اب تماشا ہم دیکھیں گے

اب تماشا ہم دیکھیں گے

سشما سوراج کی جنرل اسمبلی میں تقریر نے میرے پیروں تلے آگ لگا دی ہے۔ اس ملک کے بارے میں جب بھی کوئی ایسی بات کرے اس کا منہ نوچ لینے کو دل چاہتا ہے۔ کبھی یہ احساس ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا ایک علیحدہ وطن حاصل کرلینا پھانس بن کر ہندوئوں کے سینے میں یوں گڑ گیا کہ وہ آج تک اس کی تکلیف سے آزاد نہیں ہوسکے۔ کبھی لگتا ہے کہ کچھ غلطیاں ہماری اپنی بھی ہیں۔ ہم اپنے ہی زخموں کو صحیح طور دنیا کو دکھا نہیں سکے۔ہندو ہمارے دوست کبھی نہیں ہوسکتے۔ شاید ہم میں سے اکثر یہ بات بھول جاتے ہیں۔ کبھی کبھی معیشت کی حقیقت سوچ پر غالب آنے لگتی ہے اور پھر خیال آتا ہے کہ سرحدوں پر سختی کچھ کم بھی ہوسکتی ہے۔ تجارت کے کچھ معاہدے ان سے بھی کئے جاسکتے ہیں۔ مسلمان کھلے اور صاف دل کا مالک ہوتا ہے اس لئے پچھلی کدورتیں بھول جانے کے لئے تیار رہتا ہے لیکن یہ پھر سر اٹھاتے ہیں' پھر پھنکارتے ہیں پھر اپنی اصلیت دکھاتے ہیں۔ ہر بار ان کی پھنکار میں پہلے سے زیادہ نفرت ہوتی ہے۔ ہر بار پہلے سے زیادہ خواہش ابھرتی ہے کہ ان کا سر کچل دیا جانا چاہئے۔ ہم ایک مہذب وقت میں رہتے ہیں جہاں آزادی اظہار کو وقت کی سب سے بڑی آزادی مانا جاتا ہے لیکن پھر خیال آتا ہے کہ چرچل نے درست کہا تھا۔ آپ کی آزادی وہاں ختم ہو جاتی ہے جہاں سے دوسرے کی ناک شروع ہوتی ہے۔ یہ سبق ان کو باور کروانا بہت ضروری ہوتا ہے جو یہ بھول جاتے ہیں کہ محض پراپیگنڈے سے کہانیاں تو بنائی جاسکتی ہیں حقیقت بدلی نہیں جاسکتی۔ پاکستان دہشت گرد بناتا رہا اور وہ ڈاکٹر اور انجینئر۔ بظاہر یہی لگتا ہے لیکن یہ بات کرنے سے پہلے سشما سوراج یہ بھول گئیں کہ پاکستان پر یہ الزام ان دنوں کا ہے جب اس کا دوست امریکہ تھا اور وہ یہ بھی یاد رکھیں کہ اب امریکہ بھارت کا دوست ہے۔ پاکستان میں دہشت گرد بنانے کی خواہش یا سکت کہاں تھی۔ دہشت گرد بنانے کے لئے ڈالر لگتے ہیں۔ ڈالر پاکستان سے ہو کر افغانستان پہنچتے رہے پاکستان استعمال ہوا۔ دہشت گرد پھر بھی پاکستان میں نہیں بنے کیونکہ پاکستان دہشت گرد نہیں بناتا۔ یہ خواہش ہی نہیں۔ پاکستان کا نام استعمال ہوا اور اسامہ بن لادن کو امریکہ کی سی آئی اے نے بنایا اور یہ نام ایک نہیں ایک طویل فہرست ہے۔ ایمن الظواہری کا نام ہے۔ فہرست مرتب کرنے لگوں تو پورا اخبار کم پڑنے لگے گا۔ یہ بھی بھارت کوخیال رکھنا چاہئے کہ پاکستان میں تو وہ (Strategic depth) دفاعی گہرائی ہی نہیں تھی کہ امریکہ کے دہشت گرد پاکستان میں بنائے جاتے۔ لیکن بھارت کا حجم اور مسائل بے شمار ہیں۔ بھارت کے اندر ہی سے دہشت گرد بنیں گے اور اسی خطے میں امریکہ کے سارے دشمن موجود ہیں۔ بھارت یاد رکھے کہ امریکہ بار بار کہتا ہے کہ بھارت ایک ارب انسانوں کی منڈی ہے۔ ان ایک ارب انسانوں میں محرومیوں کے نتیجے میں بدلے کی خواہش پیدا کرنا کوئی مشکل بات نہیں۔ روس امریکہ کے نشانے پر ہے۔ چین میں بھی امریکہ تباہی چاہتا ہے۔ ایران کو امریکہ کچل دینا چاہتا ہے اور تینوں جگہوں پر بھارت سے رسائی ممکن ہے۔ پاکستان تو امریکہ کے لئے وہ کام ہی نہیں کرسکتا تھا جو بھارت کرسکتاہے اور امریکہ میں پالیسی بنانے والے اس بات سے بخوبی واقف ہیں۔ بھارت کو استعمال کرکے امریکہ کہاں کہاں اپنے نشانے لگا سکتا ہے۔ امریکہ سے بہتر کون جان سکتا ہے۔ لیکن بھارت کو یاد رہے کہ امریکہ کی دوستی املتاس کی بیل کی کسی ہرے بھرے درخت سے یاری ہے۔ وہ لپٹ جائے تو درخت کی زندگی نچوڑ لیتی ہے۔ سو بھارت کو اب اس کے لئے تیار ہوجانا چاہئے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اس املتاس میں اب خود کو اٹھانے کی سکت بھی بہت کم ہے۔ سو جب وہ بھارت کا خون نچوڑنا شروع کریں گے تو ان کی اپنی معیشتی موت بھی بھارت پر وارد ہونی شروع ہو جائے گی۔ وہ ڈاکٹر اور انجینئر اور آئی ٹی کے ماہرین جو بھارت نے امریکہ کے حوالے کئے وہی بھارت کے جسم سے زندگی چوسنے میں امریکہ کے دانت بنیں گے اورا نہیں بھی یہ معلوم نہ ہوگا کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کا کیا مقابلہ ہے۔ بھارت کے جسم میں سے کتنے پاکستان نکل سکتے ہیں لیکن مقابلے کرتے ہوئے بھارت پاکستان سے برابری کی سطح پر بات کرتا ہے۔ سب سے پہلی شکست تو یہی ہے ذہنی اور نفسیاتی شکست اور مزید کسی شکست کے لئے پاکستان کو کسی خاص محنت کی ضرورت نہیں جیسے جیسے وقت گزرے گا امریکہ سے محبت کے بخار کے پھپھولے خود بخود بھارت کے جسم پر ظاہر ہونا شروع ہو جائیں گے۔ پھر معلوم ہو ہی جائے گا کتنے بیس کے سو ہوتے ہیں۔ بھارت کی مثال تو اس بد چلن عورت کی سی ہے جو اپنی نمائش سے خوش ہو رہی ہے۔ یہ نہیں جانتی کہ ان عورتوں کا حال کیا ہوتا ہے۔ سب معلوم ہو جائے گا۔ امریکہ نے صرف اسامہ بن لادن اور ایسے بے شمار نام ہی تشکیل نہیں دئیے۔ امریکہ نے القاعدہ بھی تشکیل دی تھی اور اب داعش بھی امریکی تخلیق ہے۔ پاکستان کا ایسی کسی بھی طاقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ڈاکٹر انجینئر تو ہم بھی بناتے رہے اور امریکہ بھی بھیجتے رہے لیکن پاکستان میں ویسی غربت نہ تھی جو بھارت میں ہے اور امریکہ کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں تو امریکہ پر کئی قدغنیں تھیں۔ اخلاقی رکاوٹیں تھیں' بھارت تو ایسی کوئی رکاوٹ پیش نہیں کرتا۔ بھارت کو امریکی محبت مبارک ہو۔ اب تماشا ہم دیکھیں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ امریکہ کیسے بھارت کو نوچ نوچ کر ادھ موا کرے گا۔ کیسے ڈاکٹر انجینئر خود بھارت کے ہی خلاف استعمال نہ ہوں گے۔ ہم دیکھیں گے کہ تماشا تو شروع ہوچکا اس میں مداری کیا کیا کھیل دکھائیں گے۔ اب ہم دیکھیں گے کہ بھارت اور ہندو کی چالاکی امریکہ کا مقابلہ کیسے کرے گی۔ اب ہم دیکھیں گے کہ خود نریندر مودی سے بھارت کو کون بچائے گا۔ کون نفرتوں کا مقابلہ کرے گا۔ غربت اور نفرت سے امریکہ کیسے کیسے آٹھ سر والے دہشت گرد نکالے گا۔ اب تماشا ہم دیکھیں گے۔

متعلقہ خبریں