اب پھرخفیہ مذاکرات کا ڈول؟

اب پھرخفیہ مذاکرات کا ڈول؟

چین کی طرف سے واشگاف الفاظ میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے تعمیری کردار ادا کرنے کی خواہش کے اظہار کے فوری اثرات کچھ یوں سامنے آئے کہ بھارت نے کسی تیسرے فریق کے کردار کو مسترد تو کیا مگر اس کے ساتھ ہی کشمیر پر پاکستان کے ساتھ غیر مشروط بات چیت پر آمادگی بھی ظاہر کر دی ۔اس سے پہلے بھارت صرف دہشت گردی کے موضوع پر بات کرنے کا اعلان کرتا تھا ۔دوسرا یہ کہ چین کی اس خواہش کے چند دن بعد ہی امریکہ کی طرف سے یہ دلچسپ بیان سامنے آیا کہ مسئلہ کشمیر پر پیش رفت کے لئے خفیہ مذاکرات کا آپشن موجود رہے گا ۔امریکہ کی طرف سے کہا گیا کہ اگر کھلے مذاکرات میں کوئی مجبوری ہو تو پھر خفیہ سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے پر بڑی پہل کرنے کے لئے راستہ ہموار کرنے کی کوشش کی جانی چاہئے تاکہ خطے میں امن واستحکام پید اکیا جا سکے۔مناسب وقت پر ان خفیہ مذاکرات کو اعلانیہ میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔یوں لگ رہا ہے کہ چین کے کشمیر پر سرگرم ہونے اور کچھ کھلے بیانات سے امریکہ کوجنوبی ایشیا میںحاصل ایک اہم اور روایتی کارڈ چھن جانے کا خدشہ پیدا ہوا ہے۔اس لئے امریکہ نے دوبارہ کشمیر پر پس پردہ دبائو کا استعمال کرتے ہوئے خفیہ مذاکرات کو بحال کرنے کے آپشن پر سوچنا شروع کیا ہے ۔امریکہ نے نریندر مودی کے دورہ کے موقع پر سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دیا تھا تو اس پر پہلا سوال یہی اُٹھا تھا کہ کیا امریکہ خود کو بھارت کے ساتھ کھڑا کر کے ثالث کردار کا ایک خلاء پیدا کر رہا ہے؟اور اس خلاء کو کون پُر کرے گا؟۔لامحالہ اس خلاء کو پر کرنے کے حوالے سے چین کا نام ہی سامنے آرہا تھا اور چین نے بھی وقت ضائع کئے بغیر خود کو نسبتاََ ایک سخت گیر ثالث کے طور پر پیش کرنا شروع کیا ۔جس سے شاید امریکی پالیسی سازوں کو غلطی کا احساس ہو نے لگا ہے اور وہ کشمیر پر خفیہ سفارت کاری کا ڈول ڈالنے پر آمادہ ہو گئے ہیں۔خفیہ سفارت کاری کا آپشن نوے کی دہائی میں امریکہ نے ہی متعارف کرایا تھا اوراس کا پہلا تجربہ مشرق وسطیٰ میں فلسطینی قیادت اور اسرائیل کو بقائے باہمی کے ایک معاہدے پر آمادہ کرنا تھا ۔کئی برس کی کوشش کے بعد امریکہ 1993میںفلسطینی قیادت اور اسرائیلی حکومت کے درمیان'' معاہدہ اوسلو ''کرانے میں کامیاب ہوا تھا ۔اس کے بعد یہی تکنیک کشمیر کے تنازعے کو حل کرنے اور پاکستان اور بھارت کو قریب لانے کے لئے استعمال کی گئی تھی ۔ سب سے پہلے پاکستانی سیاست میں میڈان پاکستان کا امیج رکھنے والے میاں نوازشریف کو اپنے روایتی اور سخت گیر دائیں بازو کے حلقے سے الگ کر کے کچھ غیر روایتی اور نئے راستوں پر چلنے کی ترغیب دی گئی ۔بھارت میں اند ر کمار گجرال اور میاں نوازشریف کو غیر سرکاری روابط پر آمادہ کرنے کی راہ پر ڈال دیا گیا پھر یہ سلسلہ دراز ہوتا گیا یہاں تک کہ میاںنوازشریف اور اٹل بہاری واجپائی کے درمیان خفیہ مذاکرات اس حد کامیاب ہوتے دکھائی دئیے کہ معاملہ اعلان لاہور تک جا پہنچا ۔کرگل جنگ نے اس سارے تانے بانے کو بکھیر کر رکھ دیا ۔پاکستان میں جنرل پرویز مشرف کی فوجی حکومت قائم ہوئی۔ میاں نوازشریف کے سیاسی پس منظر اور روایتی حلقے کی طرح پرویز مشرف کا ماضی بھی سخت گیر اسٹیبلشمنٹ سے وابستگی کا حامل تھامگر دیکھتے ہی دیکھتے وہ زیادہ تیز رفتاری سے میاںنوازشریف کے راستے پر قدم بڑھا نے لگے۔ ٹریک ٹو ڈپلومیسی کے تحت امریکی حکومت اور این جی اوزنے سیمینارز اور مذاکروں کا اہتمام شروع کیا اور اس کا نقطہ ٔ عروج پاکستان میں پرویز مشرف کا زمانہ تھا جب حکومت پاکستان بھی پوری طرح اس عمل میں شریک ہو گئی اور پرویزمشرف کے دست راست طارق عزیز خفیہ مذاکرات میں شامل ہونے لگے۔یہی وہ زمانہ تھا جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان دفاعی تصورات تیزی سے تبدیل ہو رہے تھے ۔بھارت نے پرویز مشرف کی کوششوں کا مثبت جواب دینے سے گریز کیا اور جس کے ردعمل میں پاکستان میں بھی خفیہ مذاکرات اور کشمیر پر ایک کیمپ ڈیوڈ طرز کے سمجھوتے کے خلاف آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئیںاور یوں خفیہ مذاکرات کا دھاگہ کمزور ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ پاکستان میں وکلاء تحریک کاآغاز ہوگیا اور جنرل پرویز مشرف کا پائوں احتجاج کے اس دھاگے میں اُلجھتا چلا گیا کشمیر پر خفیہ مذاکرات کو کامیاب انجام تک پہنچنے سے روکنے میں جو کردار نوازشریف کے دور میں کرگل کی جنگ نے ادا کیا تھا وہی کام پرویز مشرف کے دور میں وکلا تحریک نے انجام دیا ۔ وکلاء تحریک کے بعدخفیہ مذاکرات کے تار ٹوٹ کر رہ گئے۔خفیہ مذاکرات کی پس پردہ قوتوں کا خیال تھا کہ اس عمل کو جلد ہی عوامی حمایت حاصل ہوجائے پھر اس دبائو کا مقابلہ دونوں ملکوں کی اسٹیبلشمنٹ کے بس میں نہیں ہوگا ۔یہ خیال خام ہی ثابت ہوا۔عوامی دبائو نام کی کوئی چیز سامنے نہ آسکی ۔موم بتیوں والے بے چارے جو واہگہ سرحد پر کبھی منہ میں لڈو لئے موم بتیاں اُٹھائے دھمالیں ڈالا کرتے وقت کی گرد میں گم ہو گئے ۔تاریخ کا دھارا بدلنے کی کوشش میں انہیں برصغیر کی زمینی حقیقتوں کا اژدھا چاٹ گیا۔اب امریکہ اسی طریقے کو دوبارہ اختیار کرنے کا خواہش مند دکھائی دیتا ہے ۔امریکہ کو اندازہ ہوگیا ہے کہ وہ خود کو بھارت کے ساتھ کھڑاکرکے جنوبی ایشیا کی سیاست میں جو خلا پیدا کررہے ہیں چین اسے پُر کرنے کی کوشش کر سکتا ہے اور امریکہ کی تازہ خواہش کے پیچھے یہی خدشہ جھلکتا ہے۔تاہم یہ کشمیر کے حوالے سے خوش آئند بات ہے کہ دنیا کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ سمجھنے کی بجائے بدستور ایک متنازعہ علاقہ اور حل طلب مسئلہ سمجھ رہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں