یہ ہمارے رب کی مدد ہے

یہ ہمارے رب کی مدد ہے

میں سوچ رہی ہوں ہم جسے انقلاب سمجھ رہے ہیں وہ کہیں جنگ تخت نشینی تو نہیں ۔ یا کم ازکم کہیں اس کا آغاز جنگ تخت نشینی کے طور پر تو نہ ہوا تھا ورنہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ہی ہلے میںسارے کا سارا خاندان ہی سیاست کے میدان سے صاف ہو جائے اور ساتھ بیٹھے بھائی کو گز ند بھی نہ پہنچے ۔ چوہدری نثار سے میاں نواز شریف کی ناراضگی تو کچھ پرانی ہوگئی ہے ۔ عمران خان کے دھرنے میں بھی میاں صاحب کو چوہدر ی نثار پر شک تھا ۔ اور ان شکوک کے تانے بانے کئی جگہوں پر جا ملتے تھے ۔ اب بھی کئی باتیں کی جا رہی ہیں ۔ ان باتوں کے سر ے ملیں نہ ملیں ، لیکن دل کو بہت لگتی ہیں ۔ یہ ایک انقلاب ہے جس کا آغاز ہو رہا ہے ۔ اور ہم اپنے ملک کے اس تاریخی موڑ پر کھڑے ہیں ۔ یہ وہ ظلم ہے جو حد سے بڑھ گیا تھا اور اب ختم ہو رہا ہے ۔ یہ احتساب کا آغاز ہے ۔ اس آغاز میں جوبھی باتیں سنائی دیتی ہیں ان کا مقصد اور مطلب کچھ بھی ہو سکتا ہے ۔ کچھ ڈوبنے والوں کی آوازیںہیں ۔ وہ کتنے بھی پر اعتماد لفظ استعمال کریں ان کے لہجوں کا خو ف اور تاسف ، ان کے لفظوں پر غالب ہے ۔ کیا کمال کی ترکیب کی گئی ہے جس میں مسلم لیگ کا ''ن''ہی اڑا کر رکھ دیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اگر حدیبیہ ملز کا معاملہ کھل گیا تو نہ تخت باقی رہے گا نہ جنگ تخت نشینی ۔

یہ عجب معاملہ عبرت ہے جسے ہم دیکھ رہے ہیں اور انگشت بدانداں ہیں ۔ خورشید شاہ عمران خان کو خبردار کر رہے ہیں کہ میاں نواز شریف کا معاملہ بگڑا تو اس آگ کی لپٹیں عمران خان کے دامن تک پہنچتے دیر نہ لگے گی ۔ ان کی اس بات پر جانے کیوں پنجابی کا پرانا محاورہ بار بار ذہن میں آرہا ہے ، ''کہنا بیٹی کو اور سنانا بہو کو '' خورشید شاہ کہہ تو عمران خان کو رہے ہیں لیکن سنا شاید آصف زرداری سے لے کر بے شمار سیاست دانوں کو رہے ہیں ۔ ان کی باتوں کی حکمت اپنی جگہ لیکن ان کی اپنی آواز پر بھی لرزہ طاری ہے احتساب کی یہ ہیئت اکثر سیاست دانوں کے دلوں پر طاری ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ پنڈورا بکس کھل گیا تو کتنے ہی اس کے غضب کا شکار ہو جائیں گے ۔ میاں نواز شریف کا احتساب تو ہو رہا ہے لیکن قطارمیں ہر کوئی دکھائی دے رہا ہے ۔ عمران خان نے جس کاوش کاآغاز کیا ہے اس میں خود ان کے سائے تلے کشتوں کے پشتے لگ جائیں گے اور کوئی کچھ نہ کر سکے گا ۔ ہم بحیثیت عوام تماشا دیکھیں گے ۔ اور اپنا اپنا راستہ سدھارنے کی کوشش کریں گے ۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک طویل عرصے سے ہمیں بہت لوٹا ہے ۔ ہم اپنی مرضی سے اور کبھی زبردستی اس لوٹ مار کا شکار رہے ہیں ،کبھی موقع ملا ہے تو اس میں شامل بھی ہو گئے ہیں ۔ لیکن اتنا اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ رب کریم ہم پر مہربان ہو گیا ہے تبھی تو بد عنوانی کے اس کوڑھ کو ہم سے دھونے کا سدباب ہونے لگا ہے۔ میاں نواز شریف اس وقت ملک کے وزیر اعظم ہیں ۔ اپنے آپ کو بچانے کی و ہ ہر ممکن کوشش کرچکے ہیں ۔ اب بھی کر رہے ہیں ۔ لیکن یہ قدرت کا انتقام ہے ، جانے کس کی بد دعا ہے جو انہیں لگ گئی ہے ، وہ جو بھی کرتے ہیں وہ الٹا ہی ہو جاتا ہے ، قطری شہزادے کے خط سے لیکر ہر قسم کے ثبوت تک ، کوئی بات اب سیدھی ہوہی نہیں رہی ۔ چوہدری نثار ساتھ چھوڑ چکے ہیں اور ابھی جو ساتھ دکھائی دیتے ہیں وہ کب کہاں جا چھپیں گے کچھ معلوم نہیں ہو پائے گا ۔ اقتدار کی جتنی کہانیاں تاریخ کے دامن میں موجود ہیں ان میں تخت نشینی کی جنگ میں بڑا خون خرابا دکھائی دیتا ہے اور جہاں قدرت کی پکڑ ہی شامل ہو جائے تو وہاں تو حالات سنبھالنے ہی مشکل ہو جایا کرتے ہیں۔ میاں صاحب کی حالت دیکھ کر ایسی کتنی ہی مثالیں ذہن میں آرہی ہیں۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ میاں صاحب کے احتساب کے بعد کیا اس احتساب کی خواہش کو کوئی کسی بھی صورت دبا سکے گا۔ چوہدری نثار ان سے دور ہو جائیں' پارٹی چھوڑ جائیں' وعدہ معاف گواہ بن جائیں۔ ہر صورت میں یہ احتساب تو اب ہونا ہی ہے۔ کوئی خواہ اسے سی پیک کی مخالفت کا اقدام سمجھے یا دشمنوں کی کوئی چال کہے' ہمارا ملک اب ایک نئے دور میں داخل ہو رہا ہے جس میں اقرباء پروری سے لوگ گھبرانے لگیں گے اور چاپلوسی کے دن بھی تھوڑے ہی رہ گئے ہیں۔ جہاں ملک کے وسائل کو لوٹنا مشکل ہو تا چلا جائے گا اور ملک میں انصاف کی جڑیں مضبوط ہوتی چلی جائیں گی۔ہم فی الحال دیکھ نہیں سکتے کیونکہ ہم خود بھنور کی آنکھ میں بیٹھے ہیں۔ لیکن انسانی تاریخ کا یہ ایک عجب انقلاب ہے جو سالوں پر محیط ہوگا جس میں گردنیں نہ کاٹی جائیں گی لیکن پھر بھی ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔ احتساب کے نتیجے میں چوراہوں میں لاشیں لٹکی نہ دکھائی دیں گی لیکن ایسے ہی صفایا ہوگا جیسے بائیبل میں اس مقدس بارش کے بارے میں لکھا گیا ہے جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر لٹکایا گیا اور بارش ہوئی تو اس نے ہر ایک بیماری دھو دی۔ وہ ایسی بارش تھی کہ کوڑھیوں کے کوڑھ دھل گئے کیونکہ حضرت عیسیٰ نے ساری دنیا کے گناہوں کا بوجھ خود اٹھا لیا اور اس دنیا کے لوگوں کو غموں سے پاک کردیا۔ ایک ایسی ہی بارش پاکستان میں برسنا شروع ہوگئی ہے اور اب اس معاشرے کے کوڑھ دھلنے شروع ہوں گے۔ آہستہ آہستہ یہ معاشرہ اپنے ہی گناہوں سے پاک ہو نے لگے گا اور سب سدھر جائے گاجس بہتری کی ہم امید لگائے بیٹھے ہیں وہ بھی پوری ہوتی دکھائے دے گی ۔ ہمیں اپنے خواب کی تعبیر ملے گی جو ہمیں آزادی کے وقت دکھائے گئے تھے پھر ہم بھی اپنے معاشرے کے حوالے سے فخر سے بات کر سکیں گے ۔ میاں نواز شریف اور ان کے خاندان سے جس احتساب کا آغاز ہوا ہے اس سے نہ آصف زرداری بچ سکیں گے نہ عمران خان کی صفوں میں چھپے لوگ اور اسی احتساب کی اس ملک کو خواہش ہے۔ شکر ہے ہمارا رب اب ہماری امداد کو آن پہنچا ہے۔

متعلقہ خبریں