ثالثی عدالت'پاکستان کا احتجاج

ثالثی عدالت'پاکستان کا احتجاج

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے عالمی بنک کے صدر کو لکھے گئے خط میں پانی کی تقسیم کے پاک بھارت معاہدے سندھ طاس کے معاملے پر ثالثی عدالت کے چیئر مین کی تقرری میں غیر ضروری تاخیر پر احتجاج کیا ہے اور سندھ طاس معاہدے پر ثالثی عدالت بنانے کا عمل روکنے پر تحفظات کااظہار کیاہے۔ خط میں کہا گیاہے کہ عالمی بنک کا فیصلہ پاکستان کے مفادات کو ٹھیس پہنچائے گا اوراس سے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے مفادات متاثر ہوں گے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جب سے بھارت میں مودی سرکار نے راج سنگھاسن سنبھالا ہے تب سے اس نے نہ صرف پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات اٹھانے شروع کئے ہیں اور کشمیر کنٹرول لائن پر بلا وجہ اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کرکے سرحد پار آزاد کشمیر کے علاقے میں بے گناہ کشمیریوں کی جان ومال کو نقصان پہنچانا شروع کررکھا ہے (مقبوضہ کشمیر میں بھی اس کے مظالم انتہا کو پہنچ چکے ہیں) بلکہ بین الاقوامی سرحد پر بھی بھارتی افواج کی شر انگیزیاں کم نہیں ہو رہی ہیں اور اب بھارت سرکار نے پاکستان کے ساتھ ہوئے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے کی دھمکیوں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے حصے میں آنے والے دریائوں چناب' جہلم اور سندھ کے پانی کو روکنے کے لئے سازشیں شروع کردی ہیں۔ بھارتی پردھان منتری نریندر مودی نے حال ہی میں کسانوں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے ایک ایک بوند پانی کو روکنے کی کھلم کھلا دھمکی دی تھی حالانکہ سندھ طاس معاہدے کی رو سے محولہ تینوں دریائوں پر پاکستان کا حق ہے جبکہ راوی' ستلج اور بیاس پر بھارت کا حق تسلیم کیاگیا ہے۔ مگر اب سرحدپار سے آنے والی خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ بھارتی اداروں نے پاکستان کے حصے کے دریائوں پر بھی قبضہ کرنے کی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے جو عالمی قوانین اور خصوصاً سندھ طاس معاہدے کی بھی کھلی خلاف ورزی ہے۔ قوموں کے درمیان ہونے والے عالمی معاہدوںکی جن کو عالمی سطح پر تحفظ بھی فراہم ہو چکا ہو اہمیت نہ صرف مسلم ہوتی ہے بلکہ ان معاہدوںکی دھجیاں اڑانے والوںکے خلاف اقوام عالم بھی تحفظات کا اظہار کئے بناء نہیں رہ سکتیں اور اگر دوسرا فریق اس حوالے سے عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرے تو اس کی بات کو غور سے سنا جاتا ہے۔ مگر بد قسمتی سے پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اور بھارت کی جانب سے معاہدے کی دھجیاں اڑانے اور پاکستان کو اس کے حصے کا پانی بند کرنے کی دھمکیوں کے باوجود عالمی بنک جس نے سندھ طاس معاہدے کو تحفظ فراہم کیا ہے پاکستان کے مطالبے پر توجہ دینے کو تیار نہیں ہے۔ پاکستان نے اس حوالے سے غیر جانبدار ثالث مقرر کرنے کی جو درخواست کی ہے اس کے علی الرغم عالمی بنک کی جانب سے 12دسمبر کو بھیجے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کا غیر جانبدار ثالث کے تقرر کا مطالبہ غیر ضروری ہے۔ خط میں یہ بھی کہاگیا ہے کہ عالمی بنک سندھ طاس معاہدے پر عمل درآمد کے لئے سفیر مقرر کر رہاہے جو دونوں ممالک پاکستان اور انڈیا کے تنازعات باہمی طور پر دور کرنے کے لئے کوشش کرے گا۔ بھارت نے اس معاہدے پر ماہرین کے تقرر کا مطالبہ کیا تھا تاہم بنک نے ماہرین چیئر مین ثالثی عدالت کے تقرر کے بجائے سفیر مقرر کردیا ہے جس پر پاکستان نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے غیر ضروری طور پر معاملہ لٹکانے کے مترادف قرار دے دیا ہے اور ایک بار پھر عالمی بنک سے ثالثی عدالت کے چیئر مین کے تقرر کا مطالبہ کیا ہے جو نہ صرف پاکستان کا حق ہے بلکہ اگر دیکھا جائے تو عالمی بنک نے بھارتی حکومت کے موقف کی ایک طرح سے حمایت کرکے نہ صرف اپنی غیر جانبداری پر سوالیہ نشان ثبت کردئیے ہیں بلکہ معاملے کو لٹکا کر بھارت کو اس دوران میں ایسے اقدامات اٹھانے کے مواقع فراہم کردئیے ہیں جن پر عمل درآمد کے بعد اگر فیصلہ پاکستان کے حق میں بھی آتا ہے تو بھارت کو فرق پڑنے کے ''خدشات'' ختم ہو جائیں گے یعنی جب تک یہ معاملہ بات چیت کے ذریعے حل ہوگا تب تک بھارت ان دریائوں سے نہریں نکالنے اور پانی کے ذخائر جمع کرنے کے لئے اپنے منصوبوں کی تکمیل کرنے میںکامیاب ہوچکا ہوگا۔ اس کے بعد پاکستان کااحتجاج بے معنی ہو کر رہ جائے گا۔ اس لئے ضروری ہے کہ عالمی بنک اس معاہدے پر اس کی سپرٹ کے مطابق عمل درآمد کے لئے بھارت پر پابندی لگائے کہ وہ فیصلہ ہونے تک ان دریائوں کے پانی کو چھیڑنے کی ہر گز کوشش نہ کرے اور پاکستان کو اس کے حصے کے پانی سے محروم کرکے دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید کشیدہ نہ بنائے۔ اس لئے کہ پاکستان کے حصے کا جائز پانی روکنے کے اقدامات جنگ کی دھمکی ہی تصور کی جاسکتی ہے اور اگر بھارت نے پاکستان کو خشک کرنے کی سازشیں ترک نہیں کیں تو خدا نخواستہ دونوں ملکوں میں کسی بھی وقت ایک اور جنگ چھڑ سکتی ہے جس کے نتیجے میں دنیا ایک اور عالمی جنگ کے دہانے پر پہنچ سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں