بھارت کے جنگی عزائم

بھارت کے جنگی عزائم

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی پاکستان کی مخالفت کے ایجنڈے پر برسراقتدار آئی ہے اور اسی ایجنڈے پر عمل کر رہی ہے۔ یہ خیال کہ انتخابی نعرے اور وعدے اور ہوتے ہیں لیکن جب کار حکمرانی سر پر آن پڑتا ہے تو ترجیحات حقائق کے تابع ہو جاتی ہیں، بھارت کی موجودہ صورت حال میں باطل نظر آتا ہے۔ جس قدر پاکستان دشمنی کا مظاہرہ بی جے پی کے لیڈر انتخابات کے دنوں میں کر رہے تھے آج اس سے بھی بڑھ کر ہی نظر آتا ہے۔ نریندر مودی بھارت کے اسی بیانیہ کو تقویت دے رہے ہیں جو پاکستان کو بھارت ماتا کی تقسیم قرار دیتا ہے اور اکھنڈ بھارت کو بھارت کا ایجنڈا قرار دیتا ہے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی اگرچہ حکومت میں آنے کے بعد سوا ارب انسانوں کے افلاس اور اس حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے واقف ہو چکی ہے تاہم اس کے پاس بھارتی عوام کی حالت زار بدلنے کا کوئی پروگرام نظر نہیں آتا۔ وہ اپنی مقبولیت کو پاکستان دشمنی کے ذریعے قائم رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف کشمیریوں کی دنیا کی طویل ترین انتفادہ نے اور اسے ختم کرنے کے لیے بھارت کے مظالم نے بھارت کے اصلی چہرے کو دنیا پر آشکار کیا ہے جو ظلم و جبر اور زبردستی کا چہرہ ہے۔ ایک طرف بھارت دنیا کو پاکستان کی طرف سے ''دہشت گردی کا مظلوم'' ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا تھا دوسری طرف چار ماہ سے جاری کشمیریوں کی جدوجہد آزادی دبانے کے لیے اس نے نہتے کشمیریوں پر جو مظالم توڑے ہیں ان کے باعث اس کا حقیقی ظالم چہرہ ( بھارتی میڈیا کی خود اختیار کردہ سنسر شپ کے باوجود) کسی حد تک خود بھارت میں آشکار ہو رہا ہے۔ بھارتی حکومت کے پاس صرف ایک ہی بہانہ رہ جاتا ہے کہ بھارت میں ابھرنے والے تمام مسائل کا ذمہ دار پاکستان ہے۔ نریندر مودی نے اگرچہ بڑے کرنسی نوٹوں کی واپسی اور بھارت میں کرپشن کے خلاف آواز اٹھا کر بھارتی عوام کو ایک دوسری سمت میں متوجہ کرنے کی کوشش کی ہے تاہم مقبول رہنے کے لیے لگتا ہے اسے پاکستان دشمنی کا پرچار کرنے کے سوا چارہ کار نظر نہیں آتا۔ پاکستان کی طرف سے یہ ثابت کرنے کے باعث کہ کوئی سرجیکل آپریشن نہیں ہوا ، بھارت کی بڑی سبکی ہوئی ہے۔ اس خفت کو مٹانے کے لیے بھارت نے لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری پر سویلین آبادی اور فوجی چوکیوں پر حملوںمیں شدت پیدا کی ہے۔ اس اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی طرف سے چھوٹا اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے (جس کی وجہ یہ ہے کہ بھارتی فوج نے اپنے ٹھکانے ان مقامات پر بنائے ہیں جن کے نزدیک کشمیریوں کی آبادیاں ہیں۔ پاک فوج نہیں چاہتی کہ کشمیریوں کو نقصان پہنچے۔) اس اشتعال انگیزی کے جواب میں پاکستان کی طرف سے سفارتی سطح پر احتجاج ریکارڈ کروائے جا رہے ہیں لیکن بین الاقوامی کمیونٹی میں بھارت کا جارح چہرہ آشکار کرنے کی کوئی باقاعدہ منظم کوشش نظر نہیں آتی۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے مبصرین کے گروپ کو تو بھارتی جارحیت کے آثار دکھائے ہیں (جب کہ بھارت اس گروپ کی کارکردگی میں مانع ہے) لیکن بھارتی جارحیت کا معاملہ سلامتی کونسل کی جانے کی ابھی تک کوئی سعی نہیں کی گئی۔ وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیریوں کے حق میں نہایت موثر انداز میں آواز اٹھائی لیکن دنیا کے دارالحکومتوں میں اور عوام کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ پیش کرنے کی موثر کوشش نہیں کی گئی۔ اب بھارت باقاعدہ بڑے ہتھیاروں سے حملے کر رہا ہے لیکن سفارتی سطح پر پاکستان کی کوشش بھارتی سفیر کو بلا کر احتجاج ریکارڈ کروانے تک اور ایسے بیانات جاری کرنے تک محدود ہے کہ پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔ یعنی سفارتی محاذ پر پاکستان کی آواز کمزور اور توقعات کے مطابق موثر نہیں ہے۔ یہ صورت حال بھارت کے لیے پاکستان کے خلاف کسی بڑی جنگی کارروائی کے لیے معاون ہو سکتی ہے۔ اگرچہ بھارت کی کوشش یہ دکھائی دیتی ہے کہ وہ اشتعال انگیزی میں اضافہ کرکے پاکستان کو کسی بڑی جنگی کارروائی کی طرف لے جانے کی کوشش کرے تاہم سفارتی سطح پر کمزوری کے علاوہ بھی دیگر عوامل ہیں جو بھارت کو کسی بڑی کارروائی پر اکسا سکتے ہیں۔ اگرچہ پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں کے قائدین بیانات دے رہے ہیں کہ بھارت کی کسی بھی جارحیت کو اس کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا تاہم پاکستان کی حکمران سیاسی جماعت اس وقت عوام کے متفقہ اعتماد کی حامل دکھائی نہیں دے رہی۔ سپریم کورٹ میں سیاسی قیادت کے حق حکمرانی کے بارے میں مقدمہ زیر ِ سماعت ہے۔ پاک فوج کی کمان بدلنے والی ہے۔ مقبول ترین اور کامیاب چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ان کی جگہ نئے آرمی چیف عہدہ سنبھالنے والے ہیں۔ اس وقت فوج اور اسلحہ کی تعیناتی جس منصوبہ بندی کے تحت ہوئی ہے اس کے بارے میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ نئے آرمی چیف مبادا اس میں تبدیلی کرنا چاہیں۔ قوم کی توجہ قومی سلامتی کی بجائے سیاسی قیادت میں کسی تبدیلی ہونے یا نہ ہونے پر مرکوز ہے۔ اگرچہ یہ ہدایت جاری ہوئی کہ کالجوں میں این سی سی کی تربیت کا دوبارہ آغاز کیا جائے تاہم اس بارے میں عملی اقدام نظر نہیں آیا۔ اخبارات کہہ رہے ہیں کہ ملک میں تیل کے ذخائر اوسط روزانہ کھپت کے اعتبار سے 13یا 14دن کے رہ گئے ہیں جب کہ ان کا کم ازکم بیس دن کے لیے محفوظ ہونا لازمی ہے۔ معیشت کی صورت حال سے سبھی آگاہ ہیں ۔ ان حالات میں اس کے باوجود کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ دو ایٹمی قوتوں کے درمیان جنگ ہو گی بھارت کی طرف سے کسی ایڈونچر کی توقع کلی طور پر غیرمنطقی نہیں ہو گی۔ بھارت کو یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ جنگ شروع تو کی جا سکتی ہے لیکن پھر جنگ اپنا راستہ خود بناتی ہے۔ بین الاقوامی کمیونٹی کو بھی یہ باور کروانے کی ضرورت ہے کہ بھارت کی بڑھتی ہوئی جنگ بازی اور اشتعال انگیزی خطے کو جنگ کی طرف لے جارہی ہے جوکسی کے بھی فائدے میں نہیں۔ 

متعلقہ خبریں