بلدیاتی نظام پر چیف جسٹس کے ریمارکس

بلدیاتی نظام پر چیف جسٹس کے ریمارکس

ہماری مثال تو اس غریب کی سی ہے جس کے بارے میں ایک پشتو کہاوت کچھ یوں ہے کہ اس کے بانگ پر کوئی کلمہ بھی نہیں پڑھتا ، مگر اب تو انگریزی محاورے کے مطابق فرام دی ہارسز مائوتھ والی بات ہوگئی ہے اس لئے امید ہے کہ اب جو لوگ ہماری باتوں کو درخور اعتناء نہیں سمجھتے تھے ۔ اثبات میں سر ہلا رہے ہوں گے ۔ جی ہاں ، ہم ایک عرصے سے اس حکومتی دعوے پر کہ صوبہ خیبر پختونخوا کا بلدیاتی نظام ''خوبیوں کا مرقع اور دنیا کے بہترین بلدیاتی نظاموں میں سے ہے '' یہی مودبانہ گزارش کرتے آرہے ہیں کہ یہ جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کی نہایت ہی بھونڈی شکل ہے ، لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے تو ہم کیا اور ہماری وقعت کیا ، اس لئے اس پر کسی نے توجہ نہیں دی ، لیکن اب تو حکومتی دعوئوں کے اس مندر میں گھنٹیاں سی بج اٹھی ہیں ، یعنی فاضل چیف جسٹس نے بہ بانگ دہل فرما دیا ہے کہ خیبر پختونخوا کابلدیاتی نظام غلطیوں سے بھرا ہوا ہے ، لگتا ہے جلد بازی میں قانون کہیں سے پیسٹ کیا گیا ہو ۔ کسی نے بلدیاتی قانون کا تفصیل سے جائزہ ہی نہیں لیا ، جلد از جلد الیکشن کرانے کی کوشش کی گئی ۔ اس پر تو یہی کہا جا سکتا ہے کہ 

الجھا ہے پائو ں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آگیا
جناب چیف جسٹس نے وہی بات جو ہم ایک نہیں کئی کالموں میں لکھ چکے ہیں کہ موجود ہ بلدیاتی نظام جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام کی نہایت بھونڈی صورت ہے ، سلیقے اور مدبرانہ انداز میں بہ الفاظ دیگر فرما دی ہے کہ ''لگتا ہے جلد بازی میں قانون کہیں سے پیسٹ کیا گیا ہو ''گو یا فاضل چیف جسٹس نے ہمارے خیال کی تائید فرمادی ہے ، تاہم مزید مودبانہ گزارش یہ ہے کہ فاضل چیف جسٹس نے یہ جو فرما دیا ہے کہ ''کسی نے بلدیاتی قانون کا تفصیل سے جائزہ ہی نہیں لیا '' تو ہمیں یاد ہے کہ جس وقت سپریم کورٹ کی بار بار کی ہدایت پر بہ امر مجبوری صوبائی حکومت بلدیاتی نظام کا مسودہ اسمبلی میں پیش کر کے اس پر بحث کروا رہی تھی تو اس سے پہلے موجودہ حکومت کی پیش رو حکومت یعنی اے این پی اور اس کے اتحاد یوں کی حکومت نے ایک بلدیاتی نظام کو بڑی حد تک اسمبلی فلور پر پیش کر کے قانون کو حتمی صورت دینے کی تگ و دو کی تھی لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ جس طرح موجودہ صوبائی حکومتوں نے بلدیاتی نظام کو پس پشت ڈالنے کی شعوری کوششیں کرتے ہوئے اس نظام کے قیام سے ہی انکار کی راہ اختیار کر رکھی تھی اور اگر سپریم کورٹ بار بار تمام صوبائی حکومتوں کو مجبور نہ کر تی تو شاید یہ نظام قائم ہی نہ کیا جاتا ، یہی رویہ گزشتہ حکومت کابھی تھا اور دوسری بات یہ ہے کہ موجودہ حکومت نے بجائے اس کے کہ اے این پی دور کے بڑے حد تک فائنل ہو جانے والے بلدیاتی نظام کے مسودے کے قانون کو آسانی کے ساتھ حتمی صورت دینے کے بجائے صرف اپنے پیش رو حکومت کو اس کا کریڈٹ لینے سے محروم کرنے کے زعم بلکہ اس حکومت کی مخالفت کے جذبات سے مغلوب ہونے کی وجہ سے اس مسودے کو طاق نسیاں میں رکھتے ہوئے جنرل مشرف کے بھونڈے بلدیاتی نظام کو بقول فاضل چیف جسٹس '' جلد بازی میں پیسٹ کرنے ''پر ہی اکتفا کر کے اور اس میں تھوڑی بہت تبدیلیاں کر کے صوبے کے عوام پر تھوپ دیا ، چونکہ جنرل مشرف کا بلدیاتی نظام نچلی سطح تک کرپشن پہنچانے کا مرقع تھا اس لئے اس وقت بھی صورتحال کچھ زیادہ مختلف نہیں ہے کیونکہ عام لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اس نظام کے تحت بھی بلدیاتی اراکین کیا گل کھلا رہے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ پانچوں انگلیاں برا بر نہیں ہوتیں اس لئے یقینا خدا کا خوف رکھنے اور قومی دولت کی لوٹ کھسوٹ پر یقین نہ رکھنے والوں کی بھی کمی نہیں ، بلکہ ہم ایسے کئی لوگوں سے واقف ہیں جو اس بہتی گنگا میں اشنان کرنے ، یا ہاتھ دھونے تو کیا ، اس سے اپنی ایک انگلی گیلی کرنے کو بھی دنیا و آخرت کیلئے نقصان دہ سمجھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ نظام میں موجود باقی لوگوں کیلئے قابل قبول نہیں ہیں ۔ بہرحال ان چند جملہ ہائے معترضہ کے برعکس خود تحریک انصاف کے سربراہ نے چند روز پہلے اس نظام کی ناکامی کا جو اعتراف کیا ہے اور اس کی ذمہ داری اراکین صوبائی اسمبلی پر ڈال دی ہے اس کے بعد یہ دعوے کہ یہ دنیا کے بہترین نظاموں میں سے ایک ہے محل نظر ہیں ۔ قارئین کرام خود انصاف کریں کہ جس نظام میں شامل ناظمین بھی اس بات پر احتجاج کررہے ہوں کہ ان کو اعزازیہ نہیں دیا جارہا تو بھلا انہیں اس بات کا پابند کیونکر بنایا جا سکتا ہے کہ وہ ایمانداری اور دیانت داری سے اپنے فرائض ادا کرتے ہوئے عوامی فنڈز درست طور پر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کریں گے ، اور جس نظام میں ناظمین کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی ہو اس میں دیگر عہدیداروں یعنی کونسلروں کی سطح تک کے تمام اراکین کیو نکر بغیر کسی لالچ یا طمع کے خدمات انجام دیں گے ۔ہمیں یاد ہے کہ جس وقت صوبائی اسمبلی میں اس نظام پر بحث ہورہی تھی ، حکومتی بنچوں کی جانب سے صرف عددی اکثریت کے بل پر حزب اختلاف کی جماعتوں کے اراکین کی معقول اورجائز ترامیم کو بھی بلڈوز کیا جا رہا تھا ، اور خصوصاً جماعت اسلامی کے اراکین کی جانب سے ( چونکہ بلدیاتی نظام ان کے پاس ہے ) اس ضمن میں نہایت سخت رویہ اختیار کیا گیا تھا اور وہ ہر صورت اپنے دیئے ہوئے مسودے کی منظوری پر بضد تھے ، اس نظام اور سابق آمر جنرل مشرف کے بلدیاتی نظام میں کسان اور مزدور کی نمائندگی بھی ڈالی گئی ، حالانکہ ہمارا انتخابی نظام اس قدر مہنگا اور مشکل ہے کہ کوئی کسان اور مزدور بے چارہ انتخابی نظام کا حصہ بننے کی تو سوچ ہی نہیں سکتا ، ظاہر ہے ان نشستوں کے رکھنے کا مقصد اپنی جماعتوں کے لیئے اکثریت حاصل کرنا ہے ، اسی طرح اور بھی کئی لوپ ہو لز ہیں ، تاہم کالم کی تنگ دامنی آڑے آرہی ہے اس لئے اس حوالے سے پھر کسی اور کالم میں بات ہوگی ۔
لوگ کہتے ہیں کہ گلشن میں بہار آئی ہے
بوئے گل پھر بھی پریشاں ہے اسے کیا کہئے

متعلقہ خبریں