احتساب سب کا ہونا چاہیئے

احتساب سب کا ہونا چاہیئے

آج کل وزیر اعظم نواز شریف کے استعفے، حکومت ختم ہونے ، آئندہ مڈ ٹرم انتخابات منعقد کروانے کے لیے مختلف سیاسی پا رٹیوں کے درمیان صف بندی شروع ہے۔ کئی سیاسی لیڈروں کا کہنا ہے کہ میاں نوازشریف استعفیٰ دیں جبکہ دوسری طرف میاں نواز شریف اور انکے کچھ حمایتی اس بات پر بضد ہیں کہ نہ تو وہ استعفیٰ دیں گے نہ اسمبلیاں تو ڑیں گے اور نہ نئے مڈ ٹرم عام انتخابات ہوں گے۔ جب کہ کئی سیاسی قائدین کا خیال ہے کہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے طو ر پر بر طرف کیا اور اسمبلیوں اور قانون ساز اداروں کو رہنے دیاجائے۔ عام پاکستانیوں کو اس بات سے قطعاً کوئی غرض نہیں کہ کس کو اقتدار میں رہنا چاہئے اور کس کو نہیں رہنا چاہئے بلکہ وہ با عزت زندگی گزارنے کے خواہشمند ہیں جس میں تعلیم ، صحت ،سر چھپا نے کی جگہ اور زندگی کی دوسری آسائشیں دستیاب ہوں۔وہ اس بات کے متقاضی ہیں کہ انکی سماجی اقتصادی زندگی میں کچھ تبدیلیاں آئیں ۔ ان کے مسائل حل ہوں۔ مگر ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ملک میں روزانہ 12 ارب روپے اور سالانہ500ارب روپے بد عنوانی کی نذر ہو جاتے ہیں۔ غریب عوام کی غربت،بے روز گاری، پسماندگی صحت کی سہولیات کی عدم فراہمی کے ذمہ دار یہی سرمایہ دار وجاگیر دار ہیں۔ جب تک ملک سے کرپشن اور بد عنوانی ختم نہیںہوتی اور اچھی حکمرانی قائم نہیں ہوتی اُس وقت تک ان مسائل سے چھٹکارہ مشکل ہے۔ جب تک ملک میں مساویانہ احتساب نہیں ہوگا اورغریب امیر کے درمیان فرق ختم نہیں ہوگا تو اس وقت تک ملک سماجی اقتصا دی اور سیاسی طور پر ترقی نہیں کر سکتا ۔ بے تحا شا کرپشن اور بدعنوانی کی وجہ سے پاکستان کے 12کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔حالانکہ پاکستان کو اس وقت جنوبی کو ریا، چین اور کئی ان ملکوں کی صف میں شامل ہونا چاہئے تھا جو پاکستان کے ساتھ یا پاکستان کے بعد آزاد ہوئے تھے۔ ایک وقت تھاجب افغان کرنسی کوہمارے افغان بھائی ہتھ گا ڑی میں چوک یا دگار لے جایا کرتے تھے تو بدلے میں ان کو چند سوپاکستانی روپے مل جاتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ افغان کرنسی مستحکم ہوگئی اور اب ایک افغانی روپیہ، ڈھائی روپے پاکستانی کے برابر ہے۔ اس سے ہم یہ بھی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ پاکستان کی سماجی اقتصادی پو زیشن ہمارے حکمرانوں کی وجہ سے مزید گر تی جا رہی ہے۔ اس وقت پاکستانی قوم کو لسانی، علاقائی گروہوں میں تقسیم نہیں ہونا چاہئے بلکہ کرپٹ اشرافیہ اور بدعنوان افسران اور اہل کاروں کے خلاف تحقیقا ت ہو نی چاہئے تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہوجائے۔ اس وقت پاکستان میں سٹیٹس کو اور روایتی سیاسی پا رٹیاں سیاست میں ایک پیج پر ہیں اور ان سب کی کو شش ہے کہ حکمرانوں کے خلاف ایکشن نہ ہو کیونکہ ان کو پتہ ہے کہ اسکے بعد دوسری سیا سی پا رٹیوں کے خلاف بھی کرپشن اور بد عنوانی کا احتساب ہوگا ۔ جس کے نتیجے میں باقی ساری سیاسی پا رٹیوں کے خلاف بھی ایکشن ہو سکتا ہے۔ بہر حال میری پاکستان کی محب وطن عوام سے استد عا ہے کہ وہ سیاست ، لسانیت ، علاقہ پر ستی سے بالاتر ہو کر ان ظالموں کے خلاف جنہوں نے پاکستان کو لوٹا ہے اکٹھے ہوجائیں اور ان ظالموں کے احتساب کے لئے ایک ہوجائیں تاکہ پاکستان کے پسے ہوئے عوام سُکھ کا سانس لے سکیں۔ اس وقت جتنی کرپشن پاکستان میں ہوتی ہے ۔سراج الحق کا کہنا ہے کہ پاکستان میں روزانہ کرپشن تقریبا ً 12 اور 13ارب روپے اور سالانہ 5000 ارب روپے ہے جو ہمارے وفاقی بجٹ کے برابر ہے۔پاکستان میں توانائی سے متعلق منصوبو ں جس میں بھا شا ڈیم، داسو ڈیم ، بُنائی ڈیم ،کالابا غ ڈیم ، پتن ڈیم، اور تھاکوٹ ڈیم شامل ہیں کی مجمو عی لاگت 15289 ارب روپے ہے اور اگر ڈھائی سال کے کرپشن پر قابو پالیاگیا تو اس سے ان ڈیموں کو بنا کر اس سے ہزاروں میگا واٹ بجلی حاصل کی جاسکتی ہے۔اس طرح پاکستان میں سالانہ کرپشن پر قابو پاکر پاکستان کے 5 کروڑ جوانوں کو ٹیکنیکل اور ووکیشنل تربیت دے کر اور انکو سمندر پار بھیج کر اربوں ڈالرکا زرمبادلہ کما یا جاسکتا ہے۔ فی الوقت پاکستان کے تقریباً 80 لاکھ پاکستانی سمندر پار ممالک میں خدمت انجام دیکر 20 ارب ڈالر وطن عزیز کو بھیج رہے ہیں۔اس طر ح سالا نہ کرپشن کے پیسوں سے ہم 14 کروڑ لوگوں کو غُربت کی لکیر سے نکال کر آسودہ حال بنا سکتے ہیں۔ پاکستان میں سالانہ کرپشن کے پیسوں سے چھوٹے بڑے تقریباً 4 ہزار ہسپتال بنائے جا سکتے ہیں۔پاکستان کا بیرونی قرضہ تقریباً 7ہزار ارب روپے ہے اور کرپشن کو روک کر دو سال میں ہم پاکستان کا یہ قرضہ اُتار سکتے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کے مطابق ایک لاکھ روپے کی رقم سے ایک جاب کا انتظام کیا جا سکتا ہے لہٰذا ایک سال کی کرپشن اور بد عنوانی کے پیسوں سے براہ راست 5کروڑ پاکستانیوں کی ملازمت اور بالواسطہ 6ممبر کے فیملی کے حساب سے 30 کروڑ لوگوں کے نان نفقے کا انتظام کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں