اقوام متحدہ ،آپریشن تھیٹر یا میک اپ روم؟

اقوام متحدہ ،آپریشن تھیٹر یا میک اپ روم؟

شاہد خاقان عباسی کہنے کو تو ''مہمان وزیر اعظم ''ہیں جن کا جلد یا بدیر جانا یقینی دکھائی دیتا ہے۔خو د شاہد خاقان عباسی بھی کسر ِنفسی کے اعلیٰ درجے پر فائز رہ کر اپنے اصلی وزیر اعظم ہونے کا تاثر قائم نہیں ہونے دیتے مگر اقوام متحدہ کے ایوان میں انہوں نے جو خطاب کیا وہ لب ولہجہ مستقل وزرائے اعظم کا مقدر کم ہی ٹھہرا ہے۔اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے بہترویں اجلاس سے ان کا خطاب ''انڈیا سینٹرک'' تھا ۔بھارت کے بعد ان کے مخاطب وہ عالمی جنگ باز تھے جو اپنے ہاتھوں میں افغانستان کی فتح کی ریکھا نوک خنجر سے کھرچ رہے ہیں اور اس خواہش اور تمنا میں اپنے ہاتھ بھی زخمی کروارہے ہیں۔اقوام متحدہ جیسے عالمی فورم پر کسی سربراہ حکومت کا خطاب بظاہر تو ایک فرد کے خیالات اور الفاظ کا مجموعہ ہوتا ہے مگر اس کی تیاری میں پوری ریاست کی پالیسی کو سمویا جاتا ہے ۔یہ خطاب ریاستوں کی مجموعی پالیسی اورسوچ کا عکاس ہوتا ہے ۔اسی طرح شاہدخاقان عباسی کے خطاب کی تیاری میں بھی ریاستی اداروں کی مشاورت اور اجتماعی دانش شامل رہی ہوگی۔اس مشاورت اور دانش کی جھلکیاں وزیر اعظم کے خطاب میں واضح طور نظر آتی رہی۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کشمیر پراقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل درآمد کے لئے خصوصی ایلچی مقرر کیا جائے۔عالمی برادری کو کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورت حال کے بارے میں سوچنا چاہئے ۔بھارتی فوج کشمیر میں پیلٹ گن استعمال کررہی ہے جس کے استعمال سے بچوں سمیت ہزاروں کشمیری بینائی کھو چکے ہیں۔شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کشمیر پر جنگی جرائم کی عالمی سطح پر تحقیقات ہونی چاہئے ۔اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق انڈیا کی سربراہی میں مقبوضہ کشمیر کے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ایک مشن بھیجیںجو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کرے ۔ان کا کہنا تھا کہ بھارت سے مذاکرات کے لئے تیار ہیں مگر اس کے لیے بھارت کو پاکستان کی مغربی سرحد سمیت شدت پسند انہ کارروائیاں روکنا ہوں گی۔شاہد خاقان عباسی نے افغانستان کی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی افواج ،افغان حکومت اور طالبان تینوں طاقت کے زور پر مقاصد حاصل نہیں کر سکتے انہیں بات چیت کرنا ہوگی۔انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ پاکستان کے لئے افغانستان کا کردار ہرگز قابل قبول نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اگر بھارت نے کنٹرول لائن پر محدود جنگ کی حکمت عملی اختیار کی تو پاکستان بھرپور جواب دے گا ۔اس سے پہلے شاہد خاقان عباسی یہ بھی بتا چکے تھے کہ پاکستان نے ایٹمی ہتھیار بھارت کے خطرے کے پیش نظر تیار کئے تھے۔شاہد خاقان عباسی کی ان کھری کھری باتوں پر بھارت کی تلملاہٹ دیدنی تھی اور جواب کا حق استعمال کرتے ہوئے بھارتی مندوب مس اینم گھمبیر نے پاکستان پر روایتی الزامات عائد کئے اور پاکستان کو ''ٹیررستان'' قرار دیا ۔حافظ سعید کے قومی دھارے میں شامل ہونے کا قصہ چھیڑ دیااور کشمیر کے اٹوٹ انگ ہونے کا پرانا راگ الاپا۔شاہد خاقان عباسی کا خطاب پاکستان کی خارجہ پالیسی میں در آنے والی تبدیلی کا اشارہ دے رہا ہے ۔یہ خطاب بطور ریاست پاکستان کی خود اعتمادی کا مظہر تھا اور یوں لگ رہا تھا کہ اب واقعی پاکستان ''ڈومور '' کی گردان سے تنگ آکر اپنی بات کھل کر کہنے پر مجبور ہور ہا ہے۔اب عالمی اور علاقائی صف بندیاں تقریباً مکمل ہو چکی ہیں اور اس کے نتیجے میں کھیل اس مرحلے میں داخل ہوگیا ہے کہ اب مبہم اور ذومعنی اصطلاحات ،نرم محاوروں اور اشاروں ، کنایو ں اور علامتوں سے کام نہیں چل رہا ۔اقوام متحدہ ایک عالمی فورم ہے جس کی تخلیق اور قیام کا اولین مقصد دنیا میں تنازعات کاحل رہا ہے مگر چند بااثر طاقتوں نے اس اہم ترین عالمی جرگے کو ڈیبیٹنگ کلب بنا کر رکھ چھوڑا ہے۔اس ادارے میں عالمی اور علاقائی مسائل کی گونج اس طرح سنائی نہیں دیتی جس طرح کہ ہونا چاہئے۔یہ کرہ ارض کے مسائل کے باعث چیچک زدہ چہرے کا میک اپ روم ہے ۔جہاں تقریروں ، مباحثوں اور قراردادوں کے میک اپ کی تہہ میں اصل تنازعات کے بدنما اور قبیح صورت داغ چھپائے جاتے ہیں۔حقیقت میں دنیا کے مسائل جس رفتار سے بڑھ رہے ہیںاس ماحول میںعالمی ادارے کومحض میک اپ روم کی بجائے آپریشن تھیٹر کا کردار ادا کرنا ہوگا ۔مسائل کو مصلحت کی ملمع سازی میں چھپانے کی بجائے ان کی سرجری کا کڑوا گھونٹ پینا ہوگا ۔ اقوام متحدہ کا موجودہ سٹائل سرد جنگ کے عہد کی یادگار ہے ۔سردجنگ کے خاتمے کے بعد تو اقوام متحدہ کا کردار مزید محدود اور نمائشی ہو کر رہ گیا مگر اب ایک نئے منظر اور نئے جہان کی تشکیل ہورہی ہے۔ اس نئے منظر میں عالمی ادارے کا رول بھی از سر نو متعین ہونا لازمی ہے ۔وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے خطاب نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کی چھتری تلے دنیا میں کشمیر جیسے سلگتے ہوئے مسائل موجود ہیں جو عالمی نظام کے ''سب اچھا ''ہونے کے مصنوعی تاثر کی نفی ہی نہیں کرتے بلکہ جنگ کا حقیقی خطرہ پیدا کئے ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر اور فلسطین جیسے سلگتے مسائل نے اقوام متحدہ کے رویئے پر بھی سوالیہ نشان ثبت کیے ہوئے ہیں کیونکہ مسلم دنیا کے عوام میں یہ سوچ اب راسخ ہو چکی ہے کہ جہاں مسلمانوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہوتا ہے اقوام متحدہ کا رویہ عمومی طور پر سست اور خاموشی پر مبنی ہوتا ہے جبکہ دیگر مذاہب کے علاقوں میں فوری طور پر متحرک ہو جاتا ہے ۔ ایسٹ تیمور اور سوڈان کی مثالیں تاریخ کا حصہ بنیں ۔ 

متعلقہ خبریں