امداد اور شرائط

امداد اور شرائط

پاکستان امریکہ تعلقات کی داستان ستر برسوں پر محیط ہے۔یہ داستان ''محبت'' پڑھتے ہوئے اُردو شاعری میں محبوب بے وفا کی جتنی صورتیں بیان ہوئی ہیں وہ سب یکایک یاد آجاتی ہیں ۔اُردو شاعری میں محبوب کا بے وفا ہونا' خوبصورت ہونا' ناز و ادا کا حامل ہونا اپنے عاشق سے روا و ناروا نخرے اٹھوانا اور ہر جائز و ناجائز خواہش کو بانداز حکم پورا کروانا خاص طور پر شامل ہے۔ اور سب سے کلاسک عشق و محبت اور عاشق و معشوق کی داستانوں میں فرہاد و شیرین کو جو مقام حاصل ہے وہ پاکستان اور امریکہ کی داستان عشق پر پوری پوری فٹ بیٹھتی ہے۔ہم نے شروع دن سے امریکہ کی محبت میں روس جیسے سپر پاور کو اتنا ناراض اور غضب ناک کیا کہ ایک وقت ایسا آیا کہ روس نے پشاور کے گرد نقشے میں سرخ دائرہ لگا کر اسلام آباد میں اپنے سفیر کے ذریعے ہمارے صدر کو بھجوایا۔ کشمیر پر جتنی حق خود ارادیت کی قرار دادیں ہوئیں سوائے دو تین کے کہ اس وقت حالات واضح نہیں ہوئے تھے اور ہم ابھی امریکہ کے ساتھ اتنا آگے تک نہیں گئے تھے۔ سب سوویت یونین نے ویٹو کردی تھیں۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں اور ظاہر ہے عام اور غریب آدمی کے پاس سوچ اور تصور ہی وہ نعمت خداوندی ہے جس کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ایک اعلیٰ مقام پر دیکھ سکتا ہے۔ اعلیٰ مقام سے میری مراد انسانیت کا مقام ہے اور انسانیت ہی کا تقاضا ہے کہ دوسروں کے لئے بہتر سوچا جائے۔ تو اسی نعمت کے تحت میں سوچتا ہوں کہ اگر روس کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہوتے تو آج سے شاید نصف صدی قبل مسئلہ کشمیر کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق حل ہوچکا ہوتا۔ لیکن امریکہ کے عشق نے پاکستان کے کرتا دھرتائوں کو سوچنے کا موقع کم ہی دیا۔ ویسے بھی عشق میں عقل کام نہیں کرتی کیونکہ عشق تو ایک جنون کا نام ہے اور ظاہر بات ہے کہ جنون میں ایک قدم قریہ افرنگ پہ ہوتا ہے اور دوسرا نجد کے صحرا میں۔اور پھر امریکہ کے عشق میں سیٹو سینٹو کا سفر بھی طے کرلیا اور ہم ہر لحاظ اور ہر قدم پر سرخ رنگ سے بدکنے لگے یہاں تک کہ 1979ء میں ہم نے کھل کر اشتراکی خدا بیزاروں کے خلاف امریکی خدا پرستوں کی چھتری کے نیچے میدان جنگ میں اترے جس کے نتیجے میں سوویت یونین بکھر گیا اور امریکہ ''انا ولاغیری'' (میرے سوئی کوئی نہیں) کا علم لے کر دنیا کا واحد سپر پاور بن کر ارض خداوندی میں دندنانے لگا۔ اس دور میں ہم بھی مصاجت شاہ میں پھولے نہیں سما رہے تھے۔ لیکن پھر شہنشاہ دوراں نے ہمیں اور افغانستان کو تنہا چھوڑ کر اپنی راہ لی۔ اس کے بعد جو طوفان بربادی ہمارے علاقوں پر گزرا اس نے ہماری معیشت' جان و مال' تہذیب و ثقافت اور فن و تعلیم کو ہلا کر رکھ دیا۔ ہم آج بھی اس کے اثرات سے نکل نہیں سکے ہیں اور اس بلا سے جان چھڑانے میں ستر ہزار سویلین' چھ سات ہزار آرمی آفیسرز اور جوان اور سو بلین ڈالر کا معاشی نقصان اٹھا چکے ہیں۔ لیکن ہمارا لاڈلا نازک ا ندام اور ناز نخرے والا محبوب پھر بھی راضی نہیں ہو رہا۔دوسری طرف ہمارے رقیب سے بڑے راز و نیاز بڑھا رہا ہے۔ حالانکہ یہ وہ رقیب روسیاہ ہے جس نے سرد جنگ کے دوران اپنا وزن ہمیشہ امریکہ مخالف پلڑے میں ڈالا تھا۔ لیکن اس کے باوجود آج وہ امریکہ کا چہیتا محبوب اور پاکستان دشمن بن چکا ہے۔ ویسے ہمارا یہ رقیب روسیاہ بہت چالاک' مکار اور سیانا ہے۔ ذرا اندازہ لگائیے کہ کس طرح اپنے آپ کو اپنے پرانے سپر پاور یار سے بھی جوڑے رکھا ہے اور دوسرے کو بھی اپنی بانہوں میں لے کر سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی سے لے کر اعلیٰ ترین دفاعی آلات و اسلحہ تک حاصل کرنے میں کوئی دشواری نہیں دیکھی۔ اور اپنے اسی یار کے کاندھوں کو بطور سیڑھی استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کے آنگن کی یاترا کرکے وہاں سے بھی پاکستان کے لئے آتشیں اسلحہ' ڈرون ٹیکنالوجی اور تیر بہدف تجاویز حاصل کرکے یہ ٹرائیکا (تکون) بجا طور پر بغلیں بجا رہا ہے۔ اس موقع پر کہ پاکستان کی دشمنی میں اس ٹرائیکا نے یہ سچ ثابت کیا ہے کہ یہود و نصاریٰ اور مشرکین مسلمانوں کے کبھی دوست نہیں ہوسکتے۔ بھارت پر ابن انشاء کا یہ شعر کتنا صادق آتا ہے

توڑی جو اس نے مجھ سے تو جوڑی رقیب سے
انشاء تو میرے یار کی اب جوڑ توڑ دیکھ
یہ رام کتھا مجھے اس خبر پر لکھنی پڑی کہ ایوان نمائندگان( کانگریس) نے ایک دفعہ پھر پاکستان کی فوجی امداد پر سخت شرائط عائد کرنے کا بل 81 ووٹوں کے مقابلے میں344 کی بھاری اکثریت سے پاس کیا ہے اور ساتھ ہی بھارت سے دفاعی و تجارتی تعاون بڑھانے کا بل بھی منظور کیا ہے۔ پاکستان کو چالیس کروڑ ڈالر تب ملیں گے جب امریکی وزیر دفاع اس اطمینان کا سند دے گا کہ پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف لڑ رہا ہے اور ا فغان حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہا ہے اور شکیل آفریدی کو آزاد کرنے کے اقدامات کر رہا ہے کیونکہ اسے امریکہ نے اپنا ہیرو ڈیکلیئر کیا ہے۔ کیا اب بھی وقت نہیں آیا ہے کہ ہم سب پاکستانی مل کر وطن عزیز میں صحیح معنوں میں صاف شفاف انتخابات کے ذریعے ایک بہترین دیانت دار افراد پر مشتمل حکومت بنا کر اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو بنیاد بنا کر علامہ محمد اقبال کے فلسفہ خودی سے سر شار ہو کر اپنے پائوں پرکھڑے ہو جائیں اور امریکہ کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات قائم کریں اگر امریکہ چاہتا ہے ورنہ ایران' شمالی کوریا اور کئی ایک کتنے چھوٹے چھوٹے ملک امریکہ کے بغیر بھی جی رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں