اپنے مستقبل کے لئے ہم بھی کوشش کریں

اپنے مستقبل کے لئے ہم بھی کوشش کریں

تئیس مارچ کی پریڈ دیکھنا مجھے بہت اچھا لگتاہے۔ ہر سال اس پریڈ کو دیکھتے ہوئے میں اس وقت سے نکل کر اس وقت میں پہنچ جاتی ہوں جب ٹی وی کے سامنے بیٹھے ہوئے ہر اللہ اکبر کے نعرے پر ہم بھی اللہ اکبر کے نعرے لگایا کرتے تھے۔ جذبوں سے دل یوں دھڑکا کرتے تھے کہ شاید اسی وقت کوئی اپنے ملک کے لئے جان مانگتا تو ہم بنا کچھ کہے جان دے دیتے۔ آج بھی اپنے وطن کے حوالے سے جذبے اسی طور پر جوان ہیں۔ یہ وطن ایک عجب محبت کو دلوں میں جنم دیتا ہے۔ ایک ایسی محبت جو خون کے بہائو کے ساتھ ساتھ ہمارے جسموں میں دھڑکتی ہے۔ ہمارے قلب کو گرماتی رہتی ہے۔ یہ وہ محبت ہے جو ہمارے بنا کہے ہی ہمارے بچوں میں منتقل ہو جاتی ہے۔ جب وہ بڑے جذبے سے آکر یہ بتاتے ہیں کہ ایک بھارتی نے فیس بک پر ایک پیغام دیا ہوا تھا جس میں اس نے پاکستان کے حوالے سے عجیب و غریب باتیں اور بد تمیزی کی تھی۔ اس کی باتوں پر میں نے اسے ایسا لا جواب کردیا کہ پھر وہ کچھ کہہ نہیں پا رہا تھا۔ جب اس نے پاکستان کے حوالے سے کہا کہ پاکستان کی فوج میں کوئی قابلیت نہیں تو میں نے اسے جواب دیا کہ پاکستان کی فوج کی قابلیت کا اندازہ کرنے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ1965ء کی جنگ میں ایم ایم عالم کی کارکردگی کو دیکھ لیا جائے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ایم ایم عالم کی کارکردگی پر ہی تم نے کیوں بات کی۔ تو اس نے بتایا کہ اس بھارتی شخص نے ان کا ذکر کیا تھا کہ ایم ایم عالم پانچ گھنٹے تک اپنے جہاز کا انجن ہی سٹارٹ نہیں کرسکے تھے۔ اس کے جواب میں میں نے اسے کہا '' کہ ایم ایم عالم وہ شخصیت ہیں جنہوں نے پانچ انڈین فائٹر جیٹ' ایک منٹ سے کم وقت میں مار گرائے تھے اور یہ وہ کمال ہے جو کوئی بھارتی آج تک ماسوائے اپنی فلموں کے نہیں کرسکا۔ ایم ایم عالم کا یہ اعزاز در اصل ان پانچ بھارتیوں کے باعث ہے جنہوں نے ایم ایم عالم کے ہاتھوں جہنم واصل ہو کر ایم ایم عالم کو یہ اعزاز بنانے کا موقع دیا۔'' ان جوابوں کے بعد میں نے اسے کہا کہ اگر کسی کو یہ معلوم کرنا ہو کہ ایم ایم عالم نے کیا کیا تو اس کی تفصیل یہ ہے۔ستمبر1965ء کو ایک Hawker hunter جسے ایک بھارتی سکواڈ رن لیڈر اجیت کمار اڑا رہے تھے مار گرایا۔ 7ستمبر کے تاریخی دن کو پانچ Hawker hunter طیارے مار گرائے۔ ان کے پائلٹ' سکواڈرن لیڈر اونکرناتھ' سکواڈرن لیڈر اے پی دیوایا' سکواڈرن لیڈر سریش بھگوت' فلائٹ لیفٹیننٹ بی گوہا اور فلائنگ آفیسر جگدیو سنگھ برار تھے۔ سولہ ستمبر کو ایک اور ہاکرہنٹر مار گرایا جسے فلائنگ آفیسر فروق دارا بنشا اڑا رہے تھے۔

اپنے بیٹے کی یہ باتیں میرے لئے جہاں حیران کن تھیں وہیں روح افزاء بھی تھیں کہ اس نے اس ملک کی محبت کا دیا اپنے دل میں جلا رکھا ہے اور یہ بات صرف اسی تک کہاں محدود ہے۔ اس ملک کی نئی نسل ہمیں اس سے کتنی بھی شکایتیں ہوں ہمیں ان کے لہجوں میں کتنی بھی بے باکی محسوس ہوتی ہو۔ یہ لگتا ہو کہ وہ اس طرح کے نہیں جیسے ہم ہوا کرتے تھے۔ اس کے با وجود ان بچوں کے خون میں بھی اس ملک سے اتنی ہی محبت ہے جتنی ہمارے خون میں ہوا کرتی تھی۔ اور شاید یہ بچے ہم سے زیادہ آگاہ ہیں۔ یہ کھلے دل کے لوگ ہیں' دشمنوں کو جینے کا حق دینا چاہتے ہیں لیکن کسی دشمن کے سامنے آکر کھڑے ہو جانے سے خوفزدہ نہیں۔ انہیں یہ بخوبی اندازہ ہے کہ انہیں کسی کے بھی آزادی اظہار رائے کا خیال رکھنا ہے اور انہیں یہ بھی معلوم ہے کہ دوسروں کی آزادی کی حد بھی اتنی ہی ہونی چاہئے جہاں سے ان کی ناک شروع ہوتی ہے۔ ہم نے انہیں سمت نہیں دکھائی شاید اسی لئے انہیں یہ معلوم نہیں کہ اپنے ملک سے محبت کے اظہار کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس ملک میں رہ کر اس کی خدمت کی جائے لیکن یہ وہ بچے ہیں جن کی کتنی ہی آزادی ہم نے سلب کر رکھی ہے اور یہ کمال بچے شکایت نہیں کرتے۔ یہ بچے ہماری طرح اپنی گلیوں میں نہیں کھیل سکتے۔ یہ ہماری طرح آزادی سے سڑکوں پر سائیکل نہیں چلا سکتے۔ یہ بچے شام کو بونوں کی تلاش میں نہیں نکل سکتے۔ یہ بچے معاشرے کی خدمت کے لئے اپنی گلی بھی صاف نہیں کرتے۔ یہ بچے اکیلے سکول جاتے ہیں تو مائیں جگر تھام کر بیٹھی رہتی ہیں۔ ان بچوں کو یہ بھی معلوم ہے کہ اگر سکول میں دہشت گرد گھس آئیں تو ان گنت بچے مارے جا سکتے ہیں۔ ان بچوں کو معلوم ہے کہ پھر ان کے پاس بے بسی سے جان دینے کے علاوہ کوئی چارہ نہ ہوگا۔ انہیں معلوم ہے کہ یہ کسی شاپنگ مال میں محفوظ نہیں' کسی پارک میں محفوظ نہیں۔ کیونکہ لاہور کے علامہ اقبال پارک کا دھماکہ ان کی یادداشتوں میں محفوظ ہے۔ یہ بچے پھر بھی ہم سے شکایت نہیں کرتے۔ یہ ہمیں کسی بات کا طعنہ نہیں دیتے۔ یہ ہماری مجبوریوں سے واقف ہیں اور اس ملک کی بے بسی بھی دیکھ رہے ہیں۔ یہ کمال بچے ہیں ہمیں یہ بھی نہیں کہتے کہ قومیں تو اپنی بقاء کی' اپنے مستقبل کی حمایت کیا کرتی ہیں۔ آپ تو ایک قوم نہ بن سکے' مستقبل کی حفاظت کیسے کریں گے۔ وہ یہ بھی نہیں کہتے کہ انہیں اس ملک میں ایک محفوظ مستقبل کی ضرورت ہے۔ وہ ہم سے کچھ نہیں مانگتے اور ہمارے آنگنوں میں چہکتے رہتے ہیں۔ وہ ہم سے کچھ نہیں کہتے اور ہمارے دلوں کو روشن کرتے رہتے ہیں۔ تئیس مارچ کی پریڈ دیکھ کر وہ آج ہماری ہی طرح اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے ہیں اور اپنے وطن کی محبت میں سرشار ہیں۔ یہ بچے کتنے اچھے ہیں اور ان کی وجہ سے ہمارا مستقبل محفوظ ہے۔ کاش کہ اس سب کے لئے ہم بھی کچھ کوشش کریں۔

متعلقہ خبریں