بجلی اور گیس بلوں سے صارفین نالاں

بجلی اور گیس بلوں سے صارفین نالاں

خیبر پختونخوا میں واپڈا اور سوئی گیس بل تقسیم کرنے والا عملہ سوئی گیس اور بجلی بل صارفین کے گھروں تک پہنچانے کے بجائے کریانے،موچی، درزی ، نان بائی، مُرغی فروشوں اور نائی کی دکانوںپر چھو ڑ جاتاہے اور پھر یہ صا رف کی قسمت کہ اس کو بل ملتا ہے یا نہیں ۔اکثر بل صارفین کو مقررہ وقت پر نہیں پہنچ پاتے نتیجتاًصارفین جُرمانہ ادا کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔میرا اپنا سوئی گیس بل گزشتہ کئی مہینوں سے وقت پر نہیں ملالہٰذا سوئی گیس اور واپڈا ادارے کی غفلت کی وجہ سے مُجھے جُرمانہ اداکرنا پڑا۔مُجھے گزشتہ ایک سال میں سوئی گیس کے تین بل مقررہ وقت پر ملے اور وہ بھی مُجھے نائی، دھوبی، کریانے اور مُرغی فروش کی دکانوںسے پاگلوں کی طرح ڈھونڈ ڈھونڈ کر ملے ۔ کریانے کی دکان پر گیا وہاں پر بجلی کے 200 صارفین کے بل پڑے ہوئے تھے اور یہ بل بجلی کے اُن صارفین کے تھے جو اس دکان سے ایک یا دو کلومیٹرکے فا صلے پر تھے۔ان دو سو بلوں میں کوئی ایسا بل نہیں تھاجو2 ہزار روپے سے کم ہو۔حالانکہ بجلی بل تقسیم کرنے والے اہل کاروں کو گھر گھر یہ بل پہنچانے چاہئیں۔کیونکہ اس کام کی وہ تنخوا ہ لیتے ہیں۔ مگر بد قسمتی سے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔جہاں تک بجلی کی قیمتوں کا تعلق ہے وہ بھی انتہائی بے تکی ہیں ۔ایک غریب چھا بڑی فروش کا بل بھی 4900 روپے تھا حالانکہ اس کی روزانہ آمدن 200 روپے سے زیادہ نہیں اور بے چارے کے 6 بچے بھی ہیں۔اب سوال یہ ہے کہ یہ بل کیسے اور کہاں سے اداکرے گا۔ جن200 بجلی صارفین کے بلوں کا میں ذکر کر رہا ہوں اُن میں 80فیصد ایسے ہیںجنکی روزانہ آمدن 200 یا 300 روپے سے بھی کم ہے۔ میاں نواز شریف تقریروں میں کہتے رہتے ہیں کہ بجلی کی قیمتوں اور لوڈ شیڈنگ میں کمی کر دی گئی مگر بد قسمتی سے نہ تو بجلی کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی اور نہ ہی لوڈ شیڈنگ میں۔ خیبر پختونخوا میں اب بھی 12 گھنٹے لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا کے زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی سے وابستہ ہیں اور ایک کسان کی سالانہ آمدن 15 یا 20 من گندم یا مکئی سے زیادہ نہیں ہوتی۔جبکہ گندم اور مکئی کی فی من قیمت بالترتیب ١٨٠٠ اور 1000 روپے ہے۔ ایک غریب کسان ہر مہینے بجلی بل کے لئے دومن گندم یا مکئی بیچ کر بل اداکر سکے گا۔باقی صحت، بچوں کی تعلیم کھانے پینے کے خرچے اور لوازمات اسکے علاوہ ہیں۔جہاں تک بجلی قیمتوں کا تعلق ہے تو بجلی کی قیمتوں میں کمی واقع نہیں ہوئی بلکہ انکی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔پاکستان پیپلز پا رٹی کے دور حکومت میں جب بین الاقوامی ما رکیٹ میں تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تھیں اُس وقت بجلی کا ریٹ موجودہ دور کے ریٹس سے آدھا تھا مگر اب جبکہ ما رکیٹ میں تیل کی قیمت 36 ڈالر ہے تو اس وقت ایک یو نٹ کی قیمت 31 روپے تک ہے۔ایک طرف اگر کے پی کے میں بجلی لو ڈ شیڈنگ کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے تو دوسری طرف سردیوں کی آمد پر گیس بھی غائب ہے۔ تقریباً 3مہینے سے گیس لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اور صبح سے لیکر شام تک گیس غائب ہے۔ سوئی گیس صارفین پھر روایتی ذرائع یعنی لکڑیاں جلانے پر مجبور ہیں۔مُجھے خیبرپختونخوا اور بالخصوص صوابی سے سینکڑوں ای میلزاور میسجز موصول ہوئے ہیںجن میں گیس لوڈ شیڈنگ کے بارے میں شکایت کی گئی ہے۔اور تاکید کی گئی ہے کہ واپڈا اور سوئی گیس کے حکام کو ہو شربا بلوں اور گیس لوڈ شیڈنگ کے بارے میں آگاہ کر سکوں۔ ہمیں نہیں پتہ کہ کون کے پی کے کے لوگوں کے خلاف اس سازش میں ملوث ہے مگر ہم نے تو ووٹ تحریک انصاف کو دیا ہے اور یہ اب پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خیبر پختون خوا کے لوگوں کے مفادات کا تحفظ کرے۔ہمیں نہیں پتہ وفاقی حکومت تحریک انصاف کی حکومت کے خلاف کیا سازش کرتی ہے مگر اپنے لوگوں کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کرنا آپکی ذمہ داری ہے ۔ خیبر پختون خوا کے واپڈا اور سوئی گیس کے اعلیٰ حکام کو چاہیے کہ وہ بھی کم ازکم اپنے ادارے کی بہتری کے لئے کام کریں۔ میں اداروں کی نجکاری کا ہمیشہ مخالف رہا ہوں اور میں نے ہمیشہ اداروں اور اداروں کے ملازمین کے حق میں قلم اُٹھا یا ہے مگر ابھی اداروں کی ناگُفتہ بہ حالت دیکھ کر مُجھے بھی احساس ہوگیا کہ اداروں کی نجکاری ضروری ہے۔ اوراداروں کی نجکاری میں خود غرض حاکموں کے علاوہ ان اداروں کے ملازمین بھی برابر کے شریک ہیں۔ اگر ان اداروں کے ملازمین بے لوثی سے اداروں اور لوگوں کی خدمت کریں تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ کوئی بھی حکومتی اداروں کی نجکاری کریں۔ اس وقت پاکستانی لوگ اُن اداروں سے سخت نالاں ہیں جو لوگوں کی فلاح و بہبود کے لئے قائم کئے گئے ہیں۔ادارے عوام کی فلاح و بہبود کے لئے بنائے جاتے ہیں مگر پاکستان میں عوام ان اداروں سے پریشان ہیں۔مشترکہ خاندان میں بجلی اور سوئی گیس بل اب لڑائی کا سب سے بڑا سبب ہے۔ نئی تحقیق کے مطابق اکثر جائنٹ فیملی میں سوئی گیس اور بجلی گیس پر لڑائی ہوتی ہے۔

متعلقہ خبریں