مشرقیات

مشرقیات

دوپلنگ ایک ساتھ بچھے ہوئے تھے ۔ ایک پر سلطنت کے قاضی اور بہت بڑے عالم دین یحییٰ بن اکثم سور ہے تھے ۔ دوسرے پلنگ پر مامون الرشید سو رہا تھا ۔ مامون ہارون کا بیٹا تھا ۔ جس دن ہارون خلیفہ بنا اسی دن وہ پیدا ہوا ۔ علم و ادب کی سرپرستی میں وہ اپنے باپ سے بھی آگے تھا ۔ دنیا بھر کے بڑے لوگوں کو اس نے بغداد میں جمع کر لیا ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر انہیں بڑے بڑے انعام دیتا ۔ یہ انعام ہزاروں ، لاکھوں درہم کے ہوتے ۔ اُسے پڑھنے لکھنے کا بڑا شوق تھا ۔ مامون کی سب خوبیوں پر اس کی یہ خوبی حاوی تھی کہ جو اُس سے معافی چاہتا یار حم کی درخواست کرتا وہ اُسے معاف کردیتا تھا۔ وہ خود کہتا تھا مجھے لوگوں کو معاف کرنے میں بڑا سکون ملتا ہے اہل علم کی صحبت کے لئے مامون بے چین رہا کرتا تھا ۔ یحییٰ بن اکثم سے اسے بڑی محبت اورعقیدت تھی ۔ اکثر وہ انہیں اپنے پاس رکھتا تھا ۔یحییٰ بن اکثم اپنے دور کے بہت بڑے عالم تھے جب بھی انہیں اپنے پاس روک لیتا تو اپنے خاص کمرے میں ان کے لئے ایک پلنگ ڈلواتا ۔ ان کی ایک ایک بات غور سے سنتا اور اپنی اصلاح کرتا جاتا ۔ تھے تو یحییٰ بن اکثم اس کے دست گرفتہ لیکن اُن کی وہ ایسی عزت کرتا تھا کہ کیا وزیر و امیر خود اس کی عزت کرتے ہوں گے ۔ حکم ہے اپنے بڑوں ، بزرگوں ، اور اہل علم کی عزت کرو ، حضرت زید بن ثابت بڑے عالم فاضل صحابی تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے ان سے علم حاصل کیا تھا ۔ ایک مرتبہ دیکھاکہ زید بن ثابت اپنے گھر سے نکل رہے ہیں تو دوڑ کر ان کے پاس پہنچے ۔ وہ دروازے سے نکل کر اپنے خچر پر سوار ہو رہے تھے ۔ انہوں نے رکاب تھام لی ۔ حضرت زید بن ثابت کے پیر اس میں رکھے وہ ہاں ہاں کرتے اورمنع کرتے ہی رہے لیکن انہوں نے کہا اہل علم کی اس طرح عزت کی جاتی ہے !حضرت زید نے ان سے کہا کہ آپ بھی تو قابل احترام ہستی ہیں ۔ آپ حضور اکرم ۖ کے چچا کے صاحبزادے ہیں ۔ مگر ابن عباس حضرت زید بن ثابت کے عقید ت منداور ان کے فیض یافتہ تھے ۔ قدر علم کی ہے نسب کی نہیں ۔ حضرت زید بن ثابت کا جب انتقال ہوا تو حضرت عبداللہ بن عباس اس وقت بھی موجود تھے ۔ قبر کے سرہانے کھڑے وہ لوگوں سے کہہ رہے تھے ۔ دیکھو! یہ حضرت زید نہیں علم دفن ہو رہا ہے ۔
مامون کی خواب گاہ میں یحییٰ بن اکثم کا پلنگ پڑا تھا او روہ اس پر سورہے تھے ۔ رات کو سوتے میں مامون کو پیاس لگی ۔ و ہ چپکے سے اٹھا آہستہ سے چلا کہ کہیں حضرت یحییٰ بن اکثم کی نیند نہ ٹوٹ جائے ۔ اور پانی پی کر آہستہ آہستہ دبے پائوں آکر سو گیا ۔ قاضی یحییٰ اس وقت جاگ رہے تھے ۔ انہوں نے مامون کے ادب و احترام کو دیکھا تو بہت خوش ہوئے صبح انہوںنے فرمایا امیر المومنین ! رات کو میں نے آپ کا طرز عمل دیکھا کہ آپ نے میری نیند کا کس قدر احترام کیا ۔حقیقت یہ ہے کہ انہی اخلاق و آداب نے ایک دنیا کو آپ کا گرویدہ بنا دیا ہے ۔ ادب لطف الہٰی کا ایک تاج ہے ۔(روشنی)

متعلقہ خبریں