پی آئی اے کا خدا حافظ

پی آئی اے کا خدا حافظ


ابھی چترال سے اسلام آباد جانے والے پی آئی اے کے تباہ شدہ طیارے کی تباہی کی تحقیقاتی رپورٹ بارے خدشات ذہنوں میں تازہ ہیں کہ پی آئی اے کی مدینہ منورہ جانے والی پرواز میں سات اضافی مسافروں کو لے جانے کا واقعہ پیش آیا۔ قومی فضائی کمپنی کے با کمال لوگوں کے کمالات اکثر و بیشتر سامنے آتے رہے ہیں مگر ایک بین الاقوامی پرواز پر مسافروں کی مقررہ تعداد سے زائد مسافروں کو لے جانے کا شاید یہ پہلا واقعہ ہے جس سے پی آئی اے کے عملے اور خاص طور پر نشاندہی کے باوجود پرواز لے جانے والے پائلٹ کی ہٹ دھرمی کا اندازہ ہوتا ہے۔ ان مسافروں کو پرواز کے لئے بورڈنگ کارڈز کیسے جاری ہوئے اور نشاندہی کے باوجود پائلٹ ان کو آف لوڈ کرنے کی بجائے پرواز کیسے اڑا لے گیا۔ ان سوالات کی تحقیقات کا تکلف تو گوارا ہوگا لیکن حسب دستور کسی کا کچھ نہیں بگڑے گا۔ ان مسافروں نے اگر باقاعدہ رقم کی ادائیگی کرکے ٹکٹ لیا تھا تو وہ چار گھنٹے کھڑے سفر کرنے پر تیار کیوں ہوئے۔ انہوں نے احتجاج کیوں نہیں کیا یہ بھی اپنی جگہ معمہ ہے۔ پی آئی اے کے نئے چیئر مین اور سابق گورنر و وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سردار مہتاب احمد خان عباسی کا سخت گیر منتظم کے طور پر شہرہ ہے ان کے دور میں پی آئی اے کے طیارے کو بس بنا دینے کی جو عملی مثال سامنے آئی ہے اس سے اس امر کا اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پی آئی اے میں کسی کی سخت گیری سے مرعوب ہونے والے کم ہی ہیں۔ اس طرح کے واقعات سے پی آئی اے کی تباہی و انحطاط کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پی آئی اے کے طیارے کے حادثات 'بد انتظامی سروس کے خراب معیار اور خاص طور پر سیکورٹی کی ضروریات کے قابل اعتماد حل تک خیال نہ رکھنے کے باعث مسافروں نے جس طرح سے اس سے منہ موڑ لیا ہے یورپ کے بعض روٹس پر اس کے جہازوں کی شکستہ حالی کے باعث پروازوں کی اجازت نہیں بعض روٹس پر چلانے کے لئے پی آئی اے کے پاس طیارے نہیں اور جن روٹس پر پرواز چلتی ہے اسی کا اگر یہ حال ہو تو پی آئی اے کا خداحافظ۔

متعلقہ خبریں