انصاف کی زبان

انصاف کی زبان

لا ہور ہائی کو رٹ بار کی سلو ر جو بلی تقریب سے خطا ب کر تے ہو ئے چیف جسٹس پاکستان میا ں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ کسی کے دباؤ میں آئیں گے اور نہ ہی مصلحت ، مفاد اورخوف کا شکا ر ہوں گے تما م فیصلے میرٹ پر کئے جائیں گے ، شفافیت کی جانب کوئی بھی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھ سکے گا۔نظام بدلنے کا وعدہ نہیں کررہا تاہم دائر ہ اختیا ر میں رہتے ہوئے کو شش کروں گا۔ پا کستان کو ایسے لو گو ں کی ضر ورت ہے جو دیا نتدار ہو ں ، ججو ں کی تعیناتی کیلئے ترازو میں جھول نہیں آنا چاہیے عہد کر تا ہو ں کہ فرض کی انجا م دہی میںکبھی کمزور نہیں پڑوں گا ، عوام کے اعتما د کو بحال کرنا ہو گا ۔

چیف جسٹس پا کستان نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے وہ دراصل پاکستان کے عوام کی دل کی آواز ہے ، عوام یہ ہی چاہتے ہیں کہ عوام کو انصاف بلا تاخیر ملے ، سستا ملے ، یہ کہنے میں باک نہیں کہ پاکستان کی عدالتو ں کے احاطو ں میں جو کا ر وبار ہوتا ہے ، وہ انتہا ئی قابل افسو س ہے۔ ایک طرف مصیبت زدہ اپنے مقدمے کی پیر وی کے لیے خوارہو رہاہوتا ہے اور دوسری جانب اس کی جیب جا ئز کا م پر نا جائز طورپر خالی کرائی جا رہی ہوتی ہے۔ چیف جسٹس صاحب نے اپنی تقریر میں فرمایا ہے کہ وہ نظام بدلنے کا وعدہ نہیںکررہے ہیں بلکہ دائر ہ کا ر میں رہتے ہوئے مساعی کی بات کر رہے ہیں۔ بات تو درست ہے کہ پا کستان میں سیاست دانوں کے طر ز عمل نے بہت سے شکو ک پیدا کر رکھے ہیں۔چنا نچہ اب حالت یہ ہے کہ عوام سیا ست دانو ں کی ہر بات کو سنجید ہ نہیں لیتے کیو ں کہ اعتما د کی فضا کو ان سیا سی وعدو ں کی بنا ء پر گہری زد پڑچکی ہے۔ معاملہ اب اعتما د اور بے اعتما دی کے درمیا ن نہیں رہا ہے۔ عدلیہ کی بحالی کے لیے یہ بات تو درست ہے کہ عوام نے بھر پور ساتھ دیا، قربانی سے بھی دریغ نہیں کیا تاہم ججز کو بھی سلا م ہے کہ انہو ں نے عدلیہ بحالی کی تحریک میں عظیم قر بانی پیش کر کے ایک عمد ہ مثال قائم کی جس کی بنا ء پر عو ام کا عدلیہ پر بھر پو ر بھر وسہ قائم ہوا ۔ ما ضی کی عدلیہ کی تاریخ کی ورق گردانی کی جا ئے تو افسو س اور ملال کے سوا کچھ نہیں ملتا مگر یہ سب کچھ بیر ونی دباؤ اورکسی حد تک ذاتی مفاد کی بنیا د پر ہوتا رہا ہے ، ساٹھ کی دہا ئی تک عدلیہ کا کر دار دھند لایا نہیں تھا ، عمد ہ انصاف کی تو قع اپنی جگہ مو جو د تھی ، اور اس زمانے میں کئی اہم ترین فیصلے آئے جو آج بھی تاریخ کا اہم ترین با ب قرار پا تے ہیں اگر چہ جسٹس منیر کا فیصلہ اسمبلیو ں کو توڑنے کا درست قراردینے کا پا کستان کے مستقبل کا تاریک ترین فیصلہ قرار پایا مگر اس کے باوجو د بعد میں عد لیہ نے انصاف کے تقاضوں کو مدنظر رکھا ،عدلیہ میں ایک لمبی فہر ست ہے بے باک ، اکل کھرے ، انصاف دار ، ایما ندار ، اور باکردار ججز کی ، قوم اس معاملے میںبانجھ نہیں رہی ہے صرف ایک مثال کا فی ہے۔ سابق چیف جسٹس مسڑ جسٹس کا رنیلس کی زندگی آج بھی انصاف کے لیے خدما ت انجا م دینے والو ں کے لیے مشعل راہ ہے۔ جسٹس کارنیلس فرما یا کر تے تھے کہ وہ غیر مسلم ہو تے ہو ئے بھی آئینی طو رپر مسلما ن ہیں ، کیو ں کہ پاکستان ایک اسلا می ریا ست ہے اور اس کا باشندہ ہو نے کے نا تے وہ دستو ر ی طورپر مسلمان ہیں۔ جسٹس کارنیلس عدالت میں خاموش رہتے تھے کسی قسم کا تبصرہ کر نے سے اجتنا ب کر تے تھے ، وہ کبھی کسی کے دباؤ میں نہیں آئے۔انہو ں ایو ب خان کی جا نب سے جما عت اسلا می کو غیر قانونی قر ار دینے کے حکم کو کا لعد م قر ار دیا تھا۔اس طر ح ایک مطلق العنا ن آمر کے مقابلے میں انہو ں نے انصاف کا دامن مصفا و نظیف رکھا ۔جو تاریخی فیصلہ ہے۔ جسٹس کا ر نیلس کو کبھی کسی عوامی تقریب میں نہیںدیکھا گیا کیوں کہ وہ اس سے اجتناب برتے تھے کیو ں کہ اس طرح کی سر گرمیو ں سے وہ جج کے احترام اور اعتما د کے دامن کو دھبّہ لگنے سے محفو ظ کیے ہو ئے تھے۔ یہ صرف ایک شخصیت کی مثال تھی ایسے درجنو ں جج گزرے ہیں جنہوں نے نیک نا می کو بٹّہ نہیں لگنے دیا اس راہ میں صعوبتیںبرداشت کیں جس کی تا زہ ترین سابق فوجی آمر پر ویز مشرف کے دور کی مثال مو جو د ہے کہ درجنوں ججز کو ان کے گھروں میں بال بچو ں سمیت نظر بند کر دیا گیا مگر آفرین ہے کہ انہو ں نے ایک جا بر آمر کے سامنے جھکنے کی بجا ئے ان سختیو ں اور مصیبتو ں کو قبول کیا ، سچ یہ ہی ہے کہ انصاف گونگا نہیں ہوتا ، بولتا ہے ، وجو د رکھتا ہے ، اس لیے نظر آتا ہے ، مگر یہ گونج اسی وقت عیا ں ہو سکتی ہے کہ تما م متعلقہ عنا صر بھی اپنا کر دار ادا کریں ۔
متعلقہ عنا صر سے مر اد پہلے نمبر پر حکو مت ، دوسرے نمبر پر عوام ، تیسرے نمبر پر قانون دان چاہے وہ وکلا میں سے ہو ں یا کسی ادارے سے تعلق رکھتے ہو ں ، ان کا ایک ہی مشن ہو نا چاہیے کہ قوم انصاف سے تہی دامن نہ ہو۔ مصیبت یہ ہے کہ جب کسی کی خواہش کے مطابق فیصلہ نہیںآتا تو وہ عدلیہ کو دبا ؤ میں لا نے کی بدعت میں مبتلا ہو جا تا ہے جیسا کہ گزشتہ دنو ں ایک سیاست دان یہ کہتے سنے گئے کہ وہ سپر یم کو رٹ سے مایو س ہو ئے ہیں پھر سے جلسہ جلو س کریں گے ، کیا یہ طرز عمل قوم کے مفاد میں ہے ، نظام کی خرابی میں ان کا بھی بلکہ سب سے بڑا ہا تھ انہی جیسے عنا صر کا ہے ۔ سیاست دانو ں کا عدلیہ کے معاملے میںسچی بات یہ ہے کہ کر دار کوئی قابل ذکر نہیں رہا ہے۔اگر فیصلہ من پسند آگیا تو واہ واہ اگر الٹ آگیا تو وہ پھر عدلیہ کی کردارکشی پر جت جاتے ہیں اور اس کے کر دا ر کو متنازعہ بنا ڈالتے ہیںجیسا کہ حال ہی میں سابق فوجی آمر پر ویز مشرف نے پاکستان سے مفر کے بارے میں جہا ں راحیل شریف کی دوران ملا زمت توقیر بنی ہو ئی تھی اس کو داغدار کرنے کی سعی کی وہا ں انہو ں نے عدلیہ پر دبا ؤ کا بھی الزام لگا یا جو قبیح طرز عمل ہے۔ راحیل شریف ہنو ز خامو ش ہیں ان کی جا نب سے وضاحت ضروری تھی کہ مشرف کہا ں تک سچے ہیں کہ انہو ں نے مشرف کو پا کستان سے نکا لنے اور غداری ، قتل اورلا ل مسجد جیسے سنگین مقدما ت سے بچانے کے لیے کوئی کر دار ادا کیا یا نہیں یا مشرف ویسے ہی بڑماررہے ہیں۔

متعلقہ خبریں