ن لیگ کا آئندہ رویہ؟

ن لیگ کا آئندہ رویہ؟

سینیٹ میں انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری کے بعد جس میں نااہل قرار دیا جانے والا شخص بھی سیاسی پارٹی کا سربراہ ہو سکتا ہے ، سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ این اے 120کے ضمنی انتخابات میں عوام نے ان کے جی ٹی روڈ کے مؤقف کی تائید کر دی ہے۔ میاں نواز شریف کا یہ بیان کئی روز کی خاموشی کے بعد آیا ہے جس کے دوران وہ اپنی اہلیہ بیگم کلثوم نواز کی علالت کے باعث لندن میں مقیم ہیں۔ اس دوران حکمران مسلم لیگ کی سیاست کے دو رخ نظرآتے رہے ہیں۔ ایک رخ وہ جو میاں صاحب کی صاحبزادی مریم نواز نے محترمہ کلثوم نواز کے ضمنی انتخاب کی مہم کے دوران اختیار کیا جس میں وہ محاذ آرائی کے راستے پر نظرآئیں ، دوسرا رخ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے بیانات کی صورت میں نظر آیا جن میں انہوں نے کہا کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ایک پیج پر ہیں اور دونوں میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ مریم نواز نے ضمنی انتخاب میں بیگم کلثوم نوازکی فتح کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضمنی انتخاب میں جیت نادیدہ قوتوں کے خلاف بھی جیت ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے تین کارکن اس انتخاب میں نامعلوم لوگوں نے اغوا کیے۔ اگرچہ جن لوگوں کے اغوا کی نشاندہی کی گئی وہ لاہور میں دیکھے جا چکے ہیں اور عین انتخاب سے ایک دن پہلے اغواء کے بیان میں یہ جھول صاف نظر آتاہے کہ اگر ان کارکنوں کے اغواء کا مقصد بیگم کلثوم نواز کی انتخابی مہم کو متاثرکرنا تھاتو انہیں انتخابی مہم کے ابتدائی دنوں میں اغواء کیا جاتا۔ تاہم صاحبزادی مریم نواز کا یہ بیان اس بات کی دلیل ہے کہ ن لیگ ''نادیدہ قوتوں'' کے خلاف محاذآرائی اختیار کرنے پر آمادہ ہے۔ اس کی توثیق میاں نواز شریف نے یہ کہہ کر دی ہے کہ این اے 120میں ان کے جی ٹی روڈ پر خطاب میں انہوں نے جو مؤقف اختیار کیا تھا عوام نے اس کی تائید کر دی ہے ۔ جی ٹی روڈ پر انہوں نے ایک مؤقف یہ اختیار کیا تھا کہ عدلیہ نے ان کی نااہلی کا فیصلہ صادر کرکے بیس کروڑ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی ہے۔ ان کا اور ان کے اکثر سابق وزراء کا استدلال یہ ہے کہ انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والے کو ایسا احترام حاصل ہو جاتا ہے کہ جو قانون کے تقاضوں پر حاوی ہو جاتا ہے۔ وہ عام طور پر عام انتخابات کو عوام کی عدالت قرار دیتے ہیں اور اس کے فیصلے کو مقدم قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ عام انتخابات آئین کے تحت ضابطوں کے مطابق ہوتے ہیں اور عام انتخابات میں اکثریتی ووٹ لینے والا قوانین سے بالا تر نہیں ہو جاتا۔ میاں صاحب نے راولپنڈی سے لاہور کے سفر کے دوران کہا تھا کہ وہ عوام کے ووٹ کے احترام کا مقدمہ لے کر اُٹھے ہیں اور اس کی بالادستی کے لیے لاہور پہنچ کر آئندہ پروگرام کا اعلان کریں گے ۔ جو انہیں نے اب تک نہیں کیا۔ ان کے اس بیان سے کہ عوام نے ان کے مؤقف کی تائید کر دی ہے یہ اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ وہ آئندہ یہی راستہ اختیار کر یں گے ۔ اس سے پہلے میاں صاحب حکمران مسلم لیگ کی کارکردگی' لوڈشیڈنگ کے خاتمے ' سڑکوں کی تعمیر کے حوالے سے عوام کو قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن اب اس حالیہ بیان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات میں جانے کے لیے وہ عوام کے مینڈیٹ کے حوالے سے محاذ آرائی کا راستہ اختیار کریں گے۔ ان کے بیان کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے کہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے کہہ دیا ہے کہ وہ لاہور کے ضمنی انتخاب کے دوران غائب ہونے والے کارکنوں کے بارے میں خود اپنی نگرانی میں انکوائری کروائیں۔ اس سے ایک تاثر تو یہ ملتا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اپنے متعدد ایسے بیانات کی روشنی میں کہ وہ سابق وزیر اعظم کی پالیسیوں پر عمل کرتے رہیں گے ' حکمران مسلم لیگ میں رہنما قوت اب بھی سابق وزیر اعظم نواز شریف ہیں ۔ دوسرا تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی جو بار بار کہتے رہے ہیں کہ ان کی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہیں ان میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اس کی بجائے میاں صاحب نے شاہد خاقان عباسی کو یہ ٹاسک دیا ہے کہ وہ انکوائری کرکے ثابت کریں کہ مبینہ طور پر گم ہونے والے کارکنوں کو کس نے غائب کیا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کس تیزی سے اپنی ذاتی نگرانی میں یہ انکوائری کرتے ہیں اور اس کے نتیجے میں کیا سامنے آتا ہے۔

متعلقہ خبریں