دنیا پر کتابوں کی حکمرانی

دنیا پر کتابوں کی حکمرانی

ہمارے دور کا یہ ایک بہت ہی اہم سوال ہے کہ ہمارے طلبہ کتاب سے کیوں دور ہیں؟ کتاب سے دوری نے ہمارے معیار تعلیم کو کہیں کا نہیں رکھاکل ہمیں آرکائیوز پبلک لائبریری جانے کا اتفاق ہوا تو یقین کیجیے اتنے بڑے کتب خانے میں صرف دو طالب علم کتاب پڑھتے نظر آئے ۔ان میں سے بھی ایک صاحب سیل فون پر پیغامات بھجوارہے تھے دوران مطالعہ بھی انہیں سیل فون سے فرصت نہیں تھی۔ دو چار برس پہلے اسی لائبریری میںہماری ملاقات میاں سعید سے ہوئی تھی جن کی ساری عمر کتابیں پڑھتے ہی گزری بیاسی سالہ میاں سعید اس وقت کسی چالیس سالہ شخص کی طرح چاک و چوبند تھے ان کا ایک قدم مشرق وسطیٰ میں تو دوسرا پشاور اسلام آباد لاہور یا کراچی میں ہوتا تھا۔ جب وہ پاکستان سے رخصت ہو رہے تھے تو انہوں نے پانچ ہزار کتابیں پشاور یونیورسٹی کی لائبریری کو عطیہ کیں۔ ایک ہزار کتابیں پبلک لائبریری کو دیں اور کچھ کتابیں ساتھ لے گئے۔وہ اکثر طلبہ کو یہی کہتے تھے کہ کتاب کے ساتھ دوستی کر لو یہ بہت ضروری ہے وہ اکثر اپنی مثال دیتے کہ واجبی سی تعلیم ہے لیکن یہ کتاب دوستی ہی کا اعجاز ہے کہ آج ڈاکٹریٹ کرنے والے طلبہ کی رہنمائی کر رہا ہوں۔ والٹیرمشہور زمانہ ادیب و دانش ور اور فلاسافیکل ڈکشنری کے مصنف نے کتاب کے حوالے سے کتنی خوبصورت بات کہی ہے ۔''آپ کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ جب سے دنیا بنی ہے وحشی نسلوں کو چھوڑ کر دنیا پر کتابوں نے حکمرانی کی ہے'' ۔ والٹیر درحقیقت سکھانے والا تھا اس کا کہنا تھا کہ لکھنے والا کچھ سکھاتا اور تعلیم نہیں دیتاتو وہ سرے سے لکھنے والا ہی نہیں ہے۔ جو فن معاشرے کو فائدہ نہیں پہنچاتا اسے وہ تسلیم ہی نہیں کرتا تھا وہ فریڈرک اعظم کے نام لکھتا ہے کہ وہ شاعری جو انسانوں کونئی اور متحرک سچائیوں کی تعلیم نہیں دیتی وہ اس قابل نہیں ہے کہ اسے پڑھا جائے۔یہ والٹیر ہی تھا جس نے اپنے نظریات ، اپنی طرز زندگی اور اپنی تصانیف کے ذریعے انقلاب فرانس کے لیے زمین ہموار کی اور انقلاب کا بیج بویا جو بعد میں ایک خوشگوار تبدیلی کا سبب بنا۔بات چونکہ کتاب کے حوالے سے ہی ہو رہی ہے اس لیے ایک نظر والٹیر کی فلاسافیکل ڈکشنری پر بھی ڈال لیجیے اور دیکھیے کہ والٹیر نے اس کتاب میں کیا کہا ہے۔وہ سوال اٹھاتا ہے کہ اختیار اور اقتدار کیا ہے؟ سات بڑے پادری جن کی مدد ان کے نائب کر رہے تھے انہوں نے اٹلی کے مشہور زمانہ مفکر گیلیلیو کو قید خانے میں پھینکوا دیا اسے صرف روٹی اور پانی پر زندہ رکھا گیا۔ اس کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس نے انسانی نسلوں کی رہنمائی کی تھی ان کو تعلیم کی روشنی سے منور کیا تھا۔ اور اس کو سزا دینے والے جاہل لیکن صاحب اقتدار تھے ۔اس کا کہنا ہے کہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جو مصنف اور لکھاری بن جاتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ ان کے بزرگوں نے انہیں کوئی ہنر نہیں سکھایا ہوتا۔ یہ ہمارے دور کا بہت بڑا المیہ ہے کہ جس کا جی چاہتا ہے صحافی بن جاتا ہے۔ ادیب بن جاتا ہے اور گھٹیا ترین ادب تخلیق کرتا ہے اور خود کو بڑے فخر سے کئی کتابوں کا مصنف کہلاتا ہے۔ اصلی اور سچے مصنف تو وہی ہوتے ہیں جو انسانی نسلوں کو تعلیم دیتے ہیں اور ان کو محفوظ کرتے ہیں۔ جن بے ہنر اور فضول قسم کے مصنفین کا میں نے ذکر کیا ہے ان کی حیثیت آدمیوں میں وہی ہے جو چمگادڑ کی پرندوں میں ہوتی ہے۔ایک متمدن جمہوریت کو کیسے سمجھا جا سکتا ہے والٹیر اس کے لیے ایک ترکی حکایت پیش کرتا ہے۔ ایک بہت بڑا اژدھا ہے جس کے کئے سر ہیں ۔ایک اور بہت بڑا اژدھا ہے جس کے کئی سر اور کئی دم ہیں اژدھا کے سر ایک دوسرے کے ساتھ ہر وقت جھگڑتے رہتے ہیں اور ایک دوسرے کو زخمی کرتے رہتے ہیں لیکن اس کے بہت ساری دمیں ایک بڑے سر کی فرمانبردار ہیں اور اس کی اطاعت میں ہلتی رہتی ہیں ۔ جمہوریت غلطیوں سے پاک نہیں ہوتی اس میں بہت سی غلطیاں ہوتی ہیں جن میں یقینا کئی غلطیاں بہت ہی خطرناک ہوتی ہیں لیکن جمہوریت اس سمندر کی طرح ہے جس میں زہر ملا دیا جائے تو بھی سمندر کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔دوستی کی تعریف کرتے ہوئے والٹیر کہتا ہے کہ دوستی روحوں کا ملاپ یا شادی ہے اور اس شادی میں طلاق بھی ہو جایا کرتی ہے ۔دوستی دراصل دو حساس اور دانا انسانوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتا ہے۔ بڑے لوگوں کو برائیاں مل جاتی ہیں خود غرض لوگوں کو ساتھی بھی مل جاتے ہیں اسی طرح سیاستدان اپنے طرفداروں کو اکٹھا کر لیتے ہیں۔ شہزادوں کو درباری ملتے ہیں اور بہت زیاد ہ امیر اور آرام طلب لوگوں کو خوشامدی ملتے ہیں لیکن صرف حساس اور دانا شخص کو دوست نصیب ہوتا ہے۔تحمل انسانی فطرت کی سب سے بڑی خوبی ہے ہم سب غلطیاں کرتے ہیں خطا کے پتلے ہیں اس لیے ہمیں ایک دوسرے کی غلطیوںکو معاف کردینا چاہیے دوسروں کی حماقتوں کو نظر انداز کرنا ہی ہمارے حق میں بہتر ہے یہی فطرت کا قانون ہے۔ ہر وہ ملک جہاں لوگ بھیک مانگتے ہیں وہاں بری حکومت قا ئم ہے۔والٹیر نے فلاسافیکل ڈکشنری میں بہت کچھ لکھا ہے بڑے کام کی باتیں کی ہیںہمیں اس سے ایک گلہ ہے کہ اس نے لوگوں کے بھیک مانگنے کا ذکر تو کیا لیکن یہ نہیں بتایا کہ جب حکومتیں ہی بھیک مانگنے لگیں تو اسے کیا کہتے ہیں؟ ۔

متعلقہ خبریں