راجگل چوکی پر افغانستان سے حملہ

راجگل چوکی پر افغانستان سے حملہ

پاک افغان سرحدی علاقے راجگل میں سرحد پار سے فائرنگ کے نتیجے میں پاک فوج کے بائیس سالہ لیفٹیننٹ ارسلان عالم کی شہادت ایک رنجدہ اور قابل ِ مذمت واقعہ ہے ۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ اللہ کریم ارسلان عالم شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کے پسماندہ گان کو صبرِ جمیل عطافرمائے۔یہ واقعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ افغانستان بھی بھارت کے نقشِ قدم پر چل رہا ہے جو لائن آف کنٹرول پر آئے دن حملے کرتا رہتا ہے۔ پاک فوج کے محکمہ تعلقات عامہ نے کہاہے کہ راجگل چوکی پر حملے کی جوابی کارروائی میں تین دہشت گردہلاک ہو گئے اور سرحد پار ان کے ساتھی ان کی لاشیں اُٹھا کر فرار ہوگئے۔ یہ ابھی سامنے نہیں آیا کہ حملہ آوروں کاتعلق کس دہشت گردگروہ سے تھا تاہم یہ حملہ افغانستان کی سرزمین سے کیا گیا ہے اس لیے اس حملہ کی اولین ذمہ داری افغان حکومت کی سمجھی جانی چاہیے۔ اگر اس حملے میں افغان فورسز ملوث نہیں ہیں تو بھی افغان حکومت کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔ افغان حکومت اپنی سرزمین پر پاکستان مخالف دہشت گردوں کی موجودگی سے انکار نہیں کرتی لیکن ان کی سرکوبی کی ذمہ داری نبھانے کو بھی تیار نہیں۔ تو کم ازکم افغان حکومت کو ان علاقوں کی نگرانی تو کرنی چاہیے جہاں پاکستان مخالف دہشت گرد عناصر کی کمین گاہیں ہیں۔ اور اگر وہاں سے کوئی غیر معمولی نقل و حرکت ہو تو وہ ا س سے پاکستان کی سیکورٹی فورسز کو اطلاع دے ۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ افغان حکومت ان دہشت گردوں کے سامنے بے بسی کا اظہار کرکے خاموش ہو جاتی ہے۔ بے بسی کے اس اظہار کی بنا پر افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف کم ازکم انٹیلی جنس کے تبادلہ کی ذمہ داری سے مبرا قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس لیے افغان حکومت سے سفارتی سطح پر سرحدی خلاف ورزیوں کا معاملہ اُٹھایا جانا چاہیے۔ اور افغانستان کو اس کی ذمہ داری یاد دلائی جانی چاہیے اور اسے اس ذمہ داری کے ادا کرنے کے لیے آمادہ کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جانا چاہیے۔ افغان سفیر اور افغان حکومت اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ وہ پاکستان میں مقیم تمام افغانوں کو یک لخت واپس نہیں لے جا سکتی لیکن افغان حکومت کو یہ تجویز دی جا سکتی ہے کہ پاکستان میں موجود افغان باشندوں کو ان علاقوں میں آباد کر دیا جائے جہاں دہشت گردوں کی پناہ گاہیں ہیں جن پر افغان حکومت کا کنٹرول نہیں ۔ پاکستان میں مقیم افغان باشندے ان علاقوں میں آباد ہوں گے تو اپنے مفاد میں امن وامان کی فضا پیدا کرنے کی کوشش کریں گے ۔ ان لاکھوں افغانوں کی موجودگی میں چند ہزار دہشت گرد اپنی کارروائیاں جاری نہیں رکھ سکیں گے۔ افغان حکومت کو اس بات پر بھی آمادہ کیا جانا چاہیے کہ وہ پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی میں تعاون کرے کیونکہ پاک افغان سرحد کی باڑھ بندی پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ہے۔ اس طرح افغانستان کی یہ شکایت بھی رفع ہو جاتی ہے کہ پاکستان سے جا کر دہشت گرد افغانستان میں حملہ آور ہوتے ہیں۔ افغانستان اگر باڑھ بندی میں تعاون نہیں کرتا تو اس کے عزائم اچھی ہمسائیگی کے عزائم شمار نہیں کیے جا سکتے۔
ڈینگی مسلسل بے قابو
ڈینگی بخار سے دو مزید عزیز ہم وطن جاں بحق ہو گئے۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔ ڈینگی کا مسلسل بے قابو رہنا صوبائی حکومت کی کم کوشی کی دلیل تو ہے ہی اس کے ساتھ بلدیاتی اداروں اور رائے عامہ کے قائدین کی لاپرواہی کی طرف بھی اشارہ کرتاہے۔ ڈینگی سے بچاؤ کا کوئی انسدادی ٹیکہ نہیں ہے ۔ اس حقیقت سے آگاہی کی بنا پر علاقے کے ہر شہری کو حفاظتی تدابیر پر متوجہ ہونا چاہیے تھا اور ڈینگی سے بچاؤ کی کوششوں کو ایک سماجی تحریک کی حیثیت حاصل ہوجانا چاہیے تھی جس کی معاونت میں حکومت کو پیش پیش ہونا چاہیے تھا۔ لیکن حکومت کی ڈینگی بخار سے بچاؤ کی مہم محض چندمختصر اخباری اشتہارات تک اور ہسپتالوں میں ڈینگی کے مریضوں کے داخلہ اور علاج کی سہولتوں کی فراہمی تک محدود ہے جب کہ ضرورت اس بات کی زیادہ ہے کہ ڈینگی مچھر کا اتلاف کیا جائے اور اس کے پرورش پانے کے امکانات ختم کیے جائیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ لوگ ڈینگی کے شبہ کی صورت میں ہسپتالوں کارخ تو کرتے ہیں لیکن اپنے علاقوں میں ڈینگی کے پرورش پانے کے خلاف مہم چلانے میں کم دلچسپی لیتے ہیں۔ یہ اس بات سے بھی ثابت ہے کہ 24گھنٹوں کے دوران 429لوگوں نے ڈینگی کے شبہ میں ہسپتالوں سے رجوع کیا جن میں سے 255افراد میں ڈینگی وائرس کی تشخیص ہوئی ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ لوگوں میں ڈینگی کا خوف تو ہے لیکن اس کی جو نشانیاں سرکاری مہم میں بتائی جاتی ہیں ان پر توجہ کم ہے۔ یعنی حکومت کی اشتہاری مہم کماحقہ کامیاب نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ آئمہ مساجد' اساتذہ ' طلبہ ' سرکاری ملازم اور بلدیانی نمائندے ڈینگی سے آگہی کی مہم چلائیں تاکہ لوگ ڈینگی کے حملہ سے محفوظ رہیں۔اگر اس حوالے سے مزید غفلت برتی گئی تو ڈینگی کے خطرناک صورتحال اختیار کرنے کا خد شہ ہے جس پر قابو پانا پھر مشکل سے مشکل تر ہوجائے گا۔

متعلقہ خبریں