جو عزت چاہتاہے

جو عزت چاہتاہے

یہ بات پتھر پر لکیر ہے کہ اللہ کا فرما ن ہے جو عزت چاہتا ہے اس کو اللہ عزت دیتا ہے اور جو ذلت چاہتا ہے اس کو ذلت ، جس عزو اکر ام سے جنر ل راحیل شریف ملا زمت سے سبکد وش ہورہے ہیں اس کا خراج تحسین عوامی نظرو ںمیں جھلک رہا ہے ۔ پاکستان میں فوج کے سربراہو ں کی تقرری اور ان کی سبکدوشی پاکستان کے وزراء اعظم سے مختلف اند از کی نہیں رہی ہے ، اور نہ حکمر انو ں کے ساتھ تعلقات میں کوئی مثالی ہم آہنگی دیکھنے کو ملی ہے ۔ پا کستان کے قیا م کے وقت پا کستان کی آرمی کا چیف سر فرینک میسروی کو بنا یا گیا جس نے گورنر جنر ل قائد اعظم کی حکم عدولی کی کہ اس نے قائد اعظم کا یہ حکمم ماننے سے انکا ر کر دیا کہ وہ بھارت کی فوج کو کشمیر میں مد اخلت سے روکے۔ اس طر ح اس آرمی چیف نے بھارت کو پورا موقع فراہم کیا کہ وہ کشمیر پر اپنا قبضہ جما لے۔ اس حکم عدولی پر بعدا زاں اسے سبکد وش کر کے نیا آرمی چیف سر ڈوگلس کو مقر ر کیا گیا تھا۔ گریسی کی سبکدو شی کے وقت کوئی سنیئر جنرل پاکستان کو میسر نہ تھا چنا نچہ قرعہ فال میجر جنرل افتخار خان کے نا م نکلا تاہم وہ ابھی اپنا عہد ہ سنبھال نہ پا ئے تھے کہ وہ اور بریگیڈئیر شیر خان ہیلی کاپٹر کے حادثہ میں جا ںبحق ہو گئے چنا نچہ اس کے بعد آرمی چیف کی تقرری کی نئی کہا نی شروع ہوئی۔ یہا ں ایک بات کی وضاحت ضروری ہے کہ آرمی چیف گریڈ اکیس کا سرکا ری افسرہوتا ہے چنا نچہ ہو نا تو یہ چاہیے کہ آرمی چیف کی تقرر ی میں ملا زمت کے اصولو ں کو اپنایا جا ئے مگر آئینی اختیا ر کو یا پسند نا پسند کو استعما ل کیا جا تا رہا ہے ، جیسا کہ آئین میں آرمی چیف کی تقرر ی میںوزیر اعظم کو صوابدیدی اختیار ات ہیں جس کے لیے کوئی اصول وضوابط نہیں ہیں صرف وزیر اعظم کی پسند پر دارومدار ہے ۔ چنا نچہ جنر ل گریسی کے بعد میجر جنرل اکبر خان اور میجر جنرل این ا ے ایم رضاسینئر شما ر ہو تے تھے مگر سکند ر مر ز ا کی سفارش پر جنرل ایو ب خان کو آرمی چیف مقر ر کیا گیا جن کو بعد ازاں وزیر دفاع بھی بنا دیاگیا اور وہ کا بینہ کے اجلا س میں سیا ست دانو ں سے روکھے اور تحکمانہ اند ا ز میں ہم کلا م ہو کرتے تھے ، پھر انہو ں نے سکند ر مرزا کے ساتھ مل کر اس ملک کو ما رشل لا کی نذر کر دیا اور ساتھ ہی سکند ر مر زا کو جس نے آئین کی پا سداری نہیںکی تھی رخصت کر دیا ۔گویا اپنے مقر ر کر دہ چیف کے ہا تھو ں زخم کھا یا ، اسی طر ح ایو ب خان نے الطا ف قادر اور بختیار رانا کو نظر انداز کر کے جنرل یحییٰ خان کو آرمی چیف تعینا ت کیا ، ذوالفقار علی بھٹو نے سقوط ڈھاکا کے بعد جنر ل حسن گل جنہو ںنے یحییٰ خان سے استعفیٰ لیا تھااور اقتدار بھٹومرحوم کو منتقل کر نے میں سہو لت کا ر کا کر دار ادا کیا تھا ان کو اڑھائی ما ہ بعد ہی سبکدو ش کر دیا گیا اور ٹکا خان کو نیا چیف مقرر کیا گیا ، پا کستان میں میں یہ روایت رہی ہے کہ جب کسی کو آرمی چیف مقر ر کیاجا تا ہے تو اس سے سینئر فوجی آفیسر ریٹائر منٹ لیتے ہیں مگر ٹکا خان نے ایسا نہیں کیا تھا ، جنرل ٹکا خان کی ریٹائر منٹ کے بعد بھٹو مر حوم نے سینئرسات جرنیلوں پر جنر ل ضیا الحق کو ترجیح دے کر آرمی کا سربراہ بنا یا تھا مگر پھر کیا ہو ا وہ تاریخ کے اوراق میں نما یا ں طور پر پا یا جا تا ہے ۔میا ں نو از شریف جن کو اب پانچویں آرمی چیف کے تقرر کا اعزاز حاصل ہو رہا ہے انہوں نے سینئر جرنل علی قلی خان اور خالد نو از کو نظر اند از کیا ، جنر ل پرویز مشرف کوآرمی کا چیف مقرر کیا تھا اس سے قبل جنرل آصف نو از کی تقرری کی گئی تھی ان کی نا گہانی موت کے بعد وحید کا کڑ کو مقر ر کیا گیا جن کے ہا تھو ں وزیر اعظم نو از شریف اور صدر غلام اسحا ق خان رخصت ہو ئے۔ تاہم کا کڑ کا یہ اعز از ہے کہ انہوں نے جمہو ریت کے استحکا م میںہا تھ بٹایا خود اقتدار نہیں سنبھا لا ،کا رگل ایڈونچرکی بنا ء پر یہ خدشہ محسوس کرلیا گیا تھا کہ آرمی چیف بدل دیا جا ئیگا ، یہ بات جنرل پر ویز مشرف نے بھا نپ لی تھی چنا نچہ انہوں نے سری لنکا کے دورے پر جا نے سے پہلے حکومت پر قبضہ کا منصوبہ بنا لیا تھا اور اس میں اپنے کا رگل ایڈونچر ز کے ساتھیو ں کو شامل کیا گیا تھا ، جب وہ سری لنکا سے واپس آرہے تھے اس وقت وزیر اعظم نو ا ز شریف نے اپنے آئینی اختیا ر کو استعما ل کر تے ہوئے جنرل ضیا الدین کو آرمی چیف مقر ر کیا۔ ان کے کندھے پر چوتھا اسٹار بھی آویزاں کر دیا گیا تھا مگر بغاوت ہو گئی۔ یہ بغاوت خالصتاًکا رگل کے نا کا م فوجی افسر و ں کی جا نب سے اپنی ملا زمتیں بچانے کے لیے تھی ۔ اس سے پہلے جتنی بھی مرتبہ ما رشل لا لگا اس کا کوئی نہ کوئی جو از دیاگیا جبکہ جنرل پر ویز مشرف کہا کر تے تھے کہ میں تو اللہ کا بھیجا ہو ا ہوں ۔ اگر پا کستان میں آرمی چیف کی تقرری کا جائزہ لیا جا ئے تو وہ کوئی خا ص مفید ثابت نہیںہو ئی ہے کیو ں کہ حکمر انوں نے تقرری کا پیما نہ صرف یہ رکھا کہ ان کے اقتدارکو تحفظ حاصل رہے مگر زیادہ تر ایسا نہیں ہو ا ان حالا ت میں جنر ل راحیل شریف نے جن کے خاند ان کو یہ عظیم اعزاز حاصل ہے کہ دو نشان حیدران کے گھر میںچمک رہے ہیں ، دوران ملازمت ان عظیم نشانا ت کی عزت کو چارچاند لگا ئے ہیں ورنہ پاکستان میں لا ل پیلے تو تو ں نے تو اب آرہا ہے اب آرہا ہے کی ایسی رٹ لگا ئی تھی ۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ وہ ایک پیشہ ور سپاہی ہیں اسی سے انہوں نے غرض رکھی ہے جس کا عملی ثبو ت بھی دیا ہے ۔ جو ضرب عضب کی صورت میںاعلیٰ کارکردگی کا عملی نمو نہ ہے چنانچہ ہر دل ان کی پیشہ ورانہ صلا حیتوںپر اور آئین کے تقدس پر خراج تحسین پیش کر رہا ہے ۔لال حویلی کے لا لو شیخ نے کہا تھا کہ نو مبر میں ایک شریف جا ئے گا سو ایسا ہی ہورہا ہے چلو کسی صورت توتا کہا نی پوری ہوئی تاہم ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کے پیر ومر شد جنرل پرویز مشرف کی رخصتی اور جنرل راحیل شریف کی رخصتی میں کتنا عظیم فرق ہے ۔اس کو کہتے ہیں دلو ں کی تسخیر ۔

متعلقہ خبریں