بھارت کا پاگل پن

بھارت کا پاگل پن

کنٹرول لائن پر پاک بھارت فوجوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ستمبر سے جاری ہے ۔ گزشتہ روز بھارتی فوجیوں کی جانب سے اپنی چوکی سے واضح طور پر نظر آنے والی بس کو نشانہ بنا کر جس درندگی کا ثبوت دیا گیاہے اور سویلین افراد کو نشانہ بنانے کی جو بزدلانہ کارروائی قبل ازیں بھی کر چکی ہے وہ سخت قابل مذمت اور جنگی جرائم میں شمار ہوتے ہیں جن کا عالمی برادری کو سختی سے نوٹس لینا چاہئیے ۔ اگرچہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدوں پر اس طرح کے واقعات معمول سے ہٹ کر واقعات نہیں لیکن بھارتی فوج کی طرف سے پاک فوج کے مسکت جواب سے بوکھلاکر سویلین آباد ی کو بار بار نشانہ بنانا جنگی اخلاقیات کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ ان کی بوکھلاہٹ کا بھی ثبوت ہے ۔ مبصرین کے مطابق پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحدی کشیدگی کوئی نئی چیز نہیں اور اس کی وجہ کچھ سیاسی اور کچھ حد تک بھارت اپنے عوام کی حمایت بھی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اپنی فوج کے ذریعے سرجیکل اسٹرائیکس کا دعویٰ اس لیے کروایا تھا، کیونکہ وہ عوام کو دکھانا چاہتے تھے کہ پاکستان کو کتنا سخت جواب دیا گیا۔خیال رہے کہ رواں سال پاکستان اور ہندوستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور بھارت اس دوران ایل او سی پر تقریباً 182، جبکہ ورکنگ باؤنڈری پر 38 مرتبہ سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزی کرچکا ہے۔پاکستان اوربھارت کے تعلقات میں 18 ستمبر کو ہونے والے اڑی حملے کے بعد سے کشیدگی پائی جاتی ہے، جب کشمیر میں ہندوستانی فوجی مرکز پر حملے میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا الزام نئی دہلی کی جانب سے پاکستان پر عائد کیا گیا تھا، جسے اسلام آباد نے سختی سے مسترد کردیا تھا۔بعد ازاں 29 ستمبر کو ہندوستان کے لائن آف کنٹرول کے اطراف سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے نے پاک بھارت کشیدگی میں جلتی پر تیل کا کام کیا، جسے پاک فوج نے سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان نے اْس رات لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کی اور بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں 2 پاکستانی فوجی شہید ہوئے۔ جبکہ پاکستانی فورسز کی جانب سے بھارتی جارحیت کا بھرپور جواب دیا گیا۔ بھارتی فوج کی اند ھا دھند فائرنگ سے علاقے میں قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع معمول بنتا جارہا ہے گو کہ اس کا مسکت جواب ہماری طرف سے بھی دیا جارہا ہے لیکن شاید ایک خاص حد تک ہی ایسا کرنا مصلحت کا تقاضا ہے ۔اگر بھارت کو اسی کی زبان میں جواب دیا جاتا ہے تو جنگ چھڑ جانے کا خطرہ ہے اور اگر ایسانہ کیا جائے تو لا توں کے بھوت باتوں سے نہیں ماننے والا معاملہ ہے ۔ سرحدوں پر کشیدگی اور سرحدی حالات اور مظالم سے متاثرہونے والے افراد خاص طور پر بچوں کو ظالمانہ طریقے سے نشانہ بنانے اور بھارتی فائرنگ سے بس کے مسافروں تک کا محفوظ نہ ہونے کے واقعات کو پوری طرح سے سامنے لانا اس لئے ضروری ہے کہ بھارتی مظالم عالمی دنیا کے سامنے آئیں ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس ضمن میں ہماری وزارت خارجہ بھی مصلحت کاشکار ہے ۔ بھارت اقوام متحدہ کے مبصرین کوکنٹرول لائن کا دورہ کرنے اور حالات کا جائزہ لینے کا مو قع ہی نہیں دیتا اور مقبوضہ کشمیر میں عالمی مبصر کی ٹیم کو جانے کی اجاز ت ہی نہیں دی جارہی ہے تاکہ بھارتی مظالم دنیا کے سامنے نہ آسکیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارتی مظالم کی حقیقی صورتحال کو دنیا کے سامنے لانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا جائے اور دفتر خارجہ روایتی طریقوں سے ہٹ کر مئو ثر اور صریح انداز میں بھارتی مظالم کو دنیا کے سامنے رکھے۔ ملکی سیاسی جماعتوں اور رائے عامہ سے متعلق اداروں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس سلسلے میں آواز اٹھائیں اور مقبوضہ کشمیر سمیت کنٹرول لائن پر بھارتی فائرنگ سے پیدا ہونے والی صورتحال کا اقوام متحدہ کو سخت نوٹس لینے پرزور دیں ۔ بھارت شاید یہ بھول رہا ہے کہ دو طرفہ جنگ کتنی ہولناک ہوگی اور اس کے خطے پر اثر ات کیا ہوں گے سادہ الفاظ میں یہی سمجھا جا سکتا ہے کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی کی آگ سے خدا نخواستہ پورا خطہ بھسم ہو سکتا ہے ،مگر مشکل یہ ہے کہ بھارت کو اس کا احساس نہیں ۔ خطہ کشمیر دنیا میں پہلے فلیش پوائنٹ بن چکا ہے اور دنیا کو ہر وقت یہ دھڑ کا لگا رہتا ہے کہ خدا نخواستہ جنگ کی آگ بھڑکے تو دونوں قوموں کے درمیان صرف روایتی جنگ نہیں ہو گی بلکہ اس کے غیر روایتی جنگ میں بدلنے میں دیر نہیں لگے گی جس کے نتیجے میں سارا خطہ تباہ کاریوں کی لپیٹ میں آجائے گا ۔ ایسا لگتاہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے عملی طور پر تو خطے کو را کھ کا ڈھیر بنانے کا تہیہ کر رکھا ہے لیکن دکھاوے کیلئے اپنی تقریر وں میں عوام کی فلاح وبہبود کی بات کرتے ہیں۔ بھارتی وزیر اعظم مودی کو منہ میں رام رام بغل میں چھری کی پالیسی ترک کر کے خطے کو جنگ کی لپیٹ میںدھکیلنے کا باعث بننے والے اقدامات سے گریز کرنا چاہیئے ۔ عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی روک تھام اور خطے میں منڈلاتے خطرات کے بادلوں کو مزید گہرا ہونے نہ دے ۔

متعلقہ خبریں