اور تعمیر نو کے تقاضے

شمالی وزیرستان سے عارضی طور پر افغانستان جانے والے پناہ گزینوں کی واپسی کا ایک مرحلہ کامیابی سے مکمل ہوچکا ہے جس کے دوران تقریباً تیس ہزار افراد کی واپسی ہو چکی ہے جن کی بحالی و آباد کاری پر پوری توجہ کی ضرورت ہے۔ جو لوگ ایک عرصہ ایک ایسے ملک میں گزار چکے ہوں جہاں قدم قدم پر وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا جال بننے والے غیر ملکی ادارے اور افراد موجود ہوں وہاں انسانی ہمدردی اور امداد کے نام پر غیر محسوس طریقے سے ان سادہ لوح قبائلیوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا بعید از امکان نہیں۔ انہی افراد میں چند ایک کا کسی نیٹ ورک سے وابستگی بھی نا ممکن نہیں بنا بریں تمام قسم کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے پوری احتیاط کے ساتھ آنے والوں کی بحالی اور آنے کے منتظر افراد کی جلد واپسی و بحالی کے معاملات کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ قطع نظر ان حالات و واقعات کے وزیرستان اب پوری طرح بدل چکا ہے۔پاک فوج کے جاری اقدامات کے تناظر میں بدلتاوزیر ستان اب خواب نہیں حقیقت ہے۔ وزیرستان اب اس قدر بدل چکا ہے کہ اس پر سے دہشت گردوں کا گڑھ ہونے کا داغ پوری طرح مٹ چکا ہے۔ فوج اور عوام میں اعتماد اور تعاون کی فضا پوری طرح قائم ہے۔ اس مرحلے پر جہاں فوج کو معاملات سے آہستگی کے ساتھ پیچھے ہٹنے کی ضرورت ہے وہاں اس خلا کو پر کرنے کے لئے وزیرستان کے عوام کو بیدار اور متحرک ہونے کی بھی ضرورت ہے تاکہ ان کی صفوں میں کوئی ایسا عنصر شامل نہ ہوسکے جو ان کے لئے مشکلات کا باعث بن سکے۔ اس امر کے اعادے کی ضرورت نہیں کہ پاک فوج کیڈٹ کالج اور اے پی ایس سکولوں کے قیام کے ذریعے قبائلی نوجوانوں کو تعلیم کی وہ معیاری سہولت ان کے اپنے علاقے میں فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے جو شہروں اور بڑے بڑے قصبات میں میسر ہیں۔ آزمائش کے ایک دور سے گزرتے ہوئے شمالی اور جنوبی وزیرستان کے عوام کو اپنے بچوں کی بہتر و معیاری تعلیم و تربیت کی اہمیت کا خاص طور پر احساس ہوا ہوگا اور وہ اس سہولت کی ایک نعمت سمجھ کر قدر کریں گے۔ سڑکوں اور مواصلات کے نظام کی بہتری سے قبائلی عوام کو ان موسمی پھلوں اور سبزیوں کو منڈی تک پہنچا کر معقول منافع لینے کے مواقع ملیں گے جو اس سے قبل ممکن نہ تھا اور اچھی پیداوار ہونے کے باوجود وہ اس سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے تھے۔ شمالی و جنوبی وزیرستان میں جدید سہولتوں سے آراستہ موزوں تعمیر کے ساتھ مارکیٹس میں تجارت کی سہولت سے استفادے سے ان کی معاشی حالت میں نمایاں بہتری آئے گی۔ میران شاہ میں جدید ترین سہولتوں سے آراستہ جس بس سٹینڈ کی تعمیر کا منصوبہ ہے اس کی تکمیل سے علاقے میں سفری سہولیات کی فراہمی میں ایک اور سنگ میل عبور ہوگا۔ یونس خان سٹیڈیم کی صورت میں بین الاقوامی معیار کا سپورٹس کمپلیکس علاقے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان کھلاڑیوں کے قومی و بین الاقوامی طور پر سامنے آنے اور صحت مند سرگرمیوں کے فروغ کاباعث بننا فطری امر ہوگا۔ہمارے تئیں صرف یہی کافی نہیں کیونکہ قبائلی علاقوں کی تعمیر و ترقی فوج کی بنیادی ذمہ داری نہیں بلکہ اس کی ذمہ داری قیام امن و استحکام امن ہے۔ تعمیر و ترقی کی ذمہ داری تعلیمی اداروں اور صحت کی بہتر سہولتوں کی بہم رسائی علاقے کے مشکلات سے دو چار عوام کی تالیف قلب اور فوری ریلیف کے لئے انجام دہی فوج کا احسن اقدام ہے جس کی وجہ سے متاثرین کی واپسی اور آباد کاری کی بنیادی و ابتدائی ذمہ داری پوری ہوئی جس کے بعد سول انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریوں کو سمجھے اور ان کو شفاف و دیانتدارانہ انداز میں پورا کرنے کے لئے آگے آئیں تاکہ مل کر وزیرستان کے عوام کی زندگیوں میں انقلاب لایا جاسکے اور علاقے میں آپریشنز کے باعث وہاں کے مکینوں کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا نہ صرف اس کا ازالہ ہو بلکہ گزرے ہوئے حالات ایک نئے دور اور نئی زندگی کا نقطہ آغاز ثابت ہوں۔ قبائلی عوام کو از خود بھی انفرادی و اجتماعی طور پر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے اور علاقے کو ترقی کی راہ پرگامزن کرنے کے لئے ہمہ وقت تعاون کرنے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں