سی پیک منصوبہ اورگوادر میں پانی کا شدیدبحران

سی پیک منصوبہ اورگوادر میں پانی کا شدیدبحران

اقتصادی راہداری منصوبے کے افتتاح کے بعد یہ جملے زبان زدعام ہیں کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا، بین الاقوامی تجارت کے ساتھ ساتھ علاقائی سطح پر لوگوں کو روزگار ملے گا۔ بالخصوص بلوچستان جیسے پسماندہ صوبہ کی تو قسمت ہی جاگ اٹھے گی۔ اس تناظر میںلیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ گوادر پورٹ فعال ہوتے ہوئے بیس سال کا عرصہ لگے گا۔ اس سے قبل بیسیوں قسم کے مسائل سر اٹھائیں گے۔ مثلاً گوادر میں گزشتہ تین سال کے دوران بارش نہ ہونے کی وجہ سے پورا علاقہ پانی کی شدید قلت کا شکار ہے اور یہ بحران دن بدن شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ اس وقت حقیقت یہ ہے کہ گوادر اور اس کے قرب و جوار میں واقع گاؤں دیہات کے علاقے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔ ان علاقوں میں دھول اڑ رہی ہے جس کی وجہ سے علاقہ مکین یا تو اپنے مال مویشی اونے پونے داموں بیچنے پر مجبور ہیں یا وہاں سے نقل مکانی کر رہے ہیں۔ گوادر اور اس کے ارد گرد کے علاقوں کو پانی کی فراہمی کا واحد ذریعہ اکارہ کور ڈیم ہے لیکن گزشتہ تین سال سے بارش نہ ہونے کی وجہ سے ڈیم تقریباً خشک ہو چکا ہے۔ ایک بلوچ دوست نے اس ڈیم بارے بتایا کہ 1990ء کے اوائل میں یہ ڈیم تعمیر کیا گیا تھا لیکن چند وجوہ کی بنا پر یہ ڈیم پانی کی ضروریات پوری کرنے میں ناکام رہا ہے۔ ایک یہ کہ علاقے کی آبادی میں اضافہ ہو چکا ہے اور ڈیم میں پانی کے ساتھ آنے والی مٹی کو سال بہ سال صاف کرنے پر کوئی توجہ نہیں دی گئی حتیٰ کہ اس مقصد کے لیے مختص کی جانے والی رقم مبینہ طور پر خوردبرد کی جاتی رہی جس کی وجہ سے ڈیم میں مٹی جمتی رہی اور پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش کم ہوتی چلی گئی۔ گوادر میں پانی کی قلت سے بے حال عوام کے لیے اگرچہ سندھ حکومت نے خیر سگالی کے طور پر پانی کی فراہمی کے اقدامات کیے ہیں لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ گوادر کو پانی کی فراہمی کے لیے سندھ حکومت کے اقدامات سے گوادر کے لوگوں کو عارضی ریلیف حاصل ہوگا لیکن یہ اس مسئلے کا دیرپا حل نہیں ہے۔ گوادر کے لوگوں کو پانی کی فراہمی کے لیے تعمیر کیے گئے اکارہ کور ڈیم سے پانی کا ختم ہو جانا کسی المیے سے کم نہیں ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے اس علاقے میں پانی کی فراہمی کے انتظامات پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی اور نہ صرف یہ کہ علاقے میں پانی ذخیرہ کرنے کے لیے دوسرے آبی ذخائر تعمیر کرنے پر توجہ نہیں دی بلکہ اس ڈیم میں پانی کا وافر ذخیرہ کرنے کے لیے اس کی صفائی اور دیکھ بھال کے انتظامات کرنا بھی ضروری خیال نہیں کیا۔ سی پیک منصوبہ جسے حکومت وسط ایشیاء کا گیٹ وے قرار دے رہی ہے اور کاغذی منصوبوں کے مطابق یہ علاقہ جلد ہی اس خطے کا ایک بڑا کاروباری اور صنعتی علاقہ بن جائے گا، اس جیسے اہم علاقے میں پینے کے پانی کا کوئی انتظام نہ کیا جانا اور گوادر کو ترقی دینے کے منصوبوں میں اس شہر کے لوگوں اور شہر میں کاروباری سرگرمیوں میں اضافے کے بعد علاقے کی آبادی میں متوقع اضافے کے بعد پانی کی طلب میں ممکنہ اضافے کو مدنظر نہ رکھا جانا' کس کی غلطی ہے اور اس بڑی غلطی کی سزا کسے بھگتنا پڑے گی؟ کیا پانی کے بحران کے باوجود غیر ملکی کمپنیاں گوادر کو اپنے کاروبار کا مرکز بنانے پر تیار ہوں گی اور کیا پانی کے مناسب انتظام کے بغیر گوادر کی بندرگاہ پر معمول کی سرگرمیاں جاری رکھنا ممکن ہو سکے گا؟ یہ وہ سلگتے ہوئے سوالات ہیں جن کی ذمہ داری وفاقی حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ گوادر کا منصوبہ مجموعی طور پر وفاقی حکومت کا ہی منصوبہ ہے اور چین کے تعاون سے شروع کیے جانے والے اقتصادی کوریڈور میں بھی اس کو کلیدی حیثیت حاصل ہے' اگر سی پیک کے ایک کلیدی منصوبے کی منصوبہ بندی کا یہ عالم ہے تو پھر اس منصوبے کے دیگر پراجیکٹس کی افادیت پر کیونکر یقین کیا جا سکتا ہے۔ یہ کوئی اچانک یا اتفاقی طور پر پیدا ہونے والی صورت حال نہیں ہے بلکہ یہ قدرتی صورت حال ہے' جس سے پاکستان میں بسنے والا ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے۔ اس لیے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکمران ملک اور خاص کر ان علاقوں کی ترقی کے منصوبے تیار کرتے ہوئے انسان کی بنیادی ضرورت پانی کی فراہمی کے مناسب انتظامات کرتے اور ان علاقوں میں پانی کی ضروریات کی تکمیل کے لیے جدید طریقے اختیار کیے جاتے۔ اس طرح نہ صرف یہ کہ ان علاقوں کے لوگوں کو بار بار نقل مکانی اور پانی کی قلت کے دنوں میں اپنے مال مویشی اونے پونے بیچ کر تہی دست ہونے کا غم سہنا نہ پڑتا بلکہ مویشیوں کی افزائش کی صورت میں ملک گوشت اور دودھ اور دیگر ڈیری مصنوعات میں بھی خود کفیل ہوتا۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت اور پالیسی ساز یہاں تک کہ متعلقہ صوبائی حکام بھی پانی کے اس بحران پر چشم پوشی کیے ہوئے ہیں ، جب کہ اگر فوری طور پر مناسب اقدام نہ کیے گئے تو صورت حال مزید بدترین ہو جائے گی۔ اب جب کہ چین کی حکومت سی پیک منصوبے کو جلد ازجلد مکمل کرنے کے لیے بھاری سرمایہ کاری کر رہی ہے، اس منصوبے کو کامیاب بنانے کے لیے حکومت پاکستان کو ہنگامی بنیادوں پر منصوبہ بندی کرنی چاہیے تاکہ پانی کے اس بحران پر قابو پایا جا سکے۔گو کہ مجموعی طور پر ہم منصوبہ بندی میں ناکام ثابت ہوئے ہیں،لیکن اگر حکومت نے پانی بحران کی طرف کوئی توجہ نہ دی تو سی پیک منصوبے کا مستقبل بھی دیگر منصوبوں سے جدا نہ ہو گا۔

متعلقہ خبریں