بڑا آیا میرٹ پر بھرتیاں کرنے والا

بڑا آیا میرٹ پر بھرتیاں کرنے والا

ایک زمانہ ہوگیا ایک انگریزی اخبار کے پہلے صفحے پر ایک نہایت ہی معنی خیز کارٹون نظر سے گزرا تھا جس میں اس کارٹون کا ایک مستقل کردار ننھا ایک ایسا جملہ کہتا ہے جو آج چالیس سال بعد بھی ہمارے ذہن پر نقش ہے۔ کسی تعلیمی ادارے میں اپنے بھائی کے داخلے سے محرومی کے نتیجے میں ننھا ایک شاہلکار جملے میں ملک کے نجی تعلیمی اداروں کے معیار کو لپیٹ کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے' وہ کہتا ہے۔

My brother could not get admission in a college so he opened one of his own.
مطلب اس کا یہ بنتا ہے کہ میرے بھائی کو کالج میں داخلہ نہ مل سکا تو وہ اپنا ایک کالج کھول بیٹھا۔
کسی سیاسی اور سماجی مسئلے پر تبصرے اور تجزئیے تو ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات کوئی بھی ذہین و فطین کارٹونسٹ کچھ ایسا بھرپور نکتہ جملے کی صورت میں پیش کردیتا ہے کہ اس کے سامنے سنجیدہ تبصرے اور طویل تجزئیے بھی بے معنی ہو کر رہ جاتے ہیں۔ کارٹونسٹ کے لئے ضروری ہے کہ وہ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کا فن جانتا ہو۔ اس نوع کا ایک بھرپور اور معنی خیز کارٹون زیر نظر صفحے پر کچھ روز پہلے ہماری نظر سے گزرا جس میں سلیمان کارٹونسٹ نے سندھ کے انسپکٹر جنرل آف پولیس کو ان کے عہدے سے ہٹائے جانے کے واقعے کو کچھ اس طور سے پیش کیا تھا جس میں طنز کا نشتر اور مزاح کی پھلجڑی بیک وقت موجود تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ایک کارٹون جس کے جملے کو ہم نے آج اپنی تحریر کا عنوان بنایا ہے اس وقوعے پر ایک شاہکار کا درجہ رکھتا ہے۔ خبر تھی وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی کو فارغ کردیا' کیو ں کردیا اس پر بھی ہم بات کریں گے' کارٹون میں وزیر اعلیٰ کارٹونی شبیہہ میں آئی جی سندھ کو کمر پر لات رسید کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے ۔وہ ساتھ یہ بھی فرماتے ہیں' بڑا آیا میرٹ پر بھرتیاں کرنے والا۔ آئی جی پی صاحب کی صرف ٹوپی ہی ہوا میں اڑتی نظر نہیں آتی جو منصب سے محرومی کا بھرپور علامتی اظہار ہے۔ موصوف خود بھی لات کی ضرب سے دور لڑھکتے دکھائی دیتے ہیں جو ان کو بالجبر ڈی سیٹ کا نقشہ ہے۔ شنید ہے اس کہانی میں اس سے پہلے بھی بے شمار موڑ آچکے ہیں۔ یہ تو اس کا ڈراپ سین تھا جو آئی جی سندھ کو جبری رخصت پر بھیجنے کی صورت میں پیش آیا۔ سندھ کے اس پولیس افسر کے بارے میں بتایا جاتا ہے وہ قاعدے قانون کے اندر رہتے ہوئے کام کرنے کا بڑا شوق رکھتے ہیں۔ اپنے محکموں میں کسی کی مداخلت بھی نا پسند کرنے کے خبط میں مبتلا رہتے تھے۔ امن و امان قائم رکھنے کے کام پر بھی سختی سے کار بند تھے۔ کسی جانب سے دھونس یا دبائو قبول نہیں کرتے تھے۔ ظاہر ہے وطن عزیز میں اس طرح کے سرکاری اہلکار کو اپنی عزت سادات بھی محفوظ رکھنا مشکل ہوجاتا ہے اور یہی کچھ آئی جی سندھ کے ساتھ بھی ہوا۔ اس ضمن میں ہمارے پاس اپنے صوبے کے ایک نہایت ہی اہم محکمے میں وفاق کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر ایک تعیناتی کا علم ہے جس کا ذکر ہم کسی دوسرے وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔ فی الوقت تو یہ بتانا چاہتے کہ سندھ کے آئی جی پی اللہ دینو خواجہ صاحب کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ سندھ کے وزیر اعلیٰ کی حکم عدولی کا شاخسانہ تھا۔ پہلے تو انہیں ملیر سٹی کے ایک ایس ایس پی کو معطل کرنے پر جھاڑ پڑی جس نے اپنے محکمے کے اعلیٰ حکام کے علم میں لائے بغیر کچھ گرفتاریاں کی تھیں۔ بغیر اجازت کے پریس کانفرنسز بھی کرتے رہتے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اس ایس ایس پی کی بحالی کے احکامات بھی مبینہ طور پر اوپر سے براہ راست جاری ہوئے اور اب ان پرایس ایس پی صاحب کی پرانی جگہ پر تعیناتی کے لئے دبائو تھا۔ اس سیاسی مداخلت کو آئی جی پی نے یکسر مسترد کردیا۔ امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے والے کچھ عناصر بھی انہوں نے راہ راست پر لانے کی کوشش کی تھی۔ وہ بار سوخ لوگ تھے۔ آئی جی پی کایہ دبائو انہیں پسند نہ تھا اور پھر محکمے میں بھرتیاں بھی اہلیت پر کرنا مقصود تھا۔
ان کی یہ حرکت بھی نا پسندیدہ ثابت ہوئی اور پھر جب یہ ساری وجوہات اور عوامل اکٹھے ہوئے تو آئی جی پی سندھ اللہ دینو خواجہ کو بیک بینی اور دو گوش ان کے منصب سے ہٹا دیاگیا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے وضاحت یہ سامنے آئی کہ وہ اپنی مرضی سے رخصت پر گئے ہیں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا تو خواجہ صاحب بھی اس ضمن میں ضرور کچھ فرماتے۔ چنانچہ ہم سمجھتے ہیں کہ آئی جی پی کی جبری رخصت کی وجوہات وہی ہیں جو سلیمان کارٹونسٹ نے کچھ روز پہلے زیر نظر صفحے پر اپنے شاہکار کارٹون کے جملے میں قارئین تک پہنچائی ہیں کہ بڑا آیا میرٹ پر بھرتیاں کرنے والا۔ میرٹ پر کام کرنے والوں کا یہی عبرت انگیز انجام ہوتا ہے ۔ کیا میں نے جھوٹ بولا۔

متعلقہ خبریں