سگھڑ شریک حیات

سگھڑ شریک حیات

ہمارے ایک استاد محترم ہمیں اکثر کہا کرتے کہ کتاب تو میں آپ کو پڑھا دوں گا لیکن سارا علم تو کتابوں میں نہیں ہوتا ۔کتاب سے باہر نکل کر بھی دیکھنا چاہیے دنیا آپ کے سامنے بکھری پڑی ہے اور کائنات کی ہر شے معرفت کردگار ہے ہر قدم پر تجربات حاصل ہوتے ہیںسیکھنے کے دروازے کھلے ہوئے ہیں بس دیکھنے والی آنکھ ہونی چاہیے محسوس کرنے والا دل ہونا چاہیے ۔ بات تجربے کی ہو تو میاںجی ضرور ذہن میں آتے ہیںان کے بہت سے اقوال زریں ہم نے دل پر لکھ رکھے ہیں ان کا مشہور ومعروف قول ہے ''ہوشیار مرد اپنے دل اور جیب کا حال کسی کو نہیں دیتا'' دل کے حال کے بارے میں تو ہم زیادہ نہیں جانتے لیکن اتنی سی بات تو ہمارے علم میں ہے کہ اپنی جیب کا حال کسی کو بھی نہیں دینا چاہیے خاص طور پر اسے اپنی شریک حیات سے پردے میں رکھنا بہت ضروری ہے ہم نے بڑے دانا و بینا دوستوں کو یہ غلطی کرتے دیکھا ہے اور پھر پچھتاتے ہوئے بھی لیکن اب اس کا کیا علاج کہ انسان غلطی کا پتلا ہے مگر جب ایک مرتبہ تیر کمان سے نکل جائے تو پھر ہاتھ نہیں آتا یہ سب باتیں تو اپنی جگہ لیکن ہمارے میاں جی کی منطق اس حوالے سے سب سے نرالی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی تنخواہ ہر مہینے بچوں کی ماں کے حوالے کردیتا ہوں وہ جانے اور اس کا کام۔ مجھے گھر کے اخراجات کی کوئی فکر نہیں ہوتی۔ اس بات کا غم نہیں ہوتا کہ آج کیا پکے گا۔ بجلی اور گیس کے بل کی مجھے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بچوں کی فیس جمع کرانا میرا مسئلہ نہیں ہے۔ کون آرہا ہے کون جارہا ہے مہمانوں کے لیے کیا منگوایا جا رہا ہے مجھے کچھ نہیں معلوم۔ جو مل گیا وہ کھا لیا۔ہم نے اس پر بہت غور کیا کہ ہم بھی اس تیربہدف نسخے پر عمل کریں لیکن ہمارا حوصلہ نہیں ہوا۔ ہم نے اس حوالے سے میاں جی سے بہت سے سوال کر ڈالے۔چونکہ یہ مسئلہ ہر دوسرے شریف شہری کا ہے ہر معزز انسان کو اس پل صراط پر سے گزرنا پڑتا ہے اس لیے ہم نے سوچا کہ ہم ان تمام سوالات و جوابات کو ایک ترتیب سے لکھ دیتے ہیںپھر ہر شخص اپنی مرضی اپنی سوچ و فکر سے اپنے لیے لائحہ عمل ترتیب دے سکتا ہے مگر پھر کالم کی تنگ دامنی کا خیال آیا تو اس ارادے سے دستبردار ہونا پڑا ! اور پھر اہم بات یہ ہے کہ کالم نگار اس حوالے سے کسی بھی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرسکتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہر گھر کا اپنا ماحول ہے سب کی اپنی اپنی تربیت ہے اپنی اپنی آمدنی کی بات ہے ۔ اب ایک شخص کی آمدنی اتنی ہے کہ وہ تین مہینے میں بھی ختم نہیں ہوتی تو وہ کیسے اپنی ساری تنخواہ اپنی بیگم صاحبہ کے قدموں میں ڈالنے کی غلطی کرسکتا ہے اس کے لیے یہی بہتر ہوگا کہ وہ گھر آئے تو حکمرانوں کو برا بھلا کہتا ہوا۔اس کے علاوہ مہنگائی کا رونا اس کا وظیفہ حیات ہونا چاہیے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ملازمت پیشہ نہیں ہوتے اپنا کاروبار کرتے ہیں نہ صرف ایک کاروبار بلکہ تین تین۔ پھر جائیداد کا اچھا خاصہ کرایہ بھی آتا ہے۔ آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ ایسے لوگوں کے لیے گھریلو اخراجات تو کوئی مسئلہ ہی نہیں ہوناچاہئیے لیکن دوستو ہم ایک ایسے شخص کو جانتے ہیں جس کے پاس اللہ کا دیا ہوا سب کچھ بہت وافر مقدار میں موجود ہے لیکن اس کی شریک حیا ت اسے سر اٹھانے نہیں دیتی۔گوشت پک رہے ہیں مرغیاں ذبح کی جارہی ہیں مہمان آرہے ہیں جا رہے ہیں۔گھر میں ہر قسم کا نوکر حاضر جناب ہے کپڑے دھونے والی خالہ موجود ہے برتن دھونے کے لیے علیحدہ ملازمہ ہے۔ گھر کی صفائی ستھرائی کے لیے الگ سے لڑکیاں ہیں ۔ جس طرح ہمارے وطن عزیز میں وزیروں کی فوج ظفر موج موجود ہے اور ایسے ایسے محکمے بھی ہیں جو صرف نام کے ہیںان کا کام کچھ بھی نہیں۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ ان صاحب کا گھر بھی چھوٹاسا پاکستان ہے۔کون آرہا ہے کون جارہا ہے کسی پر کوئی پابندی نہیں ہے جس طرح ہم دھڑا دھڑ ویزے جاری کرتے رہتے ہیں اور پھر بعد میں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ فلاں فلاںاین جی او زکی آڑ میں تو دشمن کے بہت سے ایجنٹ ہماری سر زمین میں داخل ہوچکے ہیں نہ صرف داخل ہوچکے ہیں بلکہ بہت سے اعمال شر میں اپنے حصے کا بھرپور کرداربھی ادا کررہے ہیں بات چلی تھی میاں جی کے حوالے سے ۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ جناب اگر گھر کا خرچ مہینہ پورا ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جائے تو پھر تو شریک حیات آپ سے مزید تقاضا توکرتی ہوں گی؟ وہ ہنس کر کہنے لگے کہ آج تک ایسا نہیں ہوا بلکہ ہماری بیگم صاحبہ اتنی سگھڑ خاتون ہیں کہ ایمرجنسی کی صورت میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ پس انداز کی ہوئی رقم نکل آتی ہے۔پھر بڑے رازدارانہ لہجے میں ہماری طرف جھک کر کہنے لگے کہ ہماری شریک حیات کا تعلق اس نسل سے ہے جو اپنے خاوند کا نام لینا خاوند کی توہین سمجھتی ہیں۔اگر بڑے بیٹے کا نام صفدرہے تو وہ صفدر کے ابا کہہ کر بات کرتی ہیں۔ میاں جی کی زبان سے یہ جملے سن کر ہمارے دل سے ایک ہوک سی اٹھی کہ کاش آج بھی وہی ماحول ہوتا اب تو ہم نے شریک حیات کے سامنے بڑے نامی گرامی لوگوں کو دم دبا کر اور سر جھکا کر زندگی گزارتے دیکھا ہے ۔بات میاں جی کی طرح ایک چھوٹے سے گھر کی ہو یا وطن عزیز کی انہیںاحسن طریقے سے چلانے کے لیے ایک نظام اور ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے بہت پھونک پھونک کر قدم اٹھانا پڑتا ہے کبھی اس حوالے سے میاں جی کے ساتھ بات ہوتی ہے تو وہ مسکراتے ہوئے کہتے ہیں جناب اپنے اپنے نصیب کی بات ہے جس طرح میٹھا خربوزہ اچھے نصیب والوں کا ہی نکلا کرتا ہے بالکل اسی طرح سگھڑ شریک حیات کا مل جانا بھی بڑے نصیب کی بات ہے۔

متعلقہ خبریں