کچھ تو ہو نا چاہیے انسان میں

کچھ تو ہو نا چاہیے انسان میں

مودی حکومت بھارتی آئین کے تحت بھی اخلا قی طورپر بھی ، اور قانو نی لحاظ سے بھی اس امر کی پابند ہے کہ وہ اقوام بھارت کے ما بین اخوت ، مودت اور بھا ئی چارہ کے استحکا م اور فروغ کی پا بند ہے مگر جب سے مو دی حکومت قائم ہو ئی ہے تب سے اقلیت خاص طورپر مسلم جو دراصل بھا رت کی دوسری بڑی اکثریت ہے کدورت کا شکا ر ہو رہی ہے ، مسلمانوںپر الزام لگا یا جا رہا ہے کہ وہ غیر ملکی ہیں اور انہو ں نے باہرسے آکر ہم پر حکومت کی ہے وغیر ہ وغیر ہ۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا کبھی نہیں ہو ا بلکہ مسلمانوں کا دور حکومت بھا ئی چارے ،مذہبی ہم آہنگی کا شکا ر زما نہ قر ار پا تا۔ ہے یہ کدورتیں انگریز نے پید ا کیں جن کے انتہا پسند ہندو سہو لت کا ر بنے تھے ۔ اگر مو دی کی یاد داشت کمزور ہے یابحیثیت حکمر ان وہ تاریخ سے بھی تاریکی میں ہیںتو ان کو معلوم ہونا چاہیے کہ مسلما نو ں کے دور حکومت میں کبھی بھی مذہبی فسادات نہیں ہو ئے۔

یہ فسادات انگریز یا پھر بھا رت کے قیا م کے بعد ہوئے ہیں۔ مسلمانو ں کے دورمیں پو ری ہم آہنگی پائی جا تی تھی۔ اس امر کا اند ازہ اس تاریخی حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اکبر بادشا ہ جس کو ہند و بڑے فخر سے مغل اعظم کہتے ہیں اس نے اسی مذہبی ہم آہنگی پید اکر نے کے لیے دین الہٰی ایجا د کر دیا تھا ، حکمر انی میں جو دھا بائی کو اہمیت حاصل تھی ۔ ہمایو ں مغل بادشاہ کے دو ر میں کئی اہم ترین عہد ے ہندوؤں کے پا س تھے ۔جب مرہٹوں نے خلد ی گھاٹی پر حملہ کیا تو اس وقت اکبر میدان جنگ میںمو جود نہ تھا بلکہ اس کے سپہ سالار کی قیا دت میں فوج گھاٹی میں صف آراء تھی اور اس فوج کا کما نڈر ان چیف کوئی مسلمان نہیں تھا بلکہ ہندوتھا جس کا نا م تاریخ میںبہت نما یا ں طورپر آیا ہے ، یعنی راجا مان سنگھ ۔ اس راجہ مان سنگھ کا ڈپٹی کما نڈر شہزاد سلیم تھا جس کو دنیا شہنشاہ جہا نگیر کے نا م سے جا نتی ہے۔ایک طر ف اکبر کی فوج تھی دوسری طر ف مر ہٹہ سردار رانا پر تاب سنگھ کی فوج کھڑی تھی جس کا سپہ سالار مسلما ن حکیم خان سر تھا دونو ں فوجوں میں مسلمان بھی اور ہند ؤ بلکہ دوسرے مذاہب کے سپاہی بھی موجو د تھے ، انگریز سے پہلے جتنی بھی جنگیں ریاستوں کے درمیان ہوئی ہیں وہ سب مذہب کی بنیا د پر نہیں بلکہ بادشاہو ں ، نو ا بوں ، مہا راجوں اور جا گیر داروں کے ما بین ہوئی ہیں ان میں مذہبی منافرت نہیں تھی ۔ ٹیپو سلطان ہند وستان کا واحد حکمر ان ہے جس نے انگریز وں کی غلا می سے نجا ت حاصل کرنے کی غرض سے اپنی جان کی شہا دت دی ، اس سے پہلے اورنہ بعد میںکسی راجہ ، نو اب یا با دشاہ نے انگریز و ں کے ساتھ آزادی کی جنگ لڑی ، اسی وجہ سے سارے ہندوستان میں ٹیپو کو عزت کی نگا ہ سے دیکھا جا تا ہے۔ ہندوٹیپو سلطان کو مہا راجہ تسلیم کرتے ہیں اور کہتے بھی ہیں تاریخ کے حوالے سے بات کی جا ئے تو معلو م ہو تا ہے کہ ایک مر تبہ مر ہٹو ں نے ٹیپو سلطان کی راجدھا نی سرنگا پٹم پر حملہ کیا لیکن ان کو سخت مزاحمت کا سامنا کر نا پڑ ا، جنگ بے نتیجہ رہی چنانچہ مرہٹہ فوج جو ما یو سی کا شکا ر ہو ئی تھی کہ وہ سرنگا پٹم فتح کیے بغیر واپس جا رہے ہیں تو انہوں نے جا تے ہوئے سرنگاپٹم کا ایک مند ر مسما ر کر دیا ، یہ غصہ مسلمانوں کے لیے نہیں تھا بلکہ شدید مزاحمت اور ناکامی کی بنا ء پر تھا ، لیکن یہاںیہ بات انتہائی قابل غور ہے کہ مر ہٹہ فوج جس مند ر کو مسما ر کر گئی تھیںاس کی مر مت ٹیپو سلطا ن نے کرا ئی اس میں ہند و دھر م یا اسلا م کی بات نہیں تھی بلکہ ٹیپو سلطان نے ریا ست کے سربراہ کی حیثیت سے اپنا فرض نبھایا ، اب بھلا کوئی مو دی سے پو چھے کہ کیا وہ ان تاریخی حقیقتو ں کو جھٹلا سکتے ہیں کوئی ایک واقعہ انگریز وں سے پہلے کا بتا دیں جب وہاں مسلمان حکمر ان تھے مذہبی منا فر ت کی بنیا د پر فتنہ فساد کا مو جب بنا ہو ۔یہا ں تو یہ صورت حال ہے کہ خود ہی اکبر بادشاہ کو مغل اعظم کا خطاب دینے والے اس پر فخر کر نے والے حتیٰ کہ اس کی عظمت کو اجا گر نے کے لیے فلمیں تک بنائی جا تی ہیں جن میںاسے دوفلمیں تو یا د گار فلمیں بن گئیں ایک مغل اعظم دوسری انا رکلی ۔ پشاور کے رہنے والے اداکا ر پرتھوی راج نے مغل اعظم میںاکبر کا کردار اداکر کے اسے لا فانی بنا دیا۔ اب مو دی کی حکومت یہ حرکت کر رہی ہے کہ دہلی میں ایک شاہر اہ کا نام اس مغل باد شاہ کے نا م پر شاہر اہ اکبر ہے تبدیل کر کے رانا پر تاب رکھ دیا جا ئے ، اس بارے میں کہا جا رہا ہے کہ ہما را ہیر و اکبر نہیں بلکہ رانا پر تا ب ہے۔ یہ وہی پر تا ب ہے کہ جس نے اکبر سے ٹکر لی تھی اور اس کی فوج کا کمانڈر انچیف حکیم خان سر تھا ۔ خو د مو دی تاریخی حقائق کو الٹ پلٹ کر رہے ہیں ، جس کا کوئی فائد ہ نہیں ہے۔ سچ ہی سچ ہوتا ہے ریا ستی انتخابات کے لیے جب وہ ممبئی گئے تھے تو انہوں نے ووٹ لینے کے لیے اپنی تقریر میں تاریخ کو مسخ کیا اور کہا کہ شیو اجی نے اورنگ زیب بادشاہ کا خزانہ لوٹنے کے لیے سورت پر حملہ کیا تھا بھلا مو دی جی سے کوئی تاریخ دان یہ استفسار کرے کہ اورنگ زیب عالمگیر کا خزانہ دہلی میں تھا سورت میں کیا کررہا تھا مگر ووٹ اورکدورت کے لیے منہ سے کچھ بھی بول دیاجا سکتا ہے ۔ جنو بی ہند میںشیو اجی بہت پسندید ہ شخصیت ہیں جب ایک دفعہ ا نہو ں نے سورت پر حملہ کیا تو اپنی فوج کو تین نصیحتیں کیں ایک یہ کی کہ سورت کے راستے میں حضرات با با کی درگا ہ ہے اس کو قطعی نقصان نہ پہنچے ، اور کچھ قیمتی اشیا دیتے ہوئے کہاکہ ان کی طرف سے درگا ہ پربھینٹ چڑھادینا ، دوسری نصیحت یہ کی کہ سورت میں فادر امبروز کا آشرم ہے اس کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے تیسرینصیحت یہ تھی کہ لوٹ ما ر کے دوران اگر کسی کی کوئی مذہبی شے ہا تھ آجائے تو وہ اس کو واپس کر دینا ، اب بولیں کہ یہ لڑائی مذہبی تھی یا راج کی وسعت کے لیے تھی۔ شیواجی کی فو ج میں بارہ کے قریب فوجی کما نڈر مسلمان تھے ۔(ختم شد)

متعلقہ خبریں