بڑھتے ہی جارہے ہیں اندھیروں کے سلسلے

بڑھتے ہی جارہے ہیں اندھیروں کے سلسلے

میاں صاحب اگر مشرف کی جانب سے انڈر ہینڈڈیل کی تفصیل بھی بتا دیتے تو بات ذرا اورکھل جاتی مگر انہوں نے صرف اتنا ہی کہنے پر اکتفا کیا کہ اس ''کوشش ''کو میں نے انکار کر کے مسترد کیا جس کے بعد میاں صاحب کو بمع خاندان کے نہ صرف جلا وطنی پر مجبور ہونا پڑا ، بلکہ جب انہوں نے واپسی کی کوشش کی تو جنرل مشرف نے اسے بھی ناکام بنا دیا ۔ اور اب بقول میاں صاحب کے آج پرویز مشرف چاہنے کے باوجود پاکستان نہیں آسکتے یہی مکافات عمل ہے ۔ اس سارے معاملے کا ایک اور پہلوبھی ہے جس کو '' بین السطور '' پر کھا جا سکتا ہے مگر اس کیلئے تھوڑی سی گہری نظر کی ضرورت ہے ، اور وہ یہ کہ جب جنرل مشرف کا نام ای سی ایل سے نکال کر باہر چلے جانے کی اجازت ملی تو میاں نواز شریف کی حکومت پر بڑے اعتراضات کئے گئے بلکہ حکومت کو شدید تنقید کی سان پررکھا گیا ۔ مگر غور سے دیکھا جائے کہ میاں نواز شریف نے ایک تیر سے دو شکار کرنے کی کامیاب کوشش کی ، یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں اور مشرف نے عدالت کے ساتھ اپنے مقدمات کے حوالے سے پیش ہونے میں جو چالاکیاں بلکہ ڈرامہ بازیاں کیں وہ ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے ، موصوف نے اپنی '' بیماریوں '' کا ڈھونگ رچا کر جس طرح ہسپتال میں پناہ لیے رکھی اور عدالت کا مذاق اڑا کر یہ تاثر دیا کہ '' کیچ می اف پوکین ''۔ وہ بڑے فخریہ انداز میں یہ تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہے کہ ہے کوئی جو میرا کچھ بگاڑ سکے ، یعنی کر لو جو کرنا ہے ، اس صورتحال سے جان چھڑا نے کا مناسب طریقہ یہی سو جھا حکومت کو کہ اس آنکھ مچولی سے بہتر ہے کہ موصوف کو باہر جانے دیا جائے اور خود اطمینان سے حکومت کی جائے ۔ جبکہ د وسرا پہلو اس معاملے کا یہ ہے جس کی جانب میاں نواز شریف نے یہ کہہ کر اشارہ کیا ہے کہ یہی مکافات عمل ہے ۔ اگرچہ اس وقت حکومت پر تنقید کو کسی نہ کسی حد تک برداشت کیا گیا مگر وضاحت کی حقیقی صورت سامنے نہیںآسکی تاہم جو ترپ چال میاں نواز شریف نے کھیلی اس کا صحیح اندازہ اب کیا جا سکتا ہے ، جنرل مشرف نے ملک سے باہر نکلتے ہی وہی کیا جو طویل قید سے رہا ہو کر بندہ آزادی کی فضا میں سانس لیتے ہی بے اختیار کرتا ہے ، اور ملک کے اندر جن بیماریوں کا مو صوف نے ڈھنڈورہ پیٹنے میں کئی لوگوں کو ساتھ ملا یا تھا خصوصاً میڈیکل سرٹیفکیٹس جاری کرنے والوں کی مدد سے جن بیماریوں کی تشہیر کی تھی ان کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے جنرل صاحب نے تقاریب میںان بیماریوں کو جھوٹا ثابت کیا اور ''ٹھمکے ''لگائے۔ اس کے بعد اگر موصوف واپس بھی آگئے (ان کی واپسی پر کوئی پابندی بھی نہیں ہے ) تو دوبارہ جھوٹے بہانوں سے وہ عدالت کے سامنے پیشی سے کسی بھی طور انکار نہیں کر سکیں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ اب وہ مختلف ٹی وی چینلز پر انتخابات میں حصہ لینے کا عندیہ دیتے ہوئے حساس اداروں سے تحفظ کے مطالبات بھی کر رہے ہیں ۔اس لئے اب دیکھتے ہیں کہ جنرل مشرف جال کو کیسے توڑ کر ملک میں ''بہ حفاظت '' آسکتے ہیں ۔

یہ ڈرامہ دکھائے گا کیا سین
پردہ اٹھنے کی منتظر ہے نگاہ
مردم شماری پر کئی سوال اٹھائے جارہے ہیں ، پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے عدالت کی راہ لی ہے ، اگرچہ پشاور اور کراچی میں سکھ برادری نے بھی فارم میں سکھ برادری کا خانہ شامل نہ کرنے کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کا راستہ اپنا یا ہے ، تاہم پیپلز پارٹی کے سینٹر فرحت اللہ بابر جیسے انتہائی پڑھے لکھے شخص نے جس غلا مانہ ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے اس پر کف افسوس ملنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ۔ انہوں نے کہا ہے کہ مردم شماری کا عمل سندھ کے اصل باسیوں کو کم دکھانے کی سازش ہے ، ہمارا موقف ہے کہ صرف پاکستانی اور سند ھ کے اصل رہائیشیوں کو گنا جائے ، غلط اندراج کی صورت میں دوبارہ معلومات فراہم کرنے کی اجازت ہونی چاہیئے ، جبکہ دوہری اور تہری رجسٹریشن کو روکنے کیلئے بھی اقدامات کئے جائیں ۔ موصوف کی باتیں ویسے تو درست ہیں مگر جس ذہنی غلامی کی جناب ہم نے اشارہ کیا ہے وہ ان کا صرف سندھ کے باشندوں کو کم دکھانے کے حوالے سے ان کے بیان کے حصے پر ہے ، کیونکہ وہ خود تو پیر پیا ئی ، خیبر پختونخوا کے رہنے والے ہیں مگر زرداری کی غلامی کا دم بھرتے ہوئے انہیں سندھ کا غم تو لگاہوا ہے مگر خیبر پختونخوا کی کوئی فکر نہیں ہے ، حالانکہ خیبرپختونخوا کی دیگر سیاسی قیادت بھی اس مردم شماری کے حوالے سے اتنی ہی مشوش ہے جتنی تشویش بابر صاحب کو سندھ کے بارے میں ہے ۔
آوارگی میں حد سے گزرجانا چاہیئے
لیکن کبھی کبھار تو گھر جانا چاہیئے
پاکستان اور سوئس بینک میں معلومات کا معاہدہ اب اپریل میں ہونے کی اطلاعات آرہی ہیں ۔معاہدے پر دستخطوں میں تاخیر کا مطلب یہی دکھائی دیتا ہے کہ چوروں کو مزید کچھ دنوں کی مہلت مل جائے گی اور جب پاکستان اور سوئس حکومت کے مابین یہ معاہدہ طے پا جائے گا تو پاکستان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا ۔ کیونکہ تب تک سوئس بنکوں کے اکائونٹس خالی کئے جا چکے ہوں گے ، یا پھر مزید آف شور کمپنیوں کے قیام کی کوششیں کامیاب ہو چکی ہوں گی ۔
امید کیا دلائیں کسی کو بہار کی
حد نظر تلک ہیں خزائوں کے سلسلے
دیکھا ہے آفتاب کا چہرہ بجھا ہوا
بڑھتے ہی جاتے ہیں اندھیروں کے سلسلے

متعلقہ خبریں