مراعات کے بھوکے اہل اقتدار

مراعات کے بھوکے اہل اقتدار

وفاقی کابینہ کے اراکین ، سپیکر قومی اسمبلی چیئرمین سینٹ اور ارکان پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں اچانک سے ایک سو پچاس فیصد اضافہ سے غمخواران قوم کی عوام سے ہمدردی از خود واضح ہے۔ المیہ یہ ہے کہ دم تحریر حکومت کے ہر اقدام کی نکتہ چیں جماعت کی جانب سے بھی اس اضافے کو مسترد کرنے کا کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔ اس کا امکان اس لئے بھی کم ہی ہے کہ خیبر پختونخوا میں بھی قبل ازیں متفقہ طور پر ایوان نے اسی طرح کے اضافے کی منظوری دی تھی ۔ مشترکہ مفادات کے وقت لقمہ بنانے کیلئے چھوٹی بڑی انگلیوں کا ایک ہی سائز میں برابر ہونے کی مثال اس طرح کے واقعات کی درست تشریح ہوگی ۔ اس وقت وطن عزیز میں لاکھوں افراد کو خوراک میسر نہیں لوگ فلاحی اداروں کے دسترخوانوں پر بیٹھنے پر مجبور ہیں۔ لاکھوں افراد کو یہ سہولت بھی میسر نہیں ۔ لاکھوں بچے ایسے ہیں جو پڑھنا چاہتے ہیں لیکن معاشی تنگدستی کے باعث وہ ایسا کر نہیں پاتے سٹیٹ بنک کی رپورٹ کے مطابق ساٹھ فیصد عوام کے پاس کھانا پکانے کے لئے ایندھن دستیاب نہیں بچوں کی آدھی تعداد تعلیم جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہے ایک تہائی پاکستانیوں کو بنیادی سہولتیں میسر نہیں۔ ایک ایسے درماندہ و پسماندہ ملک میں ارباب اقتدار کا آنکھیں بند کر کے اپنی تنخواہوں میںایک سو پچاس فیصد کے اضافے پر ماتم ہی کیا جا سکتا ہے ۔ سرکاری ملازمین ہمیشہ سے مراعات اور تنخواہوں کی کمی کا رونا روتے آئے ہیں جو اپنی جگہ درست ہے ۔اس غربت زد معاشرے میں دیہاڑی دار مزدور وں ساہو کاروں کے پاس کام کرنے والوں اور بیروزگاروں کے پاس تو کوئی بھی سہولت میسر نہیں ۔ عوامی نمائندوں کی اکثریت متمول افراد پر مشتمل ہے مستزادان کو تنخواہوں کے علاوہ بھی بھاری مراعات بھی ملتی ہیں پھر بھی اگر انہی کو تنخواہوں کے بڑھانے کی پڑی ہے تو اس دن کا انتظار کرنا چاہئیے جب غریبوں کا ہاتھ گریبانوں تک پہنچے کہ آخر ایک یہی کسر ہے جو باقی دکھائی دیتی ہے ۔
سیف حیات آباد پروگرام کے افتتاح پر گاڑیوں کی چوری
وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے جس روز سیف حیات آباد کے احسن منصوبے کا افتتا ح کیا اور عوام کو تحفظ کا احساس دلانے کی سنجیدہ سعی کی عین اسی شب تھانہ تا تارا کے علاقہ فیز 6اور فیز 7سے گیراج کا دروازہ کھول کر گاڑیاں اڑا لے جانا محض اتفاق ہے یا پھر ایک چیلنج اس بار ے کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔قبل ازیں اس منصوبے میں حیرت انگیز طو ر پر پولیس کی جانب سے رخنہ ڈالنے کی مصدقہ و غیر مصدقہ اطلاعات میڈیا پر آئی تھیں جس کی متعلقہ پولیس حکام کی جانب سے کوئی وضاحت سامنے نہیں آئی ۔ حیات آباد میں پہلے ہی سے رات کی چوکیداری کا نظام موجود تھا اور بعد میں ایک سیکورٹی کمپنی بھی خدمات انجام دے رہی ہے بہر حال سیف حیات آباد پی ڈی اے کا احسن منصوبہ ہے جس پر توجہ دی جائے اور اسے مروجہ چوکیداری نظام اور سیکورٹی کمپنی کی خدمات کی طرح پہلے پہلے مثالی اور رفتہ رفتہ محض رقم کی وصولی تک محدود ہونے سے بچا نے کی ضرورت ہوگی ۔ فی الوقت یہ معلومات بھی دستیاب نہیں کہ پی ڈی اے خدمات کے عوض شہریوں سے فیس وصول کرے گی یا سیکورٹی کمپنی کے اہلکار وصولی کریں گے یا پھر پی ڈی اے اپنے وسائل سے سیکورٹی کمپنی رکھے گی۔ اس ضمن میں طریقہ کار وضاحت اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری تھا۔ خاص طور پر اگر فی گھرانہ فیس وصولی ہونی ہے تو اس ضمن میں عوام کو اعتماد میں لینے کی ضرورت تھی بہر حال یہ تو ثانوی امور ہیں اصل معاملہ معیاری سیکورٹی خدمات کی فراہمی کا ہے ۔کمپنی کی سیکورٹی کا جو نظام بتایا گیا ہے اگر اس پر عملدر آمد میں روایتی کوتاہی سے اجتناب کیا گیا تو یہ ایک احسن اقدام ہوگا ۔ تھانہ تا تارا کی حدود سے ایک ہی رات دو گاڑیوں کی پر اسرار چوری علاقہ پولیس اور پہلے سے سیکورٹی کی خدمات انجام دینے والی کمپنی کی کار کردگی پر سوالیہ نشان ہے ۔اس ضمن میں تا تارا کے ایس ایچ او اور سیکورٹی کمپنی کے ذمہ داروں سے باز پرس ہونی چاہیئے۔ سیکورٹی کانیا نظام متعارف کراتے وقت عوام کے سامنے یہ امر لا یا جائے کہ گزشتہ رات کے واقعات کی روک تھا م میں ناکامی کے اسباب کیا تھے ۔ حیات آباد میں سٹریٹ کرائمز اور مشتبہ عناصر کے باعث عوام کا ہراساں ہونا معمول کی بات ہے جبکہ پولیس کی دیگر سماجی و اخلاقی برائیوں سے واقفیت کے باوجود ملی بھگت کا مرتکب ہونا بھی کوئی راز کی بات نہیں ۔پولیس کی ملی بھگت کے بعد خالی پلاٹوں پر انجان افراد کی جانب سے کھڑ ی کی گئی گاڑیوں پر سیکورٹی اہلکاروں کو نظر رکھنے اور استفسار کا اختیار دیا جائے تو مشکوک سرگرمیوں میں کمی لانا ممکن ہوگا۔ خالی پلاٹوں پر لا وارث گاڑیاں کھڑی کرنے کی سختی سے ممانعت ہونی چاہئیے ۔ حکام اگر منکرات وخواحش کی سنجیدگی کے ساتھ روک تھام کرنا چاہیںاور شہریوں کو محفوظ اور صاف ستھرا ماحول دینے میں حقیقی دلچسپی لی جائے تو کوئی امر مشکل نہیں ۔

متعلقہ خبریں