طاقتور اور کمزوروں کا بیانیہ

طاقتور اور کمزوروں کا بیانیہ

طاقتور کا بیانیہ تو تقریباً ہر با شعور شخص کو معلوم ہے۔ سادہ لفظوں میں وہ یہ ہے کہ ''زور آوروں کا پانی ڈھلوان پر بھی چڑھتا ہے''۔انسانی تاریخ کے معلوم ادوار میں طاقتوروں نے ہمیشہ کمزوروں پر ظلم کیا ہے۔ یہ بات نمرود و فرعون سے لے کر اسکندر و چنگیز و ہلاکو اور آج تک کے طاقتوروں تک ایک ہی انداز میں چلی آرہی ہے۔ طاقتور نے ہر دور میں اپنے مفادات کی حفاظت اور اس کو تسلسل کے ساتھ قائم و دائم رکھنے کے لئے رعب و دبدبہ بالخصوص عسکری سرگرمیوں کا ایسا مظاہرہ بھی کرنا ضروری سمجھا ہے جس کو دیکھ کر کمزور و مظلوم عناصر سر اٹھانے کی جرأت سے بھی محروم رہ جائیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ہی دنیا کا نظام تبدیل ہوا۔ اس وقت کے دو بڑے طاقتور قیصر و کسریٰ کے محلات کے کینگرے گر گئے اور وہ وقت آیا کہ دونوں بڑوں کی بادشاہت کی جگہ اللہ کی زمین پر اللہ کے حکم کے تحت عدل و انصاف کا ایسا دور دورہ ہوا کہ کمزوروں کے سارے حقوق ریاست اور قانون کی طاقت سے محفوظ ہوگئے۔ انبیاء کرام نے بالعموم اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپۖ کے خلفائے راشدین کے ادوار مبارکہ میں یہ محاورہ کہ ''شیر اور بکری ایک ہی گھاٹ سے پانی پیتے تھے'' عملی صورت میں دنیا کے سامنے تھا۔ یہی وہ دور تھا جس میں خلیفہ وقت نے فرمایا کہ '' تم میں سے طاقتور ترین میرے نزدیک کمزور ترین ہے جب تک میں اس سے کمزور کا حق وصول کرکے نہ دلائوں اور کمزور ترین میرے نزدیک طاقتور ترین ہے جب تک اسے اس کا حق نہ دلادوں''۔ جب تک دنیا میں اسلام کا یہ نظام جاری رہا فساد و بگاڑ کا راستہ بند رہا کیونکہ تاریخ کے ہر دور میں فساد و بگاڑ کمزوروں کے حقوق کو بے دردی کے ساتھ غصب کرنے کی وجہ سے پیداہواہے۔ مادی حقوق وغیرہ کا اتلاف تو پھر بھی کسی نہ کسی طرح قابل برداشت (بادل نخواستہ سہی) ہو ہی جاتا ہے لیکن جب طاقتور صرف مادی منافع تک نہیں رکتے بلکہ کمزوروں کی جان اور عزت و ناموس پر بھی ہاتھ اٹھانے لگتے ہیں تو یہیں سے ایک مقام پر جا کر کشمکش کی ابتداء ہو جاتی ہے۔ دنیا میں مسلمان امراء و حکمرانوں نے جب عدل و انصاف کا دامن ترک کیا تو ان کی حکومتوں کو ایسا زوال آیا کہ عثمانیوں کی عظیم سلطنت و ''خلافت'' کے آخری خلیفہ سلطان عبدالحمید کو اس کی معزولی کے احکامات ایک یہودی نے پیش کئے۔ عباسیوں کی ''خلافت'' کی ابتداء بنی امیہ کے متعدد چیدہ و سرکردہ افراد کی نیم بسم لاشوں پر قالین بچھا کر لذت کام ودہن سے ہوئی اور عباسیوں کے آخری خلیفہ معتصم باللہ کو تاتاریوں نے قالین میں لپیٹ کر اس کے اوپر گھوڑے دوڑا کر (تاکہ اس کا خون زمین پر نہ گرے کیونکہ ان کے نزدیک مفتوح بادشاہ کا خون زمین پر گرنا بد شگونی شمار ہوتی تھی) ہی اپنے انجام تک پہنچایا۔ مغلوں نے سوائے اورنگزیب عالمگیر کے اپنے عوام اور دیگر کمزور اقوام کے ساتھ جو کچھ کیا اس کا نتیجہ یہ نکلا تھا کہ ان کے آخری تاجدار رنگون میں برطانوی افواج کے کیپٹن نیلسن کے گیراج ہی میں بہت ہی کسمپرسی کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔

اب کچھ ذکر کمزوروں کا ہو جائے۔ کمزوروں میں اکثریت تو ان لوگوں یا اقوام کی ہے جو جیسے تیسے سب کچھ برداشت کرتے چلے جا رہے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنی مادی' عددی اور دیگر کئی کمزوریوں کے باوجودمزاحمت کی راہ اپنائے ہوئے ہیں۔ اس میں دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ ہیں جو عالمی تناظر میں طاقتوروں کے فلسفہ طاقت اور نظریہ بقائے اصلح (Survival of the fittest) کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں اور دوسرے وہ ہیں جو مزاحمت تو ظاہراً طاقتوروںکے خلاف کر رہے ہیں لیکن بعض اوقات اور بعض مقامات میں ان کی مزاحمت اور نظریات کے معاملات ایسے الجھے ہوئے نظر آتے ہیں کہ کمزوروں کے معاملات اور بھی بگڑ جاتے ہیں۔ مزاحمتی تحریک میں ایسے بھی ہیں جو دنیا میں مروج آئینی و دستوری جدوجہد سے مایوس ہو کر دوسری (مسلح) راہوں پر نکل پڑے ہیں۔
لیکن اس وقت جو مجموعی صورتحال ہے اور طاقتور اور کمزور کے درمیان کشمکش کی جو تاریخ ہے اس کے مد نظر یہ بات بلا شک و شبہ سامنے آئی ہے کہ اب دونوں فریقوں کو اپنا اپنا بیانیہ تبدیل کرنا ہوگا ورنہ حالات شاید قیامت کے برپا ہونے کے قریب ہی ہوتے چلے جائیں گے۔ اور یہ بات طے ہے کہ قیامت انسان کے اپنے اعمال ہی کے نتیجے میں برپا ہوگی۔
دنیا بھر میں طاقتور اور سپر کہلانے والی اقوام کے خلاف ہر جگہ عوام( کمزوروں) کے اذہان و قلوب میں بہت سخت مخالفانہ جذبات پرورش پا چکے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہر بڑے اور قابل ذکر ملک میں کہیں دہشت گردی ہے اور کہیں دہشت گردی کے خلاف ''جنگ'' ہے۔ اس لحاظ سے سب سے زیادہ ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے کیونکہ وہ اس وقت کا سپر پاور کہلاتا ہے۔ دنیا میں اس وقت ستر(70) ملکوں میں تقریباً 800 کے قریب فوجی اڈے ہیں جن میں ڈیڑھ لاکھ امریکی افواج تعینات ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ جاپان' جرمنی اور جنوبی کوریا جیسے ترقی یافتہ ملکوں میں ہیں۔ اس کے علاوہ مشرق وسطیٰ اور شام و یمن میں جو صورتحال برپاہے وہ انسانیت کو ایک دفعہ پھر چنگیز و ہلاکو کے ادوار یاد دلانے کے لئے کافی ہیں۔ کیا ان حالات میں بھی طاقتور اور کمزور کو انسانیت کی خاطر اپنا اپنا بیانیہ تبدیل کرنے کی ضرورت نہیں ہے؟۔

متعلقہ خبریں