سنگین شہر پر قبضہ اور ماسکو مذاکرات

سنگین شہر پر قبضہ اور ماسکو مذاکرات

طالبان نے افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر سنگین پر ایک سال سے مسلسل جاری جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ہے۔افغان فورسز کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنگی حکمت عملی کے تحت سنگین سے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ہلمند کے گورنر کے ایک ترجمان نے تصدیق کی کہ پولیس کا ضلعی دفتر اور گورنر کا ہیڈ کوارٹر طالبان کے قبضہ میں ہیں۔افغانستان میں برطانوی فوج کی موجودگی کے دوران برطانوی فوج کو ہونے والے مجموعی جانی نقصان کا ایک چوتھائی سنگین کے محاذ پر ہوا تھا۔حالیہ لڑائی میں سینکڑوں افغان فوجی ہلاک ہوئے ہیں۔سنگین کا علاقہ دفاعی لحاظ سے اہمیت رکھتا ہے۔افغانستان میں ایک جانب جہاں افغان طالبان موسم بہار کے حملوں میں تیزی لا کر دبائو بڑھا رہے ہیں افغانستان کے جنوبی حصے کے ایک اہم شہر پر ایک سال کی مسلسل جنگ کے بعد قبضہ کر لیا ہے وہاں دوسری جانب روس کے شہر ماسکو میں اپریل میں کثیر القومی امن مذاکرات ہونے جارہے ہیں ۔ خیال رہے کہ گزشتہ برس بھی پاکستان، افغانستان، چین اور امریکا نے مل کر امن مذاکرات کا عمل شروع کیا تھا، مگر کابل کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا الزام پاکستان میں چھپے عسکریت پسندوں پر لگانے کی وجہ سے امن مذاکرات کا سلسلہ ناکام ہوگیا تھا۔واضح رہے کہ آئندہ ماہ اپریل میں ماسکو میں ہونے والے مذاکرات کے پیچھے بھی چین، روس اور پاکستان کا کردار ہے۔ان مذاکرات میں افغانستان سمیت بھارت اور ایران بھی شرکت کریں گے، تاہم واشنگٹن نے ان مذاکرات میں شرکت کرنے کے حوالے سے تاحال کچھ نہیں بتایا۔ طالبان عسکریت پسندوں اور پاکستانی حکام کے درمیان ملاقات میں طالبان نے پاکستانی جیلوں سے اپنے ساتھیوں کی رہائی سمیت دیگر مطالبات پیش کیے۔شدت پسند تنظیم داعش کی جانب سے خطے میں قدم جمانے کے خطرے اور طالبان کے ساتھ جنگ کے طول پکڑ جانے کی وجہ سے افغانستان کی خراب سیکورٹی صورتحال کے پیش نظر عالمی برادری نے افغانستان کے لیے ایک پر امن حل تلاش کرنے کی کوششوں کو تیز کردیا ہے۔افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار کے باوجود طالبان رہنمائوں نے متعدد غیر ملکی حکام سے ملاقاتیں کی ہیں اور کئی بار چین کا سفر بھی کیا ہے، جب کہ اب انہوں نے روس اور ایران سے مذاکرات شروع کرنے سمیت جاپان اور یورپ میں ہونے والے اجلاسوں میں بھی شرکت کی ہے۔ان کوششوں سے بظاہر ماسکو اور بیجنگ کو کچھ کامیابی ملی ہے اور اس بات کے اشارے مل رہے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کی جانب سے افغان طالبان رہنمائوں کے نام دہشت گردوں کی فہرست سے خارج کروانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔خیال رہے کہ امن مذاکرات میں حصہ بننے کے لیے اقوام متحدہ کی دہشت گرد فہرست سے ناموں کا اخراج افغان طالبان کا دیرینہ مطالبہ ہے۔اسلام آباد میں ہونے والے اجلاس میں افغان طالبان کی قیادت ملا محمد عباس نے کی، جو جولائی 2015ء میں افغان حکومت کے ساتھ براہ راست پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا حصہ تھے۔ 2سال قبل ہونے والے ان مذاکرات کو اس وقت اچانک ختم کرنے کا اعلان کیا گیا، جب طالبان رہنما ملاعمر کی ہلاکت کا واقعہ پیش آیا۔ایک ایسے وقت میں جبکہ افغانستان میں داعش کی سرگرمیوں میں بھی شدت آرہی ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نئی مشکل کا مقابلہ کرنے کیلئے طالبان سے مذاکرات کے ذر یعے معاملے کا حل نکالا جائے تاکہ داعش کے مقابلے کیلئے یکسوئی حاصل ہو۔ افغان طالبان افغان ملت ہی کا حصہ ہیں ان سے سوائے مذاکرات کے ذریعے معاملت کے کوئی دوسرا حل نہیں۔ جہاں تک دفاعی لحاظ سے اہم شہر سنگین پر قبضہ کا تعلق ہے اس پر قبضہ کر کے طالبان نے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ افغانستان میں طاقت اور اثر و رسوخ کی حامل قوت ہیں جس کو نظر انداز کرنا مشکل ہے جبکہ ایک اہم دفاعی شہر کے طالبان کے قبضے میں جانے کو افغان نیشنل فورس کی دفاعی قوت کی کمزوری سے تعبیر کرنا غلط نہ ہوگا ۔ بہتر ہوگو کہ افغانستان کی حکومت اپنے داخلی معاملات میں بہتری لانے کیلئے ماسکو مذاکرات میں مثبت رویہ اپنائے اور امریکہ کو بھی چاہیئے کہ وہ بھی اس ضمن میں مثبت کردار کا مظاہرہ کرے تاکہ افغانستان کے دیرینہ اور گنجلک مسئلے کا کوئی ایسا حل نکالا جاسکے جو تمام فریقوں کیلئے قابل قبول ہو ۔ افغان حکمرانوں کو اس امر کا ادراک ہونا چاہیئے کہ افغانستان میں قیام امن کیلئے ان کو دوسروں کے ہاتھوں کھیلنے کی بجائے اپنے فیصلے آپ کرنے ہونگے اور یہ اس وقت ہی ممکن ہوگا جب وہ داخلی طور پر اس قابل ہوجائیں کہ ان کو بیرونی قوتوں کی بیساکھی کی ضرورت نہ رہے۔ ایسا تب ہی ہوگا جب وہ داخلی مزاحم قوتوں کے ساتھ معاملت کر کے ان کے تحفظات دور کریں گے۔ اس کے بعد ہی ان کو داخلی انتشار کی کیفیت سے نجات مل جائے گی اور وہ اپنے فیصلے آپ کرنے کے قابل ہو سکیں گے ۔ جب تک افغان عوام اور حکومت اپنے داخلی فیصلے آپ کرنے کی منزل کو نہیں پہنچتے ان کیلئے موجودہ صورتحال سے نکلنا ممکن نہ ہوگا ۔

متعلقہ خبریں