معذور بچوں کی دیکھ بھال

معذور بچوں کی دیکھ بھال

پاک فوج کے زیر اہتمام '''امید سپیشل ایجوکیشن سکول'' میں عالمی یوم جسمانی معذوری کے موقع پر ایک پر وقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبر پختونخوا اقبال ظفر جھگڑا نے کہا ہے کہ جسمانی لحاظ سے معذور بچوں کی دیکھ بھال' تعلیم و تربیت' بہتر نگہداشت انفرادی ہی نہیں بلکہ اجتماعی ذمہ داری ہے جس کے لئے بحیثیت قوم ہمیں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ امر واقعہ یہ ہے کہ جسمانی لحاظ سے معذور بچوں کی دیکھ بھال اور انہیں زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھانے کے لئے ان کی ہر طرح سے معاونت کرنا نہ صرف ان کے والدین کی ذمہ داری ہے بلکہ معاشرے پر بھی یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس قسم کے بچوں کی بہتر تربیت کے لئے ایسے ادارے قائم کریں جہاں ان کی خصوصی نگہداشت اس طرح سے ہو سکے کہ یہ بچے اپنی معذوری کی وجہ سے خود کو عام انسانوں کی طرح محسوس کرسکیں۔ انہیں جسمانی معذوری پر کوئی شرمندگی نہ ہو اور یہ کسی نفسیاتی بیماری میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو کمتر نہ سمجھیں۔ تاہم اس کے لئے ہمیں معاشرے کو بدلنے کے لئے بھی اقدامات کرنے ہوں گے اور پہلے والدین کو یہ پیغام دینا ہوگا کہ جسمانی طور پر معذوری اللہ تعالیٰ کی جانب سے ایک امتحان ہے جس سے بہ حسن و خوبی نمٹنے میں انہیں بھی اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔ معذور افراد اکثر معاشرے میں زندگی گزارتے ہوئے اپنے ماحول میں رہنے والے دیگر افراد کے طنزیہ جملوں اور نا مناسب ناموں سے پکارنے کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ہمیں یہ رویہ بھی بدلنا ہوگا اور ایسے افراد کو احترام آدمیت کے اصولوں کے تحت ہمدرددانہ لب و لہجے سے ان کی حوصلہ افزائی کا باعث بن کر ان کی جسمانی معذوری کی وجہ سے کسی کمی کے احساس میں مبتلاکرنے سے گریز کی پالیسی اختیار کرنا پڑے گی اور اپنے بچوں کی تربیت ایسے خطوط پر کرنا ہوگی کہ اگر سکول' گلی یا محلے میں ایسے معذور بچے ان کو نظر آئیں تو ان کے ساتھ دیگر بچے بھی ہمدرددانہ رویہ اختیار کریں۔ بد قسمتی سے جسمانی معذوری سے بچائو کے ٹیکے اور پولیو کے قطرے پلانے کے خلاف ملک میں ایک انتہا پسند طبقہ منفی خیالات رکھنے کی وجہ سے غلط پروپیگنڈہ کرکے پولیو اور دیگر بیماریوں میں اضافے کا سبب بن رہاہے۔ اس ضمن میں بھی ضروری اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ جسمانی معذوری کی بیماریوں پر قابو پا کر ہم ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کرسکیں۔
اک ذرا صبر کہ فریاد کے دن تھوڑے ہیں
اخباری اطلاعات کے مطابق تربیلا جھیل کے آبی ذخائر میں خطرناک حد تک کمی کی وجہ سے تربیلا بجلی گھر کے 8 یونٹ بند ہوگئے ہیں اور بجلی گھر کی پیداوار 3478 میگا واٹ کم ہو کر 622میگا واٹ پر آگئی ہے۔ پیداوار کم ہونے سے لوڈشیڈنگ میں اضافے کاخدشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جھیل میں پانی کی آمد میں کمی کے باعث گنجائش 135فٹ تک کم ہو کر پانی کی سطح 1415.05 فٹ ہوگئی ہے جو ظاہر ہے خاصی تشویشناک صورتحال ہے جسے اگر بھارتی اقدامات کی روشنی میں دیکھا جائے تو اس کی وجوہات سمجھ میں آجاتی ہیں۔ بارشوں کی کمی کی وجہ سے بھی پانی زیادہ مقدار میں نہیں آرہا ہے اس لئے بجلی لوڈشیڈنگ میں کمی کے حکومت کے دعوے بھی سراب ثابت ہو رہے ہیں جبکہ سردی اور دھند میں اضافے کی وجہ سے گیس کی لوڈشیڈنگ میں اضافے نے خیبر پختونخوا کے طول و عرض اور خاص طور پر صوبائی دارالحکومت میںعوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ گھروں میں چولہے تک ٹھنڈے پڑ چکے ہیں اور عوامی زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔ کھانا پکانے کے لئے خواتین کو تین تین گھنٹے تک ہانڈیوں کو چولہوں پر چڑھا کر بے صبری سے انتظار کی گھڑیاں گزارنی پڑتی ہیں۔ بچے اور دفاتر ' کاروبار پر جانے والوں کو بعض اوقات بناء ناشتہ کئے گھروں سے نکلنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ مساجد میں وضو کے لئے گرم پانی ناپید ہوچکا ہے جبکہ شہر بھر میں تندوروں میں نانبائی بہ امر مجبوری لکڑیاں جلا کر دوڑ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو کے مصداق پرانے دور کی مانند روٹیاں لگانے میں مصروف ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ صوبائی حکومت اس حوالے سے اپنے حقوق کے تحفظ میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔ قدرتی گیس کے منابع کے حوالے سے ملکی آئین نہایت واضح ہے اور وہ ان صوبوں کے حقوق کو تحفظ فراہم کرتا ہے جہاں گیس کے ذخائر موجود ہیںیعنی گیس نکلنے والے صوبوں کو یہ حق حاصل ہے کہ پہلے وہ گیس سے اپنی ضروریات پوری کرے اوراس کے بعد یہ گیس ملک کے دیگر حصوں کو فراہم کی جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گرگری گیس فیلڈ اور کوہاٹ کے علاقوں سے نکلنے والی گیس کا بہت ہی کم حصہ صوبے کی اپنی ضروریات کے لئے کافی ہے۔ مگر اس کے باوجود صوبے کو اپنے ہی گیس کے ذخائر میں سے قلیل مقدار میں بھی گیس فراہم نہیںکی جاتی جس کی وجہ سے صوبے میں بجلی کے ساتھ گیس کی بے پناہ لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے مگر صوبائی حکمران بے حسی کی تصویر بنے ہوئے ہیں اور عوام کے حقوق کی بازیافت میں ناکامی سے دوچار ہیں۔

متعلقہ خبریں