دعوے اور حقائق

دعوے اور حقائق

رآج کے کالم میں ہم کچھ سیاسی نعرے اور دعوے آپ کے سامنے پیش کر رہے ہیں جو عموماًانتخابات سے قبل، پھر وزارت یا منصب ملنے کے بعد اور دور اقتدار ختم ہونے پر کئے جاتے ہیں۔

پہلا حصہ
اینکر: ناظرین کرام آج ہمارے پروگرام میںہمارے خاص مہمان ہیں آپ کے جانے پہچانے، دو بڑی سیاسی پارٹیوں کے رہنما اورہر دلعزیز شخصیات ۔ ۔ ۔
میں بھی ہوں! (آواز آتی ہے) اور کیمرہ اس طرف جاتا ہے۔
اینکر: جی جی ناراض صاحب! آپ کو کون نظر انداز کر سکتا ہے۔
ناراض صاحب: مگر سنتا بھی کون ہے (طنزاً) بے چارے عوام جو ٹھہرے۔
اینکر: اسی لئے تو آج آپ کو بلایا ہے کہ آپ بولیں۔ لیکن پہلے آتے ہیں اپنے ان سیاسی رہنمائوں کی طرف جو اس بار الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں ۔اور جاننے کی کو شش کرتے ہیں کہ ان کے نعرے کیا ہیں اورمنتخب ہو کر عوام کے لئے کیا کریں گے۔
امیدوار نمبر١: بہت شکریہ جی کہ آپ نے ہمیں اپنے پروگرام میں بلایا۔ طویل گفتگو اور وقت ضائع کرنا چونکہ ہمارا منشور نہیں ہے اسلئے وقت ضائع کئے بغیر دو ٹوک الفاظ میں ببانگ دہل کہوںگابلکہ اپنے نعرے کی طرف جانے سے پہلے آپ کی اجازت سے آپ کی توجہ اس طرف بھی مبذول کرانے کی کوشش کروں گا کہ ہماری پارٹی ۔۔۔
اینکر: (مداخلت کرتا ہے)امیدوار صاحب اگر آپ ناظرین کو اپنے نعرے کے بارے میں بتائیں تو۔۔۔
امیدوار نمبر١: (ناراض ہو کر)یار آپ بلاتے بھی ہیں اور پھر بات کرنے کا موقع بھی نہیں دیتے۔
ناراض صاحب:(طنزاً)ایک آپ ہی تو ہیں جو بولتے ہیں۔
امیدوار نمبر١: اگر یہ اپنی باری کا انتظار نہیں کرتے تو میں چلا جاتا ہوں۔
اینکر: نہیں جی، آپ جاری رکھیں۔
امیدوار نمبر١:ہمارا نعرہ سب سے جدا ، الگ اور غریب عوام کی امنگوں کے عین مطابق ہے۔ہم ان پسے ہوئے اور اپنے حقوق سے محروم عوام کی تقدیر بدل دیں گے۔
اینکر: یہ تو سب کہتے ہیں ، آپ کے پاس کوئی خاص منصوبہ بندی یا پلان ہے؟
امیدوار نمبر٢: (ہنستے ہوئے) ہوگا تو بتائیں گے!
اینکر: چلیں معزز امیدوار نمبر ٢ کی طرف آتے ہیں۔ جی آپ اگر کامیاب ہوئے تو کیا ارادے ہیں۔
امیدوار نمبر٢:(ناراض صاحب کی طرف دیکھ کر آہ بھرتے ہیں) ارادے نہیں جی،،، ان غریب عوام کے لئے ہمارے پاس پورے منصوبے ہیں جن پر ہم نے دنوں نہیں بلکہ مہینوں کام کیا ہوا ہے۔ اور حکومت ملنے کے دوسرے ہی دن ہم ان کو عملی شکل دیں گے اور پھر عوام ایسی نہیں ہوگی۔(ناراض صاحب کی طرف ہمدرددانہ اشارہ کرتے ہوئے)
ناراض صاحب: جی بالکل! پھر ہر غریب کا چاند پر اپنا پلاٹ ہوگا۔
امیدوار نمبر٢: (غصہ ہوکر) ہم ان کے لئے چاند کے ٹکرے بھی لائیں تو یہ کبھی خوش نہیں ہونگے۔
ناراض صاحب: اس کی کوئی ضرورت نہیں جناب، آپ بس آلو اور ٹماٹر کو زمین پر لائیں تو بڑی عنایت ہوگی۔
امیدوار نمبر٢: یہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔ ہم چاند کی بات کرتے ہیں اور یہ آلو ٹماٹر سے آگے نہیں جاتے۔
دوسرا حصہ۔۔۔
الیکشن ہونے کے کچھ عرصہ بعد جب امیدوار نمبر ١ وزیر، امیدوار نمبر ٢ اپوزیشن ممبر اور ناراض صاحب اب بھی ناراض ہیں۔
اینکر: پروگرام میں خوش آمدید۔ آج ہمارے پروگرام میں ہمارے ساتھ۔۔۔
ناراض صاحب : سب کو پتہ ہے کہ کون کون موجود ہیں۔ کام کی بات کریں۔
اینکر: چلیں جی کام کی بات منسٹر صاحب سے پوچھتے ہیں کہ وہ حسب وعدہ عوام کے لئے کیا کر رہے ہیں۔
منسٹر صاحب: حکومت ملنے کے بعد ہم نے ایک سے بڑھ کر ایک ترقیاتی کام شروع کئے ہیں۔
اپوزیشن ممبر: (بات کاٹ کر کہتا ہے) جھوٹ بول رہے ہیں۔آج تک ایک ٹکے کا بھی کام نہیں ہو ا ہے۔
اینکر: آپ پلیز اپنی باری کا انتظار کریں اور ان کو بولنے دیں۔
منسٹر: یہ مجھے اس لئے بولنے نہیں دیتے کہ یہ ہمارے بڑے بڑے منصوبوں سے جلتے ہیں، کیونکہ انہوں نے اپنے دور حکومت میں کرپشن کے علاوہ کچھ بھی نہیں کیا ہے۔
اینکر: لیکن منسٹر صاحب! ترقیاتی کام ہیں کہاں۔ گرائونڈ پہ تو کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔
منسٹر صاحب: کیا آپ کو یہ دکھائی نہیں دے رہا کہ ہم پچھلی حکومت کے گند کو صاف کر رہے ہیں۔ان کے کارنامے تو آپ سب کے سامنے ہیں۔
اپوزیشن ممبر: یہ سب بہانے ہیں۔
منسٹر صاحب: بہانے نہیں۔ حقیقت تو یہ ہے ہم ان کے ادھورے منصوبوں اور کرپشن کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔
اپوزیشن ممبر: چلیں ہم کرپٹ اور نا اہل سہی۔۔۔ لیکن آپ بھی توکچھ کریں!
منسٹر صاحب: ہمارے آج تک متعدد منصوبے مکمل ہوتے اگر آپ لوگ بات بات پہ بے مقصد احتجاج اور ہنگامے نہ کرتے۔
اپوزیشن ممبر: دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔۔۔
اینکر: ناراض صاحب! آپ بڑی دیر سے خاموش ہیں۔
ناراض صاحب: میں ان کی گفتگو میں اپنے آپ کو ڈھونڈ رہا تھا۔
اینکر: تو پھر خود کو کہا ں پایا؟
ناراض صاحب: یہی تو مسئلہ ہے کہ ہم ان کے دعوئوں میں تو ہوتے ہیں لیکن انکے مسئلوں میں نہیں۔

متعلقہ خبریں