وزیراعلیٰ کی حیات آباد کے مسائل کے حل کی یقین دہانی

وزیراعلیٰ کی حیات آباد کے مسائل کے حل کی یقین دہانی

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کی جانب سے حیات آباد کے رہائیشیوں کے مسائل کے حل کی یقین دہانی خوش آئند امر ہے ۔ سیف حیات آباد سٹی کے منصوبے کے تحت بائونڈری وال کی جولائی تک تکمیل ایک اہم قدم ضرور ہوگا لیکن صر ف دیوار کی تکمیل کافی نہ ہوگی بلکہ اس دیوار کی حفاظت اور جگہ جگہ سے سوراخ اور کانٹا تار توڑ کر بنائے گئے راستوں کو بند کرنے کو یقینی بنانا ہوگا ۔ ہمارا مقصد قبائلی بھائیوں کی آمد ورفت کی روک تھام ہرگز نہیں بلکہ ہماری تجویز ہوگی کہ ان کیلئے آمد ورفت کا باعزت طریقہ کار اپنایا جائے ان کیلئے مقررہ گزرگاہوں کا بندوبست کر کے دیوار پھلانگنے اور دیوار سے اینٹیں ہٹا کر یا کانٹا تار کاٹ کر غیر قانونی او رغیر اخلاقی و مشکوک آمدورفت کی ضرورت ہی ختم کی جائے ان کیلئے مقررہ گزر گاہوں کا بندوبست اور تعین کے بعد باقی دیوار کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے۔ اس ضمن میں ملحقہ علاقوں کے عمائدین سے ضمانت بھی لی جائے کہ وہ بھی چار دیواری کا احترام کرانے میں اپنا کردار ادا کریں گے ۔ حیات آباد کیلئے ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولت کے ضمن میں مجوزہ میٹرو منصوبے کے ساتھ روٹس حیات آباد سے گزارنے کا وعدہ بصورت تکمیل احسن ہوگا اس منصوبے پر عملدر آمد کی مشکلات اور وقت طلب ہونے کے باعث اگر پی ڈی اے رہائیشیوں کی سہولت کیلئے شٹل سروس اور حیات آباد کے مختلف فیزوں کے درمیان معیاری ٹرانسپورٹ کے اجراء کے مختصر مدت کا کوئی منصوبہ بنا کر اس پر عمل در آمد کرائے تو حیات آباد میں ٹیکسیوں کی بھر مار سے نجات مل جائے گی اور عوام کو سستی اور معیاری آمدورفت کی سہولت بھی میسر آئے گی ۔ حیات آباد میں گرانفروشی کی روک تھام کیلئے ہر مارکیٹ یاپھر ہر دو تین مارکیٹوں کے درمیان دن کے مختلف اوقات میں نگرانی کے فعال اور با اختیار عملے کی تعیناتی ہی موزوں حل نظر آتا ہے ۔ باغ ناران اور تاتارا پارک میں ایک ایک دن فیملی کیلئے مختص کرنے کی تجویز بھی مناسب ہے ۔حیات آباد میں بعض سڑکوں کی تعمیر میں پانی کے بہائو کے عمل کو مد نظر نہیں رکھا گیا ہے جس کے باعث سڑکوں پر پانی کھڑا رہنے کے باعث سڑکیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہورہی ہیں ۔ٹوٹ پھوٹ کے اس عمل کی روک تھام کیلئے سڑکوں کی بھرائی کر کے قدرے ڈھلان بنائے جائیں تاکہ سڑکیں خشک رہیں اور شکست و ریختگی کی نوبت نہ آئے ۔
اونٹ پہاڑ کے نیچے اب آیا
سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی اسد قیصر پر عائد الزامات کی تحقیقات مکمل ہونے تک ان کو عہدے سے ہٹانے کی حزب اختلا ف کی سعی سیاسی قدم قرار دیا جا سکتا ہے۔ تحریک انصاف بد عنوانی اور اختیارات کے غلط استعمال کے باعث عہدہ چھوڑنے اور تحقیقات کی تکمیل تک عہدے سے الگ رہنے کے مطالبات کی بانی اور داعی رہی ہے گوکہ پاکستان میںاس کی نظیر نہیں لیکن چونکہ خود تحریک انصاف ہی اس موقف کا سب سے زیادہ اظہار کرتی رہی ہے اس لئے اس پر عملد رآمد کی اخلاقی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے ۔قطع نظر حزب اختلاف کی جماعتیں اس ضمن میں خیبر پختونخوا اسمبلی میں کیا لائحہ عمل اختیار کرتی ہیں اور ایوان میں سپیکر کی کرسی پر بیٹھے ہوئے اسد قیصر کو کن الزامات اور کس قسم کے مسائل اور حالات کا سامناکرنا پڑتا ہے ۔ اگر اسد قیصر خود کو اور اپنی جماعت کو اس ناخوشگوار صورتحال سے بچانا چاہتے ہیں تو ان کو اس امر پر سنجید گی سے غور اور عمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ اگر تحریک انصاف بطور جماعت اپنے ہی الفاظ اور مطالبات کی لاج رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے تو جماعتی قیادت کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اسد قیصر کو الزامات کی تحقیقات اور اس کے نتائج آنے تک عہدے سے استعفے دے دیں یا کم از کم اسمبلی اجلاس کی صدارت نہ کرنے کا اعلان کریں ۔ ہمیں اسی امر کا بہرحال ادراک و احساس ہے کہ فی الوقت معاملات الزامات کی حد تک ہیں جو جب تک ثابت نہ ہوجائیں کوئی بھی بات حتمی طور پر کہنا اور قرار دینا مناسب نہ ہوگا۔ ان الزامات کا سپیکر نے میڈیا میں دفاع بھی کیا ہے مگر الزامات کے حقیقی و غیر حقیقی ہونے تک ان کی پوزیشن مشکوک ضرور ہو گئی ہے ۔سپیکرجیسے باوقار عہدے کے دامن پر الزامات سے نہ صرف اس عہدے بلکہ خیبر پختونخوا اسمبلی کا وقار بھی دائو پر لگ گیا ہے۔ جو انگلی اب تک دوسروں پر اٹھتی رہی ہے اب اس انگلی کا اشارہ برداشت کرنا اور اس کردار کا مظاہر ہ کرنا جس کا تقاضا دوسروں سے کیا جاتا رہا ہے مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ حکمران جماعت آخر کب تک اسمبلی کا اجلاس بلانے میں مزاحم رہے گی اورحزب اختلاف کے ریکوزیشن کردہ اجلاس کو کیسے روک پائے گی۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اسمبلی کا اجلاس بلا کر اس مرحلے سے بھی گزر جائے اس کے حق میں بہتر یہی ہوگا کہ حزب اختلاف کے مطالبے کو تسلیم کرے اوراس کو اعتراض و تنقید کا سنہری موقع نہ دے ۔

متعلقہ خبریں