افغانستان میں بلیک واٹر کی واپسی

افغانستان میں بلیک واٹر کی واپسی

اگر افغانستان کے حوالے سے امریکی پالیسی کی بات کی جائے تو اس وقت امریکہ کافی تذبذب کا شکار دکھائی دیتا ہے۔ امریکہ میں صدارتی انتخابات کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نئے صدر بن کر سامنے آئے جس سے افغانستان کے حوالے سے اوبامہ کی آٹھ سالہ پالیسیوں کا خاتمہ ہوا۔ امریکی صدر کی اس تبدیلی سے امریکہ میں ڈیموکریٹس کا آٹھ سالہ دور بھی اپنے اختتام کو پہنچا اور ری پبلکن دور کے آغاز کے ساتھ ہی افغان پالیسی میں بھی تبدیلی نظر آنا شروع ہو گئی۔ اگرچہ ابھی تک یہی لگ رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان پر کوئی اہم فیصلہ کرنے کے حوالے سے تذبذب کا شکا ر ہیں لیکن اگر امریکہ کو اس خطے میں امن قائم کرنا ہے تو ڈونلڈ ٹرمپ کو اس حوالے سے ایک واضح اور جامع منصوبہ بندی اپنانی ہوگی۔ حال ہی میں اس حوالے سے ایک غیر متوقع صورتحال اس وقت سامنے آئی جب امریکی ایوانوں میں افغانستان سے امریکی فوج واپس بلا کر کرائے کی فوج تعینات کرنے کی بات کی گئی ۔یہ تجویز بدنامِ زمانہ پرائیویٹ سیکورٹی فرم بلیک واٹر کے سربرا ہ ایرک ڈی پرنس اور ملٹری کنٹریکٹر کمپنی ڈائن کراپ کے مالک سٹیون فین برگ کی جانب سے پیش کی گئی ہے۔ اس تجویز میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں امریکی افواج کی بجائے مذکورہ دو کمپنیوں کے کنٹریکٹرز تعینات کئے جائیں۔ ان سیکورٹی کمپنیوں کی جانب سے دی جانے والی اس تجویز کو ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف سٹریٹجسٹ سٹیو بنون اور صدر کے داماد اور سینئر ایڈوائزر جیرڈ کشنر کی حمایت بھی حاصل ہے۔ اگر امریکہ کی جانب سے اس تجویز پر عمل کیا جاتا ہے تو تجارتی بنیادوں پر کام کرنے والی ان ملٹری سروس کمپنیوں کے لئے یہ ایک انتہائی منافع بخش کاروبار ہوگا۔ 2002ء سے 2013ء کے درمیان ڈائن کراپ نے افغان نیشنل پولیس کے تشکیل اور ٹریننگ کی مد میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے 2.8 بلین ڈالر وصول کئے تھے۔ایرک ڈی پرنس نے 'وال سٹریٹ جرنل' میں لکھے گئے اپنے ایک کالم کے ذریعے یہ منصوبہ پیش کیا ہے جس کی تفصیل میں یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ افغانستان میں تعینات کرائے کی یہ فوج ایک امریکی وائسرائے کے ماتحت ہوگی جو براہِ راست امریکی صدر کو جوابد ہ ہوگا۔ جنگِ عظیم دوم کے بعد جاپان میں تعینات جنرل ڈمیک آرتھر کی حکومت کی طرزپر کی جانے والی اس منصوبہ بندی کے تحت امریکی وائسرائے کو افغانستان میں امن کے قیام کے لئے ہر قسم کے اقدامات کرنے کا اختیار حاصل ہوگا ۔ ایرک ڈی پرنس نے اپنے کالم میں ایسٹ انڈیا کمپنی کا حوالہ بھی دیا ہے جو ایک پرائیویٹ کمپنی تھی جو بعد میں ایک استعماری طاقت بن کر کئی صدیوں تک انڈیا کا استحصال کرتی رہی تھی۔انڈیا میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی کمان بھی وائسرائے کے پاس ہوتی تھی جو پرائیویٹ فوج کے ذریعے ملک میں ہر قسم کا ظلم و جبر کرنے کے لئے آزاد ہوتا تھا۔ اس تجویز کے ذریعے شاید ایرک ڈی پرنس خود کو افغانستان میں امریکی وائسرائے کے طور پر پیش کررہے ہیں تاکہ وہ بھی افغانستان میں اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھا کر اپنی کمپنی کے لئے زیادہ سے زیادہ منافع کما سکیں۔ اپنے کالم میں ایرک ڈی پرنس ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے انڈیا میں ظلم کا بازار گرم کرنے کا حوالہ دینا شاید بھول گئے ہیں جس کی لوٹ مار اور مقامی لوگوں اور وسائل کے استحصال کی وجہ سے 1857ء کی بغاوت نے جنم لیا جس کے نتیجے میں تاجِ برطانیہ کو مداخلت کرنی پڑی اور انڈیا براہِ راست تاجِ برطانیہ کے زیرِ نگیں ہوگیا۔ اسی طرح جاپان کی شکست کے بعد میک آرتھر پلان کے ذریعے ملک کو کنٹرول کرنے کی مثال بھی افغانستان کے حوالے سے درست معلوم نہیں ہوتی کیونکہ جاپان اس وقت شکست خوردہ ملک تھا لیکن افغانستان تو ہمیشہ سے باہر سے آنے والے حملہ آوروں کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے ۔ آخری بار جو جنگجو اس علاقے سے خیریت سے گزرا تھا وہ سکندرِ اعظم ہے ۔ افغانستان میں ایرک ڈی پرنس کے منصوبے سے بلیک واٹر کو خطیر منافع ہوگا جس کے سامنے عراق میں ہونے والی بلیک واٹر کی آمدنی بہت کم ہے۔ یاد رہے کہ بلیک واٹر کو عراق میں تعیناتی سے 1 بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی تھی۔ اگر بلیک واٹر کی اب تک کی کارکردگی کا جائزہ لیں تو ہمیں بہت سے خونی واقعات دیکھنے کو ملیں گے جس میں 2007ء میں بغداد میں ہونے والی خونریزی سرفہرست ہے جس کے نتیجے میں 17 سویلین ہلاک ہوئے تھے اور بلیک واٹر کے کنٹریکٹر ز کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا تھا۔ افغانستان اور عراق میں بہت سے معصوم شہریوں کی جان لینے کی وجہ سے بلیک واٹر کا نام اتنا بدنام ہوگیا تھا کہ 2009ء میں اس کانام تبدیل کرکے ایکس سروسز رکھ دیا گیا جسے 2011ء میں پرائیویٹ سرمایہ کاری کے بعد ایک دفعہ پھر تبدیل کرکے اکیڈمی کا نام دیا گیا تھا۔ ایرک ڈی پرنس نے موجودہ امریکی صدر کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرلئے ہیں جس میں ان کی بہن کا بھی اہم کردار ہے جو آج کل ڈونلڈ ٹرمپ کی ایجوکیشن سیکرٹری کے طور پر کام کررہی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں افغانستان میں مزید 4000 امریکی فوج بھیجنے کا اعلان کیا ہے لیکن ٹرمپ انتظامیہ افغانستان جیسے جنگ زدہ ملک میں قیام ِ امن کے لئے کوئی جامع پالیسی لانے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ اوبامہ اور جارج ڈبلیو بش کے برعکس ٹرمپ انتظامیہ سے افغانستان سے امریکی انخلاء کی توقع کی جارہی تھی لیکن حالیہ اعلان کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ امریکہ افغانستان کی دلدل میں گردن تک پھنسنے کی تیاری کر رہا ہے۔ 

(بشکریہ: ایکسپریس ٹریبیون،ترجمہ: اکرام الاحد)

متعلقہ خبریں