مشرقیات

مشرقیات

قاضی شریح اللہ ، رسول اور قرآن مجید کے احکامات کی فقط تبلیغ کرنے والے ہی نہ تھے، بلکہ خاص وعام مسلمانوں کو رشد وہدایت کا راستہ اختیار کرنے کی نصیحت کرنے والے بھی تھے۔ ایک شخص بیان کرتا ہے ۔ قاضی شریح نے مجھے دیکھا کہ میں حزن وملال اور غم واندوہ کا شکوہ اپنے ایک دوست سے کر رہا ہوں۔ آپ میرا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور فرمایا۔اے میرے بھائی کے بیٹے ! اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کے پاس شکوہ شکایت کرنے سے بچو جس کے پا س بھی تم شکوہ کرو گے وہ تمہارا دوست ہو گا یا دشمن دوست یہ شکوہ سن کر غمگین ہوگا اور دشمن خوش ہوگا۔ پھر آپ نے اپنی ایک آنکھ کی طر ف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا : میری اس آنکھ کی طرف دیکھو ۔
خدا کی قسم میں نے گزشتہ پندرہ برس سے اس آنکھ سے نہ کوئی شخص دیکھا اور نہ راستہ ،لیکن میںنے کسی کو بتایا تک نہیں۔ صرف آج تجھے محض سمجھانے کیلئے بتا رہا ہوں۔ کیا تو نے اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندے حضرت یعقوب علیہ السلام کا یہ جملہ نہیں سنا جسے قرآن مجید میں درج کردیا گیا ہے۔ ترجمہ : میں اپنا شکوہ غم اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کرتا ہوں۔ ہر مصیبت کے وقت اپنے حزن وملال اور غم واندوہ کا شکوہ اللہ تعالیٰ ہی کے دربار میں پیش کیا کرو۔ وہی سوالیوں کی عزت رکھنے والا ہے اور بے کسوں کی التجائیں سننے والا ہے اور دعائیں مانگنے والوں کے قریب تر ہے۔یہ حقیقت ہے کہ انسان کی تکالیف اور مشکلات اللہ تعالیٰ کی ذات کے سواکوئی اوردور نہیں کرسکتا۔ اس لئے حق بھی یہ ہے کہ صرف اسی ذات کے سامنے اپنی تکالیف دور کرنے کے لئے دست سوال پھیلایا جائے۔
امام ابو یوسف کی عظمت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ ہارون رشید جیسا با جبروت خلیفہ ان کا اس قدر اکرام کرتا تھا کہ باب خلافت تک پہنچ جانے کے باوجود وہ سواری سے نہیں اترتے تھے، حریم خلافت کا پردہ اٹھادیا جاتا اورآپ کی سواری اندر چلی جاتی تھی، جب ہارون رشید کا سامنا ہوتا تو وہ خود سلام میں سبقت کرتے تھے۔ ان کیلئے ہر وقت دربار میں بار یابی کی اجازت تھی اور کسی وقت بھی کوئی روک ٹوک نہیں تھی۔
حسن بن ابی مالک کی روایت ہے کہ ہم لوگ محدث ابو معاویہ کے پاس جایا کرتے تھے۔ تاکہ ان سے حجاج بن ارطاة کی احادیث میں احکام فقہ حاصل کریں۔ تو وہ ہم سے فرمایا کرتے ، کیا تمہارے پاس قاضی ابو یوسف نہیں ہیں؟ ہم عرض کرتے کہ ہیں،تو وہ بڑی حیرت اورتعجب سے فرماتے کہ تم لوگ بھی عجیب ہو کہ امام ابو یوسف کو چھوڑ کر میرے پاس آتے ہو۔ فرمایا کہ ہم لوگ حجاج بن ارطاة کے پاس اکٹھے جایا کرتے تھے۔ تو جس وقت حضرت حجاج حدیث کی املا کراتے تھے تو امام ابو یوسف سب حدیثیں یاد کر لیا کرتے تھے۔ پھر جب ان کی مجلس سے نکل آتے تو ہم امام ابو یوسف کے حافظے سے ہی وہ سب احادیث لکھ لیا کرتے تھے۔(مقدمہ انوار الباری صفحہ 171)

متعلقہ خبریں