فوجی عدالتوں کے متبادل قانون سازی نا ممکن کیوں؟

فوجی عدالتوں کے متبادل قانون سازی نا ممکن کیوں؟


ملک میں دہشت گردی کا عفریت ایک مرتبہ پھر سر چڑھ بول رہا ہے لیکن سیاسی جماعتیں فوجی عدالتوں میں توسیع کے مسودے پر اختلافات کا شکار ہیں۔ ذیلی کمیٹی عدم اتفاق کے بعد پارلیمانی کمیٹی کو معاملہ بھیجتی ہے جہاں اتفاق رائے نہ ہونے پر ایک مرتبہ پھر ''فٹبال'' کو کک لگا کر ذیلی کمیٹی کو واپس کردیا جاتا ہے۔ قبل ازیں انہی جماعتوں کے اتفاق رائے سے فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں آیا تھا مگر جب مقررہ مدت کی تکمیل کے بعد توسیع کی ضرورت پیش آئی تو اختلافات کااظہار کیا جا رہاہے۔ کچھ اس طرح کی صورتحال سندھ میں رینجرز کے اختیارات کی تقسیم کے معاملے پر بھی سامنے آئی تھی۔ سندھ حکومت نے کچھ گرما گرمی دکھائی وفاق سے تند و تیز کلمات کا تبالہ ہوا مگر بالآخر سندھ میں رینجرز کے اختیارات کی توسیع کا معاملہ حل کرلیاگیا۔ اس کے بعد سے وہی حکومت وہی ارکان اسمبلی اور وہی عناصر ہیں مگر ہر بار توسیع کا معاملہ خوش اسلوبی سے طے پاجاتا ہے۔ وفاق میں فوجی عدالتوں کے قیام کا معاملہ بھی شاید وہی مثال دہرائے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کا فیصلہ سیاسی عمائدین اور حکمرانوں کی منشاء اور مشاورت سے کیاگیا تھا اور ایوان نے اس کی منظوری دی تھی جس موجودہ چیئرمین سینٹ اور اس وقت کے قائد حزب اختلاف سینیٹر رضا ربانی کی جماعتی پالیسی کے تحت تائید اور ذاتی حیثیت میں سخت دکھ کااظہار سامنے آیا تھا۔ فوجی عدالتوں کے قیام کے بعد تیزی کے ساتھ دہشت گردوں کو سزائیں دی گئیں اور سزائے موت پر عملدرآمد کیا گیا مگر بعد ازاں صدر مملکت کی طرف سے رحم کی اپیلیں مسترد ہونے کے باوجود سزا یافتہ عناصر کی سزائوں پر عملدرآمد عدالت کی طرف سے روکنے کا تسلسل چل پڑا ۔ بہر حا ل یہ ایک الگ موضوع ہے فی الوقت صورتحال یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کے درمیان فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کا معاملہ التواء کا شکار ہے۔ اس امر کا تعین مشکل ہے کہ سیاسی جماعتوں کو اس ضمن میں تحفظات کیا ہیں ان کی صراحت سے وضاحت اور موقف کا اظہار کیوں نہیں کیا جا رہا ہے ۔ بجائے ایک واضح موقف اختیار کرنے اور اپنے تحفظات کو شرح صدر کے ساتھ بیان کرنے سے احتراز سے صورتحال کو سمجھنا مشکل ہو رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ مدت تین سال کی بجائے دو سال کرنے کا معاملہ کوئی اختلافی بات نہیں جس پر اتفاق نہ ہوا جاسکے البتہ مسودے میں پی پی پی اور تحریک انصاف جو بنیادی ترمیم کرکے اسے مذہب سے جوڑنے پر اصرار کر رہی ہیں یہ تضادات کا باعث ہے۔ اگران کا یہی موقف برقرار رہا تو کل جماعتی کانفرنس میں بھی اس کا کوئی حل نکالنا مشکل ہوگا۔ دہشت گردی کی تقسیم اور اس میں مذہب کے نام کی آمیزش کی بجائے اگر ہر قسم کی دہشت گردی کا لفظ استعمال کیا جائے تو اس وسیع المعانی لفظ میں سب کچھ شامل ہو گا خواہ وہ مذہبی صورت میں ہو ' فرقہ وارانہ صورت میں ہو یا کسی دیگر نوعیت کی دہشت گردی ہو۔ ہمارے تئیں دہشت گردی دہشت گردی ہوتی ہے خواہ جس صورت میں بھی ہو۔ دوسری جانب یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ہمارے ملک میں انتہا پسندی اور فرقہ واریت عروج پر ہے جس کے تناظر میں قانون سازی میں بطور خاص مذہبی انتہا پسندی اور فرقہ واریت کے الفاظ کو شامل کرنے کی دلالت بلا وجہ نہیں ۔ جب ہم قانون سازی میں فرقہ واریت ار مذہبی انتہاپسندی کے لفظ کو شامل کرنے پر ہی تیار نہیں تو اس کے خلاف کارروائی کی نوبت کیسے آئے گی؟ اس پر ہمارے مذہبی طبقے اور سیاسی جماعتوں کو ضرور غور کرنا چاہئے۔ آخر اس ضمن میں کوئی واضح لائحہ عمل اختیار کرنے میں کیا امر مانع ہے اور ایسی کیا قباحتیں ہیں کہ سیدھے سادھے معاملات کو ایمان اور کفر کا مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔ آخر ہم دہشت گردی کی تعریف اپنے اپنے نقطہ نظر سے اور اپنی عینک لگا کر کیوں کرتے ہیں۔ اس کی ایک جامع اور واضح تعریف کیوں نہیں کرتے جس میں ہر قسم کی د ہشت گردی کو دہشت گردی کہا جائے اور اس میں ملوث عناصر کو سزا دینے میں کسی آمیزش کے بغیر آمادہ ہوا جائے۔ یہ بات ضرور قابل اطمینا ن تھی کہ سیاسی اور فوجی قیادت نے پاکستان کو تباہی سے بچانے کے لئے نیشنل ایکشن پلان تیار کیا جس کے نتیجے میں فوجی عدالتیں قائم ہوئیں مگر ایسا لگ رہا ہے کہ ان عدالتوں کے قیام کے بعد سیاستدانوں کو ان کے اختتام کا انتظار تھا ۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ایک جانب فوجی عدالتوں کو حقیقت اور ضرورت تسلیم کرنے کا وتیرہ ہے ان کی کھلم کھلا مخالفت نہیں کی جا رہی ہے مگر دوسری جانب معاملات کو الجھانے کا جان بوجھ کر وتیرہ اختیار کیا جا رہا ہے اور قومی سطح پر کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ نیشنل ایکشن پلان میں اس امر کا اعتراف شامل تھا کہ ہمارا موجودہ قانونی ڈھانچہ اتنا بوسیدہ ہو چکا ہے کہ اس کی موجودگی میں انسانوں کو قتل کرنے والوں کو سزا دینا بھی نا ممکن ہوگیا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ قومی ایکشن پلان کے تحت فوجی عدالتوں کے قیام کے دورانیے میں ضروری قانون سازی کی جاتی قانون' شہادت اور دہشت گردوں کے خلاف تحقیقات اور شواہد پیش کرنے والے عمال ' وکلاء اور ججوں کے تحفظ کے حوالے سے غیر معمولی قوانین اور طریقہ کار کی منظوری دی جاتی اور جب فوجی عدالتوں کے قیام کی مدت گزر جاتی تو اس میں توسیع کی ضرورت ہی نہ رہتی کیونکہ ایک متوازی قانون اور طریقہ کار پہلے ہی خصوصی ضروریات سے ہم آہنگ عدالتی نظام موجود ہوتا جہاں دہشت گردوں کے خلاف مقدمات چلا کر ان کو عبرتناک سزا دینا ممکن ہو چکا ہوتا مگر یہاں نہ تو فوجی عدالتوں پر تحفظات رکھنے والوں اور نہ ہی حکومت نے ایسی قانون سازی کی ضرورت محسوس کی بلکہ وقت گزرتا رہااور آج جب فوجی عدالتوں میں توسیع کی ضرورت پیش آئی تو اختلافات اور تحفظات کااظہار کیا جا رہا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم اس طرح سے دہشت گردی کا خاتمہ کرنے کے خود کو قابل سمجھیں کہ ہم ان کے خلاف سخت قوانین بنانے کو تیار نہیں اور نہ ہی فوجی عدالتوں میں توسیع ہمیں منظور ہے۔ ہمارے تئیں ہر دو قسم کے انتہا پسندانہ اختلاف رائے سے گریز کرتے ہوئے قومی ضرورت کے احساس اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے آمادگی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی ضرورت کے تحت انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین جتنی مدت میں بن سکتے ہیں اور ایک متبادل اور موثر نظام جتنی مدت میں قائم کرنا ممکن ہوا اتنی مدت کے لئے فوجی عدالتوں میں توسیع ہونی چاہئے۔ جس مسودے پر قبل ازیں یہ عدالتیں کام کرتی رہی ہیں اگر نئے مسودے پر اتفاق رائے نہیں ہو پاتا تو اسی سے کام چلایا جائے ساتھ ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت اور رضا مندی کے ساتھ ایک متفقہ مسودہ اور دستاویز تیار کرکے اس کے مطابق انسداد دہشت گردی کے سخت قوانین تیار کئے جائیں اور فوجی عدالتوں کا متبادل نظام بنا کر ان عدالتوں کی ضرورت ہی باقی نہ رہنے دی جائے۔

متعلقہ خبریں