دو بڑی اصلا حات

دو بڑی اصلا حات

پاکستان میں وفاقی حکومت کی جانب سے دو بڑی اصلاحات کے اقدام کیے گئے ہیں ایک انتخابی اصلاحات اور دوسری فاٹا اصلا حات شامل ہیں۔ انتخابی اصلا حات کے سلسلے میں ترمیمی بل حکومت سینٹ سے منظور کر انے میں کا میا ب ہو گئی ، جہا ں حکومتی پارٹی کے مقابلے میں حزب اختلا ف کی برتری ہے ، جو ترمیمی بل منظور کر ایا گیا ہے اس میں ایک شق سیا سی جما عتوںکی قائد کے بارے میں بھی ہے فوجی آمر پر ویز مشرف نے پا کستان کی دو بڑی جما عتو ں کو اقتدار سے روکنے اور خاص طور پر ان دو جما عتو ں کے لیڈرو ں کے اقتدار میں آنے میں رکا وٹیں کھڑی کی تھیں جس کے نتیجہ میں ایک سیا سی افراتفری پید ا ہو ئی تھی یہ اقدام اس نیت سے کیے گئے تھے کہ سیا ست میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور میا ں نو از شریف کا راستہ کھوٹا کر دیا جا ئے۔ عوامی قیا دت سے ہر آمر خوف زدہ رہتا ہے چنا نچہ پر ویز مشر ف نے جو نئے انتخابی قوانین نافذکیے تھے وہ اسی باک کی وجہ سے تھے۔ ایک یہ کہ جو شخص سزایا فتہ ہو گا وہ پارلیمنٹ کا رکن نہیںبن پائے اسی طرح میا ں نواز شریف اور محترمہ بے نظیر بھٹو کو سیاست ہی سے خارج کرنے کے لیے قانو ن یہ بنایا گیا کہ جو شخص پارلیمنٹ کا رکن بننے کا حقدا ر نہیں ہو اپنی کسی سیا سی جما عت کی قیا دت کے لیے بھی نا اہل ہو گا۔ اس قانو ن کی وجہ سے پر ویز مشرف کے دور میں 2002 میںہونے والے انتخابات میں گو میا ں نو از شریف اور بے نظیر بھٹو حصہ نہیں لے سکیں مگر ان کی جماعتوں نے اس طرح حصہ لیا کہ راتو ں رات پیپلز پارٹی پا رلیمنٹرین کانا م دے کر پا رٹی کو الیکشن کمیشن میںرجسٹرڈ کر ایا گیا اور اس کی قیادت پر مخدوم امین فہیم کے نا م کی پر چی چسپا ں کی گئی مسلم لیگ ن کی قیادت پہلے جا وید ہا شمی کے سپر د کی گئی بعدازاں اس کی با گ ڈور میا ں شہباز شریف کے ہا تھ میں تھما دی گئی ، مشرف ہی کے دور میں یک طرفہ تماشا یہ بھی کیا گیا یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ دو مر تبہ سے زیادہ یعنی تیسری مر تبہ وزیر اعظم نہیں بنا جا سکتا اور اس طر ح نو از شریف اور بے نظیر کا راستہ روکا گیا ، عملا ًیہ دیکھنے میں آیا کہ دونو ں کو سیا ست سے ہر اچھے برے قدم کے ذریعے خارج نہیںکیاجا سکا ، بہر حا ل نئی ترمیم کے ذریعے اب سزایافتہ شخص بھی پا رٹی کا سر براہ بن سکتا ہے اور اس طرح عملی اور براہ راست سیا ست میں نواز شریف کے قدم نہیں روکے جا سکیں گے ۔پا رلیمنٹ کو یہ اختیا ر حاصل ہے کہ عمر انیا ت کے اصول پر وہ قانو ن سازی اور آئین سازی کرے۔ اس کے اس اختیا ر پر کوئی قدغن نہیںلگا یا سکتا ہے ۔ نا قدین کا یہ کہنا کہ انتخابی بل میں پارٹی کی قیادت کے بارے میں تر میم ایک شخص کو فائد ہ پہنچانے کی غرض سے کی گئی ہے۔ یہ قطعی غلط ہے ، یہ بات اس حد تک تو درست ہے کہ فوری طو رپر اس سے کسی ایک کو فائد ہ پہنچ سکتا ہے مگر مستقبل میں دیگر سیاست دان بھی مستفید ہو سکتے ہیں ۔ لیڈر شپ کا تعلق براہ راست عوام سے ہو تا ہے اور مصنوعی طور پر لیڈر شپ کو نہ تو جنا جاسکتا ہے یہ عوامی قبولیت سے ہوتا ہے۔ اگر جنم کے مصنو عی راستے سیا سی قیا دت کے ہوتے تو پر ویز الہٰی یا چودھری شجا عت حسین کو میا ں نواز شریف یا بے نظیر بھٹو جیسا مقا م کیو ں حاصل نہ ہو ا ، لا ل حویلی والے شیخ جی کا سیا سی ستارہ اوج ثریا پر منڈلا تا ہو ا نظرآتا جبکہ ہر رات ان کو ٹی وی ٹاک شوز میں شیخیا ں بگھارنے کا مو قعہ فراہم ہے ۔نو از شریف سے کرسی کھسکا نے کے بعد سے ہی ثابت ہو گیا ہے کہ ان کو اپنے مقام سے گرا ناممکن نہیں ہے، جس کے لیے کسی طر ح بھی سو جتن کر لیے جا ئیں ، حاصل حصول کچھ نہیں ہو تا ، کیو ں کہ سیا ست کا کھیل عوامی طا قت کا کھیل ہے ، اگر ایسا نہ ہو تا تو آصف زرداری جو پاکستان کی بڑی پا رٹیو ں میں سے ایک بڑی جماعت ہے وہ بھی ذوالفقار علی بھٹو یا بے نظیر بھٹو جیسا مقام پاجاتے ان کی سیا سی حیثیت ذوالفقار علی بھٹو اورمحترمہ بے نظیر بھٹو کی پر چھا وے تلے ہی کھڑی ہے ، ان کے صاحبزادے بھی اسی کے زیر سا یہ سیا سی پنا ہ میں ہیں۔ وہ بھی بھٹو کا لا حقہ لگائے ہوئے ہیں اپنے داد اکی نسل زرداری سے اجتنا ب کیے بیٹھے ہیں ۔دوسری اہم اصلاح فاٹا میں ہوئی ہے جہا ں پو لیس ایکٹ نافذ کردیا گیا ہے ،سنا ہے کہ اس کے ساتھ ہی عدالتی نظام بھی وجو د میں آجا ئے گا ، پو لیس ایکٹ کے نفاذ کے ساتھ ہی پو لیس کی قیا دت کے پی کے پو لیس سر براہ کے سپر د کر دی گئی ہے جو ا س امر کی غمازی ہے کہ بتدریج اصلا حات کے ذریعے فاٹا کو صوبہ کے پی کا حصہ بنادیا جائے گا اور نئے اصلا حی اقدام سے پر ویز خٹک کا بھی عمل دخل فاٹا کی انتظامیہ میں بڑ ھ گیا ہے کیوں کہ پو لیس ان کے ماتحت ہے ۔فاٹا میں اصلاحات کے بارے میں کا فی عر صہ سے زور وشور تھا ، ملک کی چھوٹی بڑی پارٹیا ں فاٹا کو ضم کر نے کے حق میں آواز اٹھائے ہوئے تھیں تاہم جمعیت العلما ئے اسلام ف کے سربراہ مولا نا فضل الرّحما ن اور پشتو ن ملی پا رٹی اس کی مخالفت کررہی تھیں مگر ان جما عتوں نے اس بارے میںکھل کر نہیں بتایا کہ وہ کیو ں مخالف ہیں مولا نا فضل الرّحما ن کھلے بھی تو اس حد تک گئے کہ انہوں نے الزام لگا دیا کہ یہ سب امریکا کی خواہش پر ہو رہا ہے ، تاہم ان کا موقف درست تھا کیو ں کہ روس نے جب افغانستان میں دراندازی کی تھی تو فاٹا کی مو جو دہ حیثیت سے پاکستان کو بھر پو ر استفادہ ہو ا تھا ، اور روس کو گر م پانی تک رسائی حاصل کر نے سے روکا بھی جا سکا تھا اب حالا ت ویسے نہیں ہیں ۔ اس امر کا اندیشہ ہے کہ دروازے کی چوکھٹ پربیٹھا امریکا کوئی گل اس آڑ میںنہ کھلا ئے ۔(باقی صفحہ 7 )

متعلقہ خبریں